کیا امیر معاویہؓ خلیفہ راشد نہ تھے؟ حدیث حذیفہؓ کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی کتاب "انجینئیر محمد علی مرزا: افکار و نظریات” سے ماخوذ ہے۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد نہ تھے؟ حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں

محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں پہلے باب کے ذیل میں، ص 1 پر، مسند احمد کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں یہ ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تم میں نبوت کا زمانہ جب تک اللہ چاہے گا، رہے گا۔ اس کے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوۃ یعنی نبوت کے طرز پر خلافت کا زمانہ آئے گا اور وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا، باقی رہے گا۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی ملوکیت کا زمانہ آئے گا اور وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا، باقی رہے گا۔ اس کے بعد ظالمانہ ملوکیت کا زمانہ آئے گا اور وہ بھی جب تک اللہ چاہے گا، باقی رہے گا۔ اس کے بعد پھر ایک مرتبہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ یعنی نبوت کے طرز پر خلافت کا زمانہ آئے گا۔
اس روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت سے قیامت تک کے زمانے کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا ہے؛ پہلا دور نبوی زمانہ ہے۔ دوسرا دور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ یعنی خلافت راشدہ کا دور ہے۔ تیسرا دور کاٹ کھانے والی ملوکیت کا دور ہے۔ چوتھا دور ظالمانہ ملوکیت کا دور ہے۔ اور پانچواں دور پھر سے خلافت علیٰ منہاج النبوۃ یعنی خلافت راشدہ کا دور ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ میں کہیں بھی یہ موجود نہیں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد نہیں ہو سکتے۔ اس حدیث میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ یعنی خلافت راشدہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب تک اللہ چاہے گا، وہ باقی رہے گی۔ اب اللہ کب تک چاہے گا، یہ ہمارے علم میں نہیں ہے۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ کے عموم کی تخصیص حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ سے ہو جاتی ہے کہ حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ میں موجود ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی تو یہ دلیل قابل قبول نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ تو خود ثابت نہیں ہے تو ایک غیر ثابت روایت سے آپ دوسری روایت کی تخصیص کیسے کر سکتے ہیں! تو حدیث حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے عموم پر باقی ہے کہ جب تک اللہ چاہے گا، خلافت علیٰ منہاج النبوۃ رہے گی۔
حدیث سفینہ کو پہلی مرتبہ سعید بن جمہان نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے 73-75 ہجری میں بیان کیا ہے اور یہ خود سعید بن جمہان کا بیان ہے جو مسند احمد میں نقل ہوا ہے۔ اور یہ حجاز پر حجاج بن یوسف کی گورنری کا وہ زمانہ ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سانحہ ہو چکا اور لوگ اس سے پہلے یزید بن معاویہ کی حکمرانی میں شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ اور اب حجاج بن یوسف جیسے گورنر کی موجودگی میں شہادتِ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے نہ صرف غضب میں ہیں بلکہ ایک بڑی تعداد بنو امیہ کے خلاف پھٹنے کو تیار بیٹھی ہے، خاص طور پر شہادتِ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے سانحے کے بعد تو حالات بہت ہی خراب تھے۔ تو قوی احتمال یہی ہے کہ فتنے کے ان حالات میں ایک شخص نے خود کو سفینہ باور کروا کے سعید بن جمہان کو بنو امیہ کے بارے میں حدیثیں سنائیں اور انہوں نے اسے سفینہ ہی سمجھ کر وہ روایتیں آگے نقل کر دیں، جبکہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ اس سے دو سال پہلے وفات پا چکے تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ خود حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ ایک مرتبہ پھر خلافتِ راشدہ کا زمانہ آئے گا جو کہ پانچواں دور ہو گا۔ تو اس حدیث نے اس کا انکار کر دیا کہ خلافتِ راشدہ چار تک محدود ہے جیسا کہ حدیثِ سفینہ رضی اللہ عنہ میں ہے۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ کیا حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اور امام مہدی رحمہ اللہ کی خلافت، خلافتِ راشدہ نہیں ہو گی؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ نہیں، تو آپ کا یہ موقف حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے کہ جس کے مطابق خلافتِ راشدہ قیامت سے پہلے ایک مرتبہ پھر قائم ہو گی۔ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ ہاں، تو آپ کو حدیثِ سفینہ رضی اللہ عنہ کو ضعیف یا کم از کم مرجوح ماننا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر آپ ہاں کہہ نہیں سکتے۔
تیسری بات یہ ہے کہ کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد نہیں تھے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ہاں تھے، تو خلافتِ راشدہ تو چار تک محدود نہ رہی لہٰذا حدیثِ سفینہ رضی اللہ عنہ کا متن ثابت نہ ہو سکا۔ اسی طرح کیا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ خلیفہ راشد نہیں تھے؟ اگر تھے تو خلافتِ راشدہ تیس سال تک کیسے محدود ہو گئی!
اس کا حل بعضوں نے یہ نکالا کہ خلفائے راشدین پانچ ہیں۔ یہ تعبیر بھی حدیثِ سفینہ رضی اللہ عنہ کی سنن ابی داؤد کی روایت کے خلاف ہے کہ جسے ہمارے ناقدین صحیح سمجھتے ہیں کہ حدیثِ سفینہ رضی اللہ عنہ میں نام لے کر خلافتِ راشدہ کو چار ناموں میں محدود کیا گیا ہے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا گیا۔تو اس سے بڑی فاش غلطی معلوم نہیں ہوتی کہ خلافتِ راشدہ کو صرف چار تک ہی محدود کر دیا جائے یعنی اب قیامت تک کبھی ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی مسلمان حکمران نبوت کی طرز پر حکمرانی کرے؛ تو یہ اسلام کے خلاف اتنا بڑا طعن ہے کہ اس کے مقابلے میں دشمنانِ اسلام کے تمام طعن ہیچ ہیں کہ مسلمان اتنی علمی قوم ہیں کہ انہیں قیامت تک چار کے علاوہ صالح حکمران ہی نہ ملے اور نہ ہی مل سکتے ہیں اور ایسی فضول باتوں کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی کر دی جائے اور اوپر سے اسے دین بھی کہہ دیا جائے۔ یہ باتیں مبادیاتِ دین کے خلاف معلوم ہوتی ہیں اور سلیم الفطرت انسانی طبیعت ان سے اباء کرتی ہے۔
چوتھی بات یہ کہ آپ نے حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تحدید ہی کرنی ہے تو حدیثِ سفینہ رضی اللہ عنہ جیسی ضعیف روایت یا مختلف فیہ روایت سے کیوں کرتے ہیں؟ آپ صحیح مسلم کی بارہ خلفاء والی روایت سے حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی تحدید کیوں نہیں کر لیتے؟ اس میں کیا مانع ہے؟ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ میں جو یہ آیا ہے کہ جب تک اللہ چاہے گا تو اس وقت تک خلافت علیٰ منہاج النبوۃ رہے گی، اس سے مراد بارہ خلفاء تک رہے گی؟ آپ ایک متفق علیہ (Agreed upon) صحیح روایت سے حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی شرح کیوں نہیں کرتے؟
پانچویں بات یہ کہ جہاں تک حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی سند کا تعلق ہے تو اس روایت کا مرکزی راوی داؤد بن ابراہیم الواسطی ہے۔ داؤد بن ابراہیم نام کے تو کئی ایک راوی ہیں جیسا کہ داؤد بن ابراہیم، داؤد بن ابراہیم الواسطی اور داؤد بن ابراہیم قاضی قزوین۔ تو ہمیں یہاں فوکس کرنا ہو گا کہ یہ تینوں تین راوی ہیں یا دو یا ایک اور دوسرا یہ کہ حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ میں ان میں سے کون سا راوی مراد ہے :
پہلی بات تو یہ ہے کہ حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے راوی کا پورا نام داؤد بن ابراہیم الواسطی ہے اور اس کے شاگردوں میں ابو داؤد الطیالسی رحمہ اللہ ہیں جنہوں نے مسند الطیالسی لکھی ہے۔ انہوں نے ہی اس راوی سے حدیثِ حذیفہ رضی اللہ عنہ نقل کی ہے اور انہوں نے ہی اس راوی کو ثقہ بھی کہا ہے۔ لیکن ابو داؤد الطیالسی رحمہ اللہ ائمہ جرح و تعدیل میں سے نہیں ہیں لہٰذا اس توثیق کا اعتبار نہیں ہے۔ حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْوَاسِطِيُّ، وَكَانَ ثِقَةً، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ سَالِمٍ. (الطيالسي أبو داود سليمان بن داود، مسند أبي داود الطيالسي دار هجر، مصر، الطبعة الأولى، 1419هـ، 349/1) دوسرا انہوں نے اس راوی سے روایت کی ہے نہ کہ وہ راوی ان کے اساتذہ میں سے ہے۔ ہم نے مسند الطیالسی میں سرچ کیا ہے تو ہمیں ابو داؤد الطیالسی رحمہ اللہ کی داؤد بن ابراہیم الواسطی سے یہی ایک روایت ملی ہے۔اس وجہ سے بھی ابو داؤد الطیالسی رحمہ اللہ کی توثیق کا اعتبار نہیں بنتا کہ جس سے آپ نے ایک آدھی روایت نقل کی ہو، اس کو آپ کتنا کچھ جانتے ہوں گے!
دوسری بات یہ ہے کہ ایک داؤد بن ابراہیم ”قزوین“ کا قاضی بھی رہا ہے۔ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ جرح و تعدیل نے اسے متروک الحدیث اور جھوٹ بولنے والا کہا ہے۔
داود بن إبراهيم قاضي قزوين روى عن شعبة ووهيب روى عنه محمد بن أيوب سمعت أبي يقول: داود بن إبراهيم هذا متروك الحديث كان يكذب. (الرازي، ابن أبي حاتم الجرح والتعديل، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة الأولى، 1271هـ، 407/3)
تیسری بات یہ ہے کہ امام رافعی نے اپنی کتاب ”التدوين في أخبار قزوين“ میں داؤد بن ابراہیم الواسطی اور داؤد بن ابراہیم قاضی قزوین کو ایک ہی شخصیت شمار کیا ہے۔ داؤد بن ابراہیم الواسطی قاضی قزوین خلیفہ ہارون الرشید [170-193ھ]، امین الرشید [193-198ھ] اور مامون الرشید [198-218ھ] کے زمانے میں قزوین کا قاضی رہا ہے۔ داؤد بن إبراهيم العقيلي أبو سليمان الواسطي كان قاضيا بقزوين من قبل الرشيد ثم من قبل الأمين والمأمون (عبد الكريم بن محمد بن عبد الكريم الرافعي القزويني، التدوين في أخبار قزوين دار الكتب العلمية، بيروت، 1408ه، 1/3) تو مذکورہ بالا تین داؤد بن ابراہیم میں سے آخری دو ایک ہی ہوئے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ سلیمان بن داؤد الطیالسی [133-204ھ] اس یعنی داؤد بن ابراہیم الواسطی قاضی قزوین کے معاصر بھی ہیں۔ ابو داؤد الطیالسی کی وفات 204ھ میں ہوئی جبکہ داؤد بن ابراہیم الواسطی قاضی قزوین کی وفات 214ھ میں ہوئی۔
(أيضاً )
پانچویں بات یہ ہے کہ غالب گمان اور احتمال یہی ہے کہ ابو داود الطیالسی نے داؤد بن ابراہیم الواسطی قاضی قزوین سے ہی یہ روایت لی اور اسی کو انہوں نے ”ثقہ“ کہا ہے۔
چھٹی بات یہ ہے کہ داؤد بن ابراہیم الواسطی قاضی قزوین کے علاوہ کسی بھی داؤد بن ابراہیم کے احوالِ زندگی ہمیں کتب اسماء و رجال اور کتب تاریخ میں نہیں ملتے ہیں بلکہ ان ائمہ کے ہاں بھی اس کے احوال منقول نہیں ہیں جنہوں نے اسے دو علیحدہ علیحدہ شخصیات بنا دیا ہے۔ البتہ اس راوی کے احوالِ زندگی اس شہر کی تاریخ پر لکھی جانے والی ایک مستقل کتاب میں موجود ہیں کہ جس کا تذکرہ اوپر گزر چکا اور وہ کتاب ان دونوں کو ایک ہی شمار کر رہی ہے۔
ساتویں بات یہ ہے کہ بعض ائمہ جرح و تعدیل نے ان دونوں میں فرق کیا ہے لیکن انہوں نے فرق کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی ہے سوائے اس کے کہ داؤد بن ابراہیم الواسطی، حبیب بن سالم سے روایت کرتا ہے اور داؤد بن ابراہیم قاضی قزوین، شعبہ سے روایت کرتا ہے۔ اور یہ ایسی تفصیل نہیں ہے جو ان دونوں کے ایک ہی شخصیت ہونے میں مانع ہو جیسا کہ امام رافعی رحمہ اللہ نے اپنی مستقل کتاب میں ان دونوں کو ایک ہی شخصیت شمار کیا ہے۔
آٹھویں بات یہ ہے کہ داؤد بن ابراہیم کی شخصیات کتنی ہیں اور کون کون سی ہیں، اس بارے میں تفصیلی بیان خطیب بغدادی رحمہ اللہ کا ہے بلکہ ان کی کتاب کا موضوع ہی یہی ہے یعنی راویوں کے ناموں میں اتفاق اور اختلاف کی بنیاد پر ان کی شخصیات کا تعین کرنا۔ خطیب بغدادی رحمہ اللہ کے نزدیک داؤد بن ابراہیم نام کے کل راوی پانچ ہیں جن میں سے ایک داؤد بن ابراہیم الواسطی ہے اور یہ شعبہ سے روایت کرتا ہے۔ ان پانچ میں پہلا داؤد بن ابراہیم صنعانی ہے جو کہ طاؤس سے روایت کرتا ہے۔ دوسرا داؤد بن ابراہیم الباہلی ہے جو کہ مجہول راوی ہے۔ تیسرا داؤد بن ابراہیم الواسطی ہے جو شعبہ سے روایت کرتا ہے۔ چوتھا داؤد بن ابراہیم العنبری ہے جو عبدہ بن سلیمان سے روایت کرتا ہے۔ پانچواں داؤد بن ابراہیم الانطاکی ہے جو حسن بن شعیب سے روایت کرتا ہے۔
داود بن إبراهيم خمسة ① منهم داود بن إبراهيم الصنعاني رأى وهب بن منبه وسمع طاوس بن كيسان روى عنه عبد الله بن المبارك ومعتمر بن سليمان وعبد الرزاق ابن همام … ② داود بن إبراهيم الباهلي رجل مجهول روى عنه محمد بن عيسى بن الطباع عن الزهري وإسماعيل ابن عياش … ③ داود بن إبراهيم الواسطي حدث عن شعبة روى عنه محمد بن صالح الأشج الهمذاني … ④ داود بن إبراهيم العنبري حدث عن عبدة بن سلميان الكلابي روى عنه محمد بن أحمد بن زهير النيسابوري … ⑤ داود بن إبراهيم الأنطاكي حـدث عـن الحسن بن شبيب البغدادي المؤدب روى عنه علي بن سراج المصري. (الخطيب البغدادي أحمد بن علي بن ثابت المتفق ،والمفترق الطبعة الأولى، 1417هـ، 880/2)
نویں بات یہ ہے کہ وہ داؤد بن ابراہیم جو طاؤس سے روایت کرتا ہے تو اسے یحییٰ بن معین نے ثقہ کہا ہے۔ اور امام بخاری اور امام ابو حاتم الرازی رحمہما اللہ دونوں نے ان دونوں راویوں میں فرق کیا ہے یعنی اس داؤد بن ابراہیم میں جو طاؤس سے روایت کرتا ہے اور اس داؤد بن ابراہیم الواسطی میں جو حبیب بن سالم سے روایت کرتا ہے اور اسے صرف ابو داؤد الطیالسی نے ثقہ کہا ہے۔ تو ان دونوں میں فرق ہے یعنی پہلے اور دوسرے میں۔
دسویں بات یہ ہے کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ان یعنی پہلے اور دوسرے کو ایک شمار کیا ہے جو کہ ان کا اختلاط معلوم ہوتا ہے لہٰذا داؤد بن ابراہیم الواسطی کی توثیق ان کی طرف سے درست معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کا سبب ان کا اختلاط ہے کہ انہوں نے دونوں راویوں کو ایک سمجھ کر ایک کی توثیق کا حکم دوسرے پر بھی جاری کر دیا۔
دَاوُد بن إبْرَاهِيمَ الوَاسِطِي سكن الْبَصْرَة يروي عَن طَاوس وحبيب بن سالم روى عَنهُ بن الْمُبَارك وَأَبُو دَاوُد الطَّيَالِمي (محمد بن حبان بن أحمد الثقات، دائرة المعارف العثمانية، حيدر آباد الدكن، الطبعة الأولى، 1393هـ، 280/6)
گیارہویں بات یہ ہے کہ کتب اسماء و رجال اور کتب تاریخ میں ایک اور داؤد بن ابراہیم العقیلی کا تذکرہ ملتا ہے، تو یہ داؤد بن ابراہیم العقیلی بھی داؤد بن ابراہیم الواسطی ہی ہے کیونکہ دونوں کے لیے ”قاضی قزوین“ کا لاحقہ استعمال ہوا ہے جیسا کہ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی ایک سند کی روایت میں داؤد بن ابراہیم العقیلی کو قاضی قزوین کہا ہے۔
أخبرنا أبو محمد بن حمزة ثنا أبو محمد الكتاني أنبأنا تمام ابـن محمـد أنـبـأنـا أبـو عـمـر محمد بن عيسى بن أحمد القزويني الحافظ وأبي رحمه الله قالا ثنا محمد بن أيوب بن يحيى بن الضريس الرازي ثنا داود بن إبراهيم العقيلي قاضي قزوين ثنا خالد بن عبد الله الواسطي عن الحريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري ….(ابن عساکر، تاریخ دمشق، دار الفكر ، بيروت، 1415هـ، 60/65) اسی طرح کی بات امام سخاوی رحمہ اللہ نے بھی نقل کی ہے جیسا کہ انہوں نے کہا ہے کہ جامع قزوین کے امام جعفر بن محمد بن حماد نے کہا ہے کہ ہم سے داؤد بن ابراہیم العقیلی قاضی قزوین نے بیان کیا ہے۔
أحمد بن قدامة أبو العباس القزويني الجمال شيخ ثقة سمع إسماعيل بن أبي أويس وعبد العزيز الأويسي المدينة وغيرهما بغيرها روى عنه إمام جامع قزوین جعفر بن محمد بن حماد حدثنا داود بن إبراهيم العقيلي القاضي بقزوين حدثنا موسى بن عمير سمعت أبا صالح يقول (التحفة اللطيفة في تاريخ المدينة الشريفة، دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى، 1414هـ، 126/1)
بارہویں بات یہ ہے کہ داود بن ابراہیم العقیلی پر بھی تہمت کذب نقل ہوئی ہے۔
داود بن إبراهيم العقيلي عن خالد بن عبد الله الطحان فهذا كذبه (الأزدي الذهبي، محمد بن أحمد بن عثمان ميزان الاعتدال في نقد الرجال، دار المعرفة للطباعة والنشر بيروت، الطبعة الأولى، 1382هـ، 4/2)
تو خلاصہ کلام یہ کہ داؤد بن ابراہیم پانچ ہیں جن میں سے ایک داؤد بن ابراہیم صنعانی ہے جو کہ ثقہ راوی ہے اور یہ وہ ہے جو طاؤس سے روایت نقل کرتا ہے اور اس میں اور داؤد بن ابراہیم الواسطی میں فرق ہے کہ یہ دو شخصیات ہیں جیسا کہ امام بخاری اور امام ابو حاتم الرازی رحمہما اللہ وغیرہ نے ان میں فرق کیا ہے، جبکہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے غلطی سے ان کو ایک بنا دیا۔ دوسری بات یہ کہ داؤد بن ابراہیم الواسطی جو حبیب بن سالم سے روایت کرتا ہے، اور داؤد بن ابراہیم قاضی قزوین جو شعبہ سے روایت کرتا ہے، اور داؤد بن ابراہیم العقیلی جو خالد بن عبد اللہ سے روایت کرتا ہے، یہ تینوں ایک ہی ہیں اور اس پر تہمتِ کذب ہے۔ پس داؤد بن ابراہیم الواسطی، داؤد بن ابراہیم الواسطی قاضی قزوین اور داؤد بن ابراہیم العقیلی قاضی قزوین تینوں ایک ہی راوی ہیں جیسا کہ امام رافعی رحمہ اللہ نے اس کا پورا نام یوں لکھا ہے: ”داود بن إبراهيم العقيلي أبو سليمان الواسطي كان قاضيا بقزوين“ کر کے لکھا ہے اور اس راوی پر تہمتِ کذب ہے لہٰذا داؤد بن ابراہیم الواسطی، قاضی قزوین کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں امام بخاری رحمہ اللہ نے حبیب بن سالم رحمہ اللہ پر جرح کی ہے کہ جس سے داؤد بن ابراہیم الواسطی روایت نقل کر رہے ہیں اور ابو اسحاق الحوینی کا کہنا یہ ہے کہ یہ بہت شدید جرح ہے لیکن مجھے اس کی وجہ کا علم نہیں ہے۔
حبيب بن سالم .. أما البخاري، فترجمه في ”الكبير“ .. وقال: ”فيـه نـظـر “ !. وهـو جـرح شديد عنده، لست أدري وجهه (أحمد بن عطية الوكيل نثل النبال بمعجم الرجال الذين ترجم لهم فضيلة الشيخ المحدث أبو إسحاق الحويني، دار ابن عباس، مصر، الطبعة الأولى، 1433هـ ، 404/1)
اگرچہ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے لیکن تحقیقِ حدیث میں میرا ذوقی منہج یہ ہے کہ میں اپنی حد تک امام بخاری رحمہ اللہ کے قول کو سب سے پہلے رکھتا ہوں، اس کے بعد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور اس کے بعد امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کے قول کو اگر تو مجھے سمجھ آ جائے تو۔ یہ ترجیحی فہرست ان ائمہ دین کی تحقیقات کے مطالعے اور ان کی گہرائی کے لیول میں غور و فکر کے بعد میرے ذہن میں قائم ہو گئی، لیکن مجھے اس کی صحت پر کوئی اصرار نہیں کرنا ہے۔