درود کی فضیلت، دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا اور سونے کی دعا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت

① سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قولوا : اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وعلى أزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد ، وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
”کہو: اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پر اور آپ کی اولاد پر رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم علیہ السلام پر رحمتیں نازل فرمائیں۔ بیشک تو تعریف کے لائق اور شان و بزرگی والا ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر برکت نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم علیہ السلام پر برکت نازل فرمائی۔ بے شک تو تعریف کے لائق اور شان و بزرگی والا ہے۔“
بخاری، کتاب تفسیر القرآن 4797، مسلم، کتاب الصلوة 406، ابوداؤد، کتاب الصلوة 976۔
② سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ پر سلام پڑھنا تو سیکھ لیا ہے، اب ہم آپ پر درود کس طرح بھیجیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس طرح کہا کرو:
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد ، وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد
”اے اللہ! رحمتیں نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر، جیسا کہ آپ نے رحمتیں نازل فرمائیں ابراہیم علیہ السلام کی آل پر، بے شک تو…..“۔
صحیح البخاری 4797، مسلم 406۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى على واحدة صلى الله عليه عشرا
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے تو اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“
مسلم، کتاب الصلوة 408، ابوداؤد، کتاب الصلوة 1530، ترمذی، کتاب الصلوة 485.
④ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم على صلاة
”بے شک قیامت کے دن تمام لوگوں میں سے میرے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوگا، جو ان میں سے مجھ پر زیادہ درود پڑھتا ہوگا۔“
ترمذی 484، روایت صحیح ہے.
⑤ سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فأكثروا على من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي
”تمہارے دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے افضل ہے۔ پس اس دن مجھ پر کثرت سے صلاۃ پڑھا کرو، اس لیے کہ تمہاری صلاۃ مجھ پر پیش کی جاتی ہے۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری صلاۃ آپ پر کیسے پیش کی جاتی ہے جبکہ آپ تو وفات پا چکے ہوں گے؟ (یا راوی نے بیان کیا: آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله حرم على الأرض أجساد الأنبياء
”اللہ نے انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو زمین پر حرام قرار دیا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1531، 1047، ابن ماجه، ما جاء في الجنائز 1085، روایت صحیح ہے۔
⑥ سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رغم أنف رجل ذكرت عنده فلم يصل علي
”اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر صلاۃ نہ پڑھے۔“
ترمذی، کتاب الدعوات 3545، مسند احمد، مسند اہل بیت 2/ 254، روایت صحیح ہے۔
⑦ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البخيل من ذكرت عنده فلم يصل علي
”وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر صلاۃ نہ پڑھا۔“
ترمذی، کتاب الدعوات 3546، مسند احمد، مسند اہل بیت 1736، روایت حسن ہے۔

دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو آپ انہیں چہرے پر پھیرنے کے بعد نیچے کرتے تھے۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3386، روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں حماد بن عیسیٰ ضعیف الحدیث ہے۔
② سائب بن یزید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے اور (دعا کے بعد) انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔
ابوداؤد، کتاب الصلوة 1492، مسند احمد، مسند الشامیین 4/ 271، حدیث 17966۔

سونے کی دعا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفض فراشه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم يقول: باسمك ربي وضعت جنبي ، وبك أرفعه ، إن أمسكت نفسي فارحمها ، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين
”جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو وہ اپنے تہبند کے اندر کی طرف کے کپڑے سے اپنے بستر کو جھاڑے اس لیے کہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے بعد اس میں کون سی چیز آگئی تھی، اور پھر یہ دعا پڑھے: میرے پروردگار! تیرا مبارک نام لے کر اپنا پہلو بستر پر رکھتا ہوں اور تیرے بابرکت نام ہی سے اسے اٹھاؤں گا، اگر تو میری جان روک لے تو اس پر رحم فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔“
بخاری، کتاب الدعوات 6320، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة 2714/64۔