نبی کریم ﷺ کا ایک رات میں ازواج مطہرات کے پاس جانا حدیث کی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 10: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازواج مطہرات کے ساتھ ایک ہی رات میں ہم بستری کرنا

صحيح البخاري، النكاح، باب كثرة النساء، حديث : 5068
اس حدیث پر منکرین کی طرف سے دو اعتراض ہیں:
➊ ایک رات میں ایک مرد اتنی بیویوں کے ساتھ ہم بستری نہیں کر سکتا۔
➋ یہ بیویوں کے درمیان عدل کے خلاف ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر بیوی کے لیے الگ الگ رات مقرر فرماتے تھے۔

جواب اعتراض اول:

اسی حدیث میں وارد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی، پھر دوسری حدیث میں وارد ہے کہ جنت میں ایک مرد کی طاقت سو مردوں کے برابر ہوگی۔ سلیمان علیہ السلام کے متعلق حدیث میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے، نیز انبیاء علیہم السلام کو اپنے اوپر قیاس نہیں کیا جا سکتا، لہذا اس پر تعجب اور انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ بعض احباب نے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کے پاس جانے کا مطلب مزاج پرسی پر محمول کیا ہے اور قوت سے شجاعت مراد لیا ہے۔ یہ قول بھی انکار حدیث کے مترادف ہے کیونکہ روایت میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بیویوں کے ساتھ مجامعت کرنے کے بعد ایک غسل پر اکتفا کیا۔
صحيح مسلم، الحيض، باب جواز نوم الجنب واستحباب حديث : 309
محدثین نے لکھا ہے کہ یہ واقعات اس سفر کے ساتھ متعلق ہیں جس میں آپ کی تمام ازواج مطہرات آپ کے ساتھ تھیں، اور یہ حجتہ الوداع کا سفر تھا۔ آپ نے طواف زیارت کے بعد احرام اتارا اور اپنی تمام ازواج مطہرات کے ساتھ تعلق قائم کیا اگرچہ عام حالات حضر میں آپ نے باری مقرر کر رکھی تھی، حالانکہ یہ باری مقرر کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض نہیں تھا۔
اس ماقبل بیان کے ساتھ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب بھی سامنے آیا کہ باری مقرر کرنے کے متعلق روایت اور ایک رات میں مجامعت کرنے کے درمیان کوئی تعارض نہیں جبکہ یہ بالاتفاق معلوم ہے کہ سفر میں عام مردوں پر بھی باری کی تقسیم واجب نہیں۔