قربانی کا جانور کون ذبح کرے؟
اس بارے میں توفیق الہی سے چار باتیں پیش کی جا رہی ہیں:
➊ سنت مطہرہ سے یہ بات ثابت ہے کہ قربانی کرنے والا اپنا جانور خود ذبح کرے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين فرأيته واضعا قدمه على صفاحهما يسمي ويكبر فذبحهما بيده“
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو چت کبرے مینڈھوں کی قربانی دی۔ میں نے آپ کو اپنا قدم ان کے پہلوؤں پر رکھے [بسم اللہ واللہ اکبر] پڑھتے دیکھا اور آپ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبیح فرمایا۔“
متفق عليه صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب من ذبح الأضاحي بيده، رقم الحديث 18/10،5558؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب استحباب الضحية، وذبحها مباشرة بلا توكيل، …، رقم الحديث 18- (1966) ، 1557/3 – الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
➋ قربانی کرتے وقت کسی دوسرے شخص سے تعاون حاصل کرنا بھی سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔ امام احمد نے ایک انصاری شخص سے روایت کی ہے:
”عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه أضجع أضحيته ليذبحها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للرجل: أعني على ضحيتي فأعانه“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے پچھاڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدمی سے فرمایا: ”قربانی [کے ذبح کرنے] میں میری اعانت کرو۔“ اس شخص نے آپ کی اعانت کی۔“
الفتح الرباني في ترتيب مسند الإمام احمد، أبواب الأضحية، باب ما جاء في أضاحي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نفسه، رقم الحديث 65/13،56. حافظ ابن حجر نے اس کے راویوں کو [ ثقہ ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري 19/10).
علاوہ ازیں امام بخاری نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ذکر کیا ہے:
”وأعان رجل ابن عمر فى بدنته“
”ایک شخص نے اونٹ ذبح کرنے میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے تعاون کیا۔“
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي 19/10.
➌ کسی دوسرے کی طرف قربانی کے جانور کا ذبح کرنا بھی سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
”وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه بالبقر“
”اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔“
المرجع سابق، جزء من رقم الحديث 19/10،5559.
امام بخاری نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان لکھا ہے:
(باب من ذبح ضحية غيره)
[کسی دوسرے شخص کی قربانی ذبح کرنے والے کے متعلق باب ]
المرجع السابق 19/10.
اس بات پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جسے امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجۃ الوداع کے بارے میں روایت کیا ہے اور اس میں ہے:
ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثلاثا وستين بيده ثم أعطى رضی اللہ عنہ عليا فنحر ما غبر
”پھر آپ قربان گاہ تشریف لے گئے۔ تریسٹھ قربانیاں اپنے ہاتھ سے ذبح فرمائیں، پھر باقی ماندہ علی رضی اللہ عنہ کو دی اور انہوں نے ان کو ذبح کر دیا۔“
صحيح مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي ﷺ، جزء من رقم الحديث 147 – (1218) 892/2
امام نووی نے اس کے بارے میں لکھا ہے:
”وفيه استحباب ذبح المهدي هديه بنفسه وجواز الاستنابة فيه وذلك جائز بالإجماع“
”اس میں یہ ہے کہ حج کی قربانی خود ذبح کرنا مستحب اور کسی دوسرے کو ذبیح کرنے میں اپنا نائب بنانا جائز ہے اور نائب بنانے کے جواز پر اجماع ہے۔“
شرح النووي 192/8.
➍ مسلمان خاتون کا اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے۔ امام بخاری نے ذکر کیا ہے:
”وأمر أبو موسى بناته أن يضحين بأيديهن“
”ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں۔“
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، 19/10 نیز ملاحظہ ہو: مصنف عبد الرزاق، كتاب المناسك، باب فضل الضحايا والهدي، وهل يذبح المحرم؟ رقم الرواية 7169، 389/4 وفتح الباري ،19/10، وعمدة القاري 155/21.
علامہ عینی نے تحریر کیا ہے:
”وَفِيهِ أَنَّ ذَبْحَ النِّسَاءِ نِسَاءَهُنَّ يَجُوزُ إِذَا كُنَّ يُحْسِنَّ الذبح“
”اور اس میں یہ بات ہے کہ اگر عورتوں کو ذبح کرنے کا سلیقہ ہو تو ان کا اپنی قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنا جائز ہے۔“
عمدة القارىء 155/21.
عورتوں کے جانور ذبح کرنے کے جواز پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جسے امام بخاری نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ:
”أن امرأة ذبحت شاة بحجر فسئل النبى صلى الله عليه وسلم عن ذلك فأمر بأكلها“
”بے شک ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری کو ذبح کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔“
صحيح البخاري، كتاب الذبائح والصيد، باب ذبيحة المرأة والأمة، رقم الحديث 632/9،5504