عاشوراء کا روزہ: فضیلت، حکم اور نو محرم کے روزے کی مشروعیت

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
مضمون کے اہم نکات

عاشوراء دس محرم کا روزہ مشروع و مستحب ہے۔

حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:

[لا يختلف العلماء أن يوم عاشوراء ليس بفرض صيامه ولا فرض الا صوم رمضان]

اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں کہ عاشوراء کا روزہ فرض نہیں ہے، فرض صرف رمضان کے روزے ہیں۔ (التمہید: 203/7)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[أفضل الصيام، بعد رمضان، شهر الله المحرم]

ماہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ محرم کا ہے۔ (صحیح مسلم: 1163)

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے برسر منبر بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:

[هذا يوم عاشوراء ولم يكتب الله عليكم صيامه، وأنا صائم، فمن شاء، فليصم ومن شاء، فليفطر]

یہ عاشوراء کا دن ہے، اللہ نے اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا۔ جو چاہتا ہے، روزہ رکھ لے، جو چاہتا ہے، روزہ چھوڑ دے، البتہ میں روزے سے ہوں۔ (صحیح البخاری: 2003، صحیح مسلم: 1129)

سیدنا ابوقتادہ انصاری رضي اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

[يكفر السنة الماضية]

یہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ (صحیح مسلم: 1162)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[إن عشت إن شاء الله إلى قابل صمت التاسع؛ مخافة أن يفوتني يوم عاشوراء]

اگر زندگی رہی، تو ان شاء اللہ اگلے سال نو محرم کا (بھی) روزہ رکھوں گا، اس ڈر سے کہ کہیں یومِ عاشوراء چھوٹ نہ جائے۔

(المعجم الکبیر للطبرانی: 330/10، شعب الایمان للبیہقی: 3507، وسندہ صحیح)

حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:

[أما حدیث التاسع فیحتمل عندی وجوہا، أحدھا: أن یرید صومہ احتیاطا، فربما نقص الھلال ویکون الغیم، فتکمل العدة ثلاثین، فیکون التاسع فی العدد ھو العاشر من الھلال، فأحب أن لا یفوتہ]

نو محرم کے روزے والی حدیث کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نو محرم کے روزے کا ارادہ احتیاطی طور پر کیا ہے، وہ اس طرح کہ (ذوالحج کا) چاند 29 کا ہو اور اس دن بادل ہوں، جس کے پیش نظر ذوالحج کے تیس دن مکمل کر لیے جائیں، اس طرح (جب نو محرم کا روزہ رکھا جائے، تو) جسے نو محرم سمجھا گیا ہے، وہ دراصل دس محرم ہو۔ تو آپ ﷺ نے چاہا کہ کہیں (اس طرح) عاشوراء کا روزہ چھوٹ نہ جائے۔ (معرفۃ السنن والآثار: 350/6)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[إذا كان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع قال: فلم يأت العام المقبل، حتى توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم]

اگلے سال ہم ان شاء اللہ نو محرم کا روزہ (بھی) رکھیں گے۔ لیکن اگلے سال رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔ (صحیح مسلم: 1134)

ایک روایت کے الفاظ ہیں:

[لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع]

میں اگلے سال تک زندہ رہا تو نو محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا۔ (صحیح مسلم: 1134)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

[إذا رأيت هلال المحرم فاعدد، وأصبح يوم التاسع صائما، قلت: هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه؟ قال: نعم]

محرم کا چاند دیکھیں، تو دن گننا شروع کر دیجیے اور نو محرم کو روزہ رکھیے، میں (حکم بن اعرج) نے عرض کیا: نبی کریم ﷺ اسی دن کا روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں۔(صحیح مسلم: 1133)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

[صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود]

نو اور دس محرم کا روزہ رکھیں اور یہودیوں کی مخالفت کریں۔ (مصنف عبد الرزاق: 7839، السنن الکبری للبیہقی: 287/4، وسندہ صحیح)