کنیت رکھنے کے احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف کی شائع کردہ کتاب ناموں کی ڈکشنری اور نومولود کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

کنیت رکھنے کے احکام و مسائل

نومولود بچے کے لیے اسلام کے متعین کردہ ابتدائی مراحل میں سے ایک مرحلہ کنیت رکھنے کے بارے میں ہے کہ اسے کنیت سے بھی پکارا جا سکتا ہے۔
احادیث مبارکہ سے بچے کی کنیت رکھنا ثابت ہے اور عقلی طور پر بھی اس کے بہت سے عظیم فوائد دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سے بچے کی طبیعت پر انتہائی عمدہ قیمتی اور گراں قدر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
❀ بچے کے دل میں ابتدا ہی سے اپنی شخصیت کے بارے میں عظمت واحترام اور عزت و تکریم کا شعور پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے دل میں قابل احترام شخصیت بن کر منظر عام پر آنے کا جذبہ وشوق رچ بس جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک شعر بھی اسی مفہوم کی عکاسی کرتا ہے:
أكنيه حين أناديه لأكرمه
ولا ألقبه والسوءة اللقب

جب میں اسے عزت و احترام کے طور پر پکارتا ہوں تو اسے کنیت سے یاد کرتا ہوں اور لقب کا ذکر نہیں کرتا کیونکہ وہ باعث عزت نہیں۔
تحفة المودود ص: 127
❀ بچے کی اجتماعی شخصیت اجاگر ہوتی ہے کیونکہ اپنی کنیت سن کر اس کے ذہن میں یہ احساس و شعور پیدا ہوتا ہے کہ اس نے بھی بڑے لوگوں کے مرتبے کو پہنچنا ہے اور ایک نہ ایک دن قابل احترام شخصیت بننا ہے۔
❀ بچہ انتہائی عمدہ و پاکیزہ آداب و اخلاق کا خوگر اور عادی بن جاتا ہے اور بڑوں کا ادب و احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم جولیوں سے بھی ادب و احترام اور محبت و شفقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

◈ احادیث مبارکہ سے ثبوت:

مذکورہ بالا فوائد جلیلہ اور مقاصد عظیمہ کے حصول کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو کنیت کے ساتھ پکارتے تھے تا کہ تربیت کرنے والوں کو معلوم ہو کہ یہ کام جائز ہے اور اپنے اندر کئی حکمتوں کو سموئے ہوئے ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے ہادی و مرشد اور رہبر و رہنما ، پیکر خوبی و کمال، پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنائیں اور ان کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے بچوں کی کنیتیں رکھیں اور پھر ان کنیتوں کے ساتھ اپنے بچوں کو پکاریں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا، وكان لي أخ يقال له: أبو عمير، قال: أحسبه فطيما، وكان إذا جاء قال: يا أبا عمير ما فعل النغير؟ نغير كان يلعب به
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ اخلاق حسنہ کے مظہر تھے۔ میرا ایک بھائی تھا جسے ابو عمیر کہا جاتا تھا۔ (راوی کہتا ہے) میرا گمان ہے کہ اس بچے کا دودھ کچھ عرصہ پہلے ہی چھڑایا گیا تھا۔ جب آپ اس کے پاس تشریف لاتے تو اسے پکار کر کہتے: ”اے ابو عمیر، نغیر کا کیا حال ہے؟“ نغیر ایک پرندہ تھا جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتا تھا۔
صحيح البخاري، الأدب، باب الكنية للصبى حديث : 6203 وصحيح مسلم، الآداب، باب جواز تكنية ، حديث : 2150

◈ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریق کار :

❀ نبی اکرم ا للہ صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو اجازت عطا فرمائی کہ وہ اپنی کنیت ام عبداللہ رکھ لیں، حالانکہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آپ کی بہن اسماء بنت ابو بکر کے لخت جگر تھے۔
سنن أبي داود الأدب، باب في المرأة تكنى حديث: 4970، وهو في الصحيحة حديث: 132
❀ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حمزہ مشہور تھی جب کہ ان کے ہاں ابھی کوئی اولاد نہ تھی۔
❀ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی کنیت سے پکارا جاتا تھا ان کا نام عبدالرحمن تھا حالانکہ ان کی اس وقت تک کوئی اولا د نہ تھی۔
❀ صاحب اولاد اپنی اولاد کے علاوہ کسی اور نام کے ساتھ بھی کنیت رکھ سکتا ہے جیسا کہ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(ا) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی کنیت سے مشہور ہیں حالانکہ ان کے کسی بیٹے کا نام بکر نہ تھا۔
(ب) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حفص تھی، حالانکہ ان کی اولاد میں کسی کا نام حفص نہ تھا۔
(ج) حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنی کنیت ابو ذر سے مشہور تھے لیکن ان کے کسی لخت جگر کا نام زر نہ تھا۔
(د) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو سلیمان تھی حالانکہ ان کے بیٹوں میں سے کسی کا نام سلیمان نہ تھا۔

اسی طرح اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں لیکن ہم نے اختصار کے پیش نظر چند ایک کا ذکر کیا ہے۔ان دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نومولود کی کنیت رکھنا مستحب ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند فرمایا ہے۔ اسی طرح بڑوں کے لیے بھی کنیت رکھنا مستحب ہے۔ اور کنیت رکھنے کے لیے یہ لازمی نہیں کہ انسان صاحب اولاد ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ صرف اپنی اولاد ہی کے نام سے کنیت رکھے۔