مضمون کے اہم نکات
قبروں سے استفادہ اور دیو بندی:
خلیل احمد سہارنپوری صاحب لکھتے ہیں :مشائخ کی روحانیت سے استفادہ اور ان کے سینوں اور قبروں سے باطنی فیوض پہنچنا سو بے شک صحیح ہے۔ (المهند علی المفند:ص39)
اس عقیدے کو واضح کرنے کے لیے مندرجہ ذیل واقعہ پڑھیے جسے ارواح ثلاثہ کے مصنف ذکر کرتے ہیں:
مولوی معین الدین صاحب مولانا محمد یعقوب صاحب کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ مولانا کی ایک کرامت (جو بعد وفات واقع ہوئی) بیان فرماتے ہیں: کہ ایک مرتبہ ہمارے نانوتہ میں جاڑے بخار کی بہت کثرت ہوئی، سو جو شخص مولانا کی قبر سے مٹی لے جا کر باندھ لیتا اسے بھی آرام ہو جاتا۔ بس لوگ اس کثرت سے مٹی لے گئے کہ جب بھی قبر پر مٹی ڈالو تب ہی ختم کئی مرتبہ ڈال چکا، پریشان ہو کر ایک دفعہ مولانا کی قبر پر جا کر کہا (یہ صاحبزادے بہت تیز مزاج تھے) آپ کی تو کرامت ہو گئی اور ہماری مصیبت۔ یاد رکھو! اگر اب کے کوئی اچھا ہوا تو ہم مٹی نہ ڈالیں گے، ایسے ہی پڑے رہو گے، لوگ جوتا پہنے تمھارے اوپر ایسے ہی چلیں گے۔ بس اسی دن سے کسی کو آرام نہ ہوا۔ جیسے شہرت آرام کی ہوئی تھی ویسے ہی یہ شہرت ہو گئی، اب آرام نہیں ہوتا۔ پھر لوگوں نے مٹی لے جانا بند کردیا۔ (ارواح ثلاثه:ص339)
عقیدہ علم الغیب اور اہل دیو بند:
زلزله در زلزلہ کے دیو بندی مصنف نجم الدین صاحب لکھتے ہیں: علمائے دیو بند ہرگز یہ نہیں کہتے کہ اللہ کے علاوہ غیب کی کوئی بات کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی۔ (زلزلہ در زلزلہ:ص101)
ایک جگہ نجم الدین صاحب یوں فرماتے ہیں: علمائے دیو بند اس بات کے بھی قائل ہیں کہ بعض علوم غیبیہ انبیاء، اولیاء، اصفیاء کو تو چھوڑیے معمولی لوگوں کو بھی معلوم ہو جاتے ہیں۔ (زلزله در زلزله:ص98)
ایک جگہ یوں کہتے ہیں: ہر دور میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جنھیں پروردگار عالم نے نوازا اور بہت سی مخفی باتیں بتائیں۔ (زلزله در زلزله:ص114)
انکشاف کے دیو بندی مصنف لکھتے ہیں: رہا اولیاء اللہ کو احیا نا عالم برزخ میں دنیا کے احوال کا علم ہو جانا تو ایسے علم کو علم غیب سے تعبیر کرنے والا سخت نادان اور جہالت میں مبتلا ہے۔ (انکشاف:ص93)
دیوبندی مولوی محمد یاسین صاحب لکھتے ہیں: [شیخ هر چه گوید دیده گوید] شیخ جو بات کہتا ہے دیکھ کر کہتا ہے۔ (تذکرۃ الرشید:2/122)
دیو بندیوں کے امام حاجی امداد اللہ صاحب لکھتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ علم غیب انبیاء اور اولیاء کو نہیں ہوتا، میں کہتا ہوں کہ اہل حق جس طرف نظر کرتے ہیں دریافت و ادراک و غیبات کا ان کو علم ہوتا ہے۔ (شمائم امدادیہ:ص61)
مولوی انوار الحسن ہاشمی مبلغ دار العلوم دیو بند فرماتے ہیں:بعض کامل الایمان بزرگوں کو جن کی عمر کا پیشتر حصہ تزکیہ نفس اور روحانی تربیت میں گزرتا ہے باطنی اور روحانی حیثیت سے ان کو منجانب اللہ ایسا ملکہ راسخہ حاصل ہو جاتا ہے کہ خواب اور بیداری میں ان پر وہ امور خود بخود منکشف ہو جاتے ہیں جو دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ (مبشرات دار العلوم: ص12)
حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ] اے نبی! کہہ دیجیے کہ زمین اور آسمان میں رہنے والوں میں سے غیب سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ (النمل:65)
[فَقُلۡ اِنَّمَا الۡغَیۡبُ لِلّٰہِ] اے نبی! آپ کہہ دیں کہ غیب اللہ ہی کے لیے ہے۔ (يونس:20)
اللہ تعالی اپنے نبی سے یہ بات کہلواتا ہے: [قُلۡ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ] اے نبی! کہہ دیجیے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جاننے والا ہوں۔ (الأنعام:50)
نیز فرمان باری تعالیٰ ہے: [وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ] اور اگر میں غیب جانتا تو میں بھلائیوں میں سبقت لے جاتا اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی۔ (الأعراف:188)
نیز فرمان الہی ہے: [اِنَّ اللّٰہَ عٰلِمُ غَیۡبِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ] بے شک اللہ ہی زمین و آسمان کا غیب جاننے والا ہے۔ (فاطر:38)
اتحاد ثلاثہ:
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی مقام پر آپ کی خدمت میں یہ بات رکھ دوں کہ اس سلسلہ میں آپ کا مجھ سے قرآن اور حدیث کی دلیلیں طلب کرنا انصاف نہیں ہے۔ کیونکہ یہ شریعت کا معاملہ نہیں، یہ تو دینِ طریقت کا میدان ہے اور ان دونوں چیزوں میں مشرق و مغرب کا بعد اور زمین و آسمان کی دوری ہے۔ شریعت کی بنیاد جس طرح تین چیزوں پر ہے، قرآن وحدیث و اجماع اور اس کے بعد کہیں قیاس کا نمبر آتا ہے۔ اسی طرح اس دینِ طریقت کی بھی تین بنیادیں ہیں جن کو اتحادِ ثلاثہ کا نام دیا جاتا ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ آپ کے سامنے مختصر ترین الفاظ میں دینِ طریقت کا لب لباب رکھ دوں، اس سے واقف ہو جانے کے بعد آپ تصوف کے سلسلہ کی ہر مشکل چٹکیوں میں حل کر لیں گے۔
[اتحادِ ثلاثہ] کا پہلا اصول یہ ہے:
[1]حلول:
اس نظریہ کی بنیاد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غیر معمولی ریاضتوں کے ذریعے نفس کی صفائی اور روح کی بالیدگی پیدا کر لے، یا کسی کو ورثہ میں یہ چیزیں ملی ہوں تو ذاتِ خداوندی اس کے اندر حلول کر جاتی ہے۔ (یعنی) لاہوت ناسوت میں اور موجد موجود میں اتر آتا ہے۔ اسی لیے ہندوؤں کے رشی، منی اور بدھ مت کے پیرو جنگلوں اور پہاڑوں میں گوشہ نشین ہو کر سخت ریاضتیں کرتے ہیں۔ یہی نظریہ عیسائیوں کا بھی ہے اور ان کی غیر معمولی ریاضتیں تاریخ کا جزو بن چکی ہیں۔ ان کے ریاضت کرنے والے اپنے بدن کو رسیوں کے ذریعہ ستون سے باندھ کر ایک ہی حالت میں قائم رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دن گزرتے جاتے اور رسی ان کے گوشت کو کاٹ کر اندر اترتی چلی جاتی اور زخم پیدا ہو کر ان میں کیڑے پڑ جاتے لیکن یہ لوگ اپنی یہ ریاضت ختم نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں اضافہ کے لیے برابر کوشاں رہتے۔ زخم کے کیڑوں میں سے کوئی کیڑا اگر گر کر الگ ہو جاتا تو وہ اس کو پھر اٹھا کر زخم پر ڈال دیتے اور کہتے:کھا! جو تجھ کو تیرے مالک نے دیا ہے۔
بہت سے ایسے بزرگ جنگلوں میں مارے مارے پھرتے اور گھاس پر گزارا کرتے، کچھ حضرات جانوروں کے بھٹوں میں، کچھ پرانی قبروں میں اور بعض کنوؤں میں اپنا گھر بنا لیتےتھے۔ کوئی سالوں چپ رہتا اور کوئی ہاتھوں اور پیروں میں لوہے کی زنجیریں ڈالے دکھائی دیتا تھا۔
اس آخری امت میں اس نظریہ کی ابتدا عبداللہ بن سبا (یعنی یہودی جو خلافتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں منافقانہ طور پر اسلام میں داخل ہوا تھا) کے پیروکاروں سے ہوئی۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ذات میں اور ان کی اولاد میں حلول کر آیا ہے اور اس طرح یہ حضرات اللہ کے ”اوتار“ ہیں۔ پھر حلول کا یہ عقیدہ عبداللہ بن سبا کے ماننے والوں نصیریہ، کیسانیہ، قرامطہ اور باطنیہ سے ہوتا ہوا صوفیاء کے اندر داخل ہو گیا اور یہاں پہنچ کر وہ اصلی برگ و بار لایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدائی کا عقیدہ خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں شروع ہو گیا تھا۔ ،،قوم زط،، کے ستر آدمی جو عبداللہ بن سبا کے چیلے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اعلانیہ ”الہ“ پکارتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انھیں بہت سمجھایا لیکن جب وہ اپنا یہ عقیدہ بدلنے پر تیار نہ ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جھونک دیے جانے کا حکم دیا لیکن یہ لوگ اپنے ،،الوہیت علی،، کے اس عقیدہ میں اس قدر پختہ تھے کہ آگ میں جل کر بھی پکارتے رہے کہ علی یقیناً رب ہیں۔ کیونکہ: [لا یعذب بالنار الا رب النار] آگ کا عذاب کوئی نہیں دیتا مگر وہ جو آگ کا رب ہے۔ [سنن أبي داؤد، کتاب الجھاد، باب فی كراھیة حرق العدو بالنار:2673]
اس طرح یہ لوگ اپنے آخری لمحات میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدائی کی گواہی دے کر مرے۔
یہی عقیدہ فرقہ سبائیہ و نصیریہ کا بھی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اندر اللہ تعالیٰ حلول کر گیا ہے اور اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ رب ہیں۔ بنوری صاحب نے اپنے والد صاحب کے عقدِ نکاح کے سلسلہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عرش پر بٹھا کر اسی عقیدہ کو رونمائی کا موقع دیا ہے اور اسی لیے خواجہ حیدر علی آتش لکھنوی فرما گئے ہیں کہ:
دل مرا بندہ نصیری کے خدا کا ہو گیا
اسی عقیدہ کے زیرِ اثر یہ کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر جو آواز سنی تھی وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آواز تھی۔ صوفیاء میں حسین بن منصور حلاج اس عقیدہ کے پہلے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ لاہوت ناسوت میں حلول کر جاتا ہے۔ خاص کر اپنے متعلق تو ان کا صریح دعویٰ تھا کہ مجھ میں اللہ حلول کر گیا ہے۔ اور اسی وجہ سے وہ ،،انا الحق،، کا نعرہ لگاتے تھے۔ ،،حلولِ مطلق،، کا یہ عقیدہ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ساری کائنات میں حلول کیے ہوئے ہے، جو پہلے جہمیہ کا عقیدہ تھا، حسین بن منصور حلاج اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ اس امت میں درآمد ہوا اور آج یہ دینِ تصوف کی رگوں کا خون بنا ہوا ہے۔ یاد رہے احمد رضا صاحب نے عقیدہ حلول کے قائل کو کافر کہا ہے۔ [دیکھیے ان کا ترجمہ مع تفسیر المائدہ:77،17]
جنید بغدادی کے شاگرد اور مرید شبلی نے بھی انھیں ساتھی قرار دیا اور اپنے سے زیادہ عقلمند ٹھہرایا۔ بہرحال کچھ ہو ان میں جرأت ضرور تھی کہ اپنے عقیدہ پر جمے رہے اور سر دے دیا، آج بھی یہی عقیدہ ہے مگر خوف کی وجہ سے تدتی اور تجلی کے نام سے اس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ ہے اتحادِ ثلاثہ میں سے ایک نظریہ کی کارفرمائی۔ رہا اس اتحاد کا دوسرا جزو تو وہ اس سے بھی زیادہ ،،عظیم الشان،، ہے۔
[2]وحدۃ الوجود:
[اتحادِ ثلاثہ] کا دوسرا جزو جس نے قرآن وحدیث کے بتلائے ہوئے خالق ومخلوق کے فرق کو بدل ڈالا ہے وحدۃ الوجود کا نظریہ ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز ایک ذات کے پھیلے ہوئے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ کسی ایک چیز میں دوسرے سے غیریت نہیں یعنی خالق ومخلوق میں وحدت ہے اور دونوں ایک ہیں۔ اس نظریہ کے لحاظ سے کافر ومشرک، فاسق و فاجر، مومن و مسلم، شیطان و جن، کتا و بلی، نجاست و غلاظت یہ سب اللہ کے عین وجود ہیں۔ انھیں ذاتِ الہی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ان میں اور ذاتِ الہی میں کوئی غیریت ہے اور کائنات میں جو مختلف چیزیں نظر آتی ہیں یہ حس و ادراک کا ظاہری پہلو ہے۔ ابن عربی جو صوفیاء میں شیخ اکبر کے نام سے پکارے جاتے ہیں، اس نظریہ کے موجد سمجھے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندومت سے لیا ہوا یہ نظریہ شروع ہی سے فنِ تصوف کی جان بنا رہا ہے۔ ہاں! ابن عربی اس امتِ مسلمہ کے اندر اس کے علمبردار بن کر ضرور اٹھے ہیں۔ فتوحات مکیہ اور فصوص الحکم جیسی مشہور کتابیں لکھ کر اس کو حق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی پوری زندگی اس نظریہ کو پھیلانے میں لگا دی ہے۔ ان کی اس کوشش کا ثمرہ یہ ہے کہ آج ہر صوفی کے یہاں اس بات کی کسی نہ کسی شکل میں نمائش ضرور ہے۔ ابن عربی کہتا ہے:
الرب حق و العبد حق
یالیت شعری من المکلف
پروردگار بھی حق ہے اور بندہ بھی حق، کاش! میں معلوم کر سکتا کہ ان میں سے مکلف کون ہے؟
ان قلت عبد فذاک میت
او قلت رب انٰی یکلف
اگر تم کہو کہ مکلف بندہ ہے تو بندہ مردہ اور میت ہے، اگر تمھارا کہنا یہ ہے کہ ،،رب،،تو وہ کیسے مکلف ہو سکتا ہے؟
[فتوحات مکیہ: جلد1،ص1]
اور لکھتا ہے:
فیا لیت شعری من یکون مکلفا
و ما ثم الا اللہ لیس سواہ
کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ مکلف کون ہے؟ درآں حالیکہ یہاں اللہ کے علاوہ کسی کا وجود ہی نہیں ہے۔
[رسائل ابن عربی کتاب الجلالۃ:ص12]
اپنی کتاب فصوص الحکم کی فص ہارونیہ میں لکھتا ہے:
فان العارف من یری الحق
کل شیء بل یراہ عین کل شیء
پس عارف وہ ہے جو ہر چیز میں حق کو دیکھے بلکہ حق تعالیٰ کو ہر چیز کا عین دیکھے۔
اور ،،فص ہود،، میں لکھا:
[انہٗ عین الاشیآء] بے شک اللہ تعالیٰ اشیاء کا عین ہے۔
اسی بات کو فتوحاتِ مکیہ میں یوں کہتا ہے:
ہو الحق عین الخلق ان کنت ذا عین
و فی الخلق عین الحق ان کنت ذا عقل
پس حق میں عین الخلق ہے اگر تو چشمِ بینا رکھتا ہے اور خلق میں عین الحق ہے اگر تو صاحبِ عقل ہے۔
اس نظریہ کے لحاظ سے ہر چیز ذاتِ الہی کا جزو اور حصہ ہے۔ کوئی چیز دوسری چیز سے غیریت نہیں رکھتی، صرف فرقِ مراتب کی وجہ سے صورتیں بدل گئی ہیں۔ کوئی انسان نظر آتا ہے، کوئی جانور، کوئی درخت نظر آتا ہے، کوئی پہاڑ، کوئی ولی اور کوئی نبی لیکن ایک فاسق و فاجر بھی دراصل ذاتِ خداوندی کا ایسا ہی حصہ ہے جیسا ایک بزرگ ولی۔ اسی طرح ایک جانور بھی ذاتِ حق کا ایک جزو ہے اور ایک پرندہ بھی۔ اسی لیے اس فن کے کاملین کبھی کسی جانور کے بولنے پر لبیک لبیک کا نعرہ لگاتے ہیں اور کبھی کوے کی آواز پر اور اگر دریافت کیا جائے کہ یہ کیا، یہ تو جانور اور کوے کی آواز ہے تو جواب ملتا ہے کہ مجھے تو ہر آواز، آوازِ خداوندی معلوم ہوتی ہے، اسی لیے میں لبیک لبیک کا نعرہ لگاتا ہوں۔ (نعوذ باللہ!) ابن عربی کے اس نظریہ نے قرآن وحدیث کی ساری قدروں کو بدل ڈالا ہے، عالم دنیا حادث کے بجائے قدیم بن گیا، اللہ تعالیٰ معطل کر ڈالا گیا، خیر وشر کی تمیز باقی نہ رہی، تکلیف اٹھا لی گئی، جنت و جہنم بے معنی چیزیں بن گئیں۔ آخر وہ کون سا الہ ہے جو اپنی ذات کو جہنم کے سپرد کر دے گا۔ ابن عربی کا ارشاد ہے کہ جہنم کی آگ ٹھنڈی ہو کر لطف ولذت کا سامان مہیا کرے گی۔ اس نظریہ نے اس قدر زور پکڑا کہ ساری دنیا میں اس کے حامی، اس کے علمبردار پیدا ہو گئے۔ کہیں مولانا جلال الدین رومی نے اس کا نعرہ لگایا اور کہیں خاندانِ ولی اللہ نے اس کے جھنڈے اٹھائے اور آج اسلام کی جو صورت بنی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ اس نظریہ کا ہے۔
[3]وحدۃ الشہود:
،،اتحادِ ثلاثہ،، کا تیسرا ٹکڑا ،،وحدۃ الشہود،، ہے۔ اس کو ،،فنا فی اللہ،، ہونا بھی کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنی محبت اور ریاضت کو اس قدر فروغ دے کہ حلولیوں کی طرح اللہ تعالیٰ کو عرش سے اتار کر کسی ذات میں داخل کرنے کی بجائے خود عروج کرے اور بلند ہو کر
ذاتِ الہی میں داخل ہو جائے اور اس طرح اپنی ذات کو فنا کر کے بقا حاصل کر لے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نظریہ ابن عربی کے وحدۃ الوجود کے مقابلہ میں شیخ علاء الدولہ سمنانی المتوفی 736ھ نے ایجاد کیا ہے اور برصغیر ہند و پاک میں مجدد الف ثانی سرہندی نے اسے اوجِ کمال تک پہنچایا ہے۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ نظریہ شروع ہی سے تصوف کے ہر سلسلہ میں موجود رہا ہے۔ ابو اسماعیل ہروی (وفات 481ھ) اس کے مبلغِ اعظم اور علی ہجویری کشف المحجوب کے مصنف (وفات 565ھ) اور شیخ عبدالقادر جیلانی غنیۃ الطالبین، فتوح الغیب، الفتح الربانی کے مصنف (وفات 561ھ) نے اس نظریہ کے جھنڈے اٹھائے ہیں، چاہے اس کو یہ نام نہ دیا ہو۔ ان تینوں نظریوں کی ایجاد کا مقصد یہ تھا کہ خالق ومخلوق، عبد و معبود کا وہ فرق باقی نہ رہے جو ذوقِ خدائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جس کو قرآن وحدیث نے ہر جگہ، ہر مرحلہ پر، ہر وقت، ہر آن بیان کیا ہے اور انجام کار ایسی ذاتیں وجود میں آئیں جو خالق ومخلوق، عبد و معبود دونوں کی صفات کی حامل ہوں۔ کبھی خالق بنیں کبھی مخلوق، کبھی عبد کبھی معبود اور زمانہ گواہ ہے کہ اس معاملہ میں ان حضرات کو پوری کی پوری کامیابی حاصل ہوئی اور عبد و معبود دونوں کی صفات سے مرکب ایسی بے شمار مخلوط ذاتیں وجود میں آئیں جو کبھی مشکل کشا بنائی گئیں اور کبھی داتا و دستگیر کہلائیں۔
[اتحادِ ثلاثہ] کے ان تینوں اجزاء پر نگاہ ڈالی جائے تو پہلی بات یہ سامنے آئے گی کہ یہ تینوں کے تینوں قرآن وحدیث کے یکسر خلاف ہیں لیکن ان تینوں نظریات میں صرف وحدت الوجود کے نظریہ میں یکسانی و ہمرنگی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ اس کے مطابق ہر چیز ذاتِ الہی کا ایک ٹکڑا ہے اور اس لیے ہم جنس۔ اور اگر اتحاد ہوتا ہے تو ہم جنس میں اتحاد ہوتا ہے۔ باقی دو نظریے حلول اور وحدت الشہود، تو وہ بالکل غیر معقول ہیں کیونکہ ان میں غیر جنسوں میں اتحاد کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ حلول ذاتِ الہی کو ذاتِ انسانی میں داخل کرتا ہے مگر عرش سے اتار کر اور وحدت الشہود ذاتِ انسانی کو ذاتِ الہی میں سموتا ہے اوپر اٹھا کر۔ لیکن اتنی بات تو بہر حال کہنی پڑے گی کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور یہ بھی کہ ،،یہ دھوپ چھاؤں حسبِ ضرورت بھی خوب ہے،،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کے علمبرداروں کی اپنی کتابوں سے نمونہ کے طور پر چند اور حدیث کے مقابلے کے لیے ان حضرات نے اس قدر مواد جمع کر رکھا ہے کہ اس کے لیے ہزاروں صفحات بھی کم ہیں۔
تصوف کی کتابوں کے نام:
اگر آپ تصوف کے بارے میں مکمل تحقیق اور آگاہی چاہتے ہیں تو ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں، حقیقت واضح ہو جائے گی:
[1]انیس الارواح [2]دلیل العارفین [3]کشف المحجوب [4]تذکرۃ الاولیاء [5]فوائد فریدیہ [6]ملفوظات احمد رضا [7]اسرار الاولیاء [8]فوائد الفواد [9]امداد المشتاق [10]فوائد السالکین [11]مشائخ نقشبندی [12]اخبار الاخیار [13]تذکرہ اولیاء پاک و ہند [14]تذکرہ غوثیہ [15]کلام المرغوب [16]راحت القلوب [17]انفاس العارفین [18]رسائل ابن عربی [19]فیوضِ یزدانی [20]فتوحاتِ مکیہ [21]مشکوٰۃ الانوار [22]رسالہ قشیریہ
یاد رہے کہ مندرجہ بالا باب میں یہ چند جھلکیاں بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں، ظاہر ہے صحیح العقیدہ سنی مسلمانوں کے نزدیک ان کی حیثیت خرافات سے بڑھ کر نہیں۔ مذکورہ اولیائے کرام اگر واقعی بزرگ تھے تو پھر ان سے منسوب یہ باتیں صحیح نہیں اور اگر یہ باتیں صحیح ہیں تو پھر ان کی بزرگی مشتبہ ہے۔
جو لوگ ان باتوں کو کرامات سمجھتے ہیں اور ان کرامات سمیت مسلمانوں کو ان کی بزرگی منوانے پر مصر ہیں حقیقت میں یہی لوگ ان کی بدنامی کا باعث ہیں۔ حوالہ جات مذکورہ کی وجہ سے اگر کوئی شخص بزرگوں کی شان میں گستاخی کر بیٹھے تو بہت حد تک اس کی ذمہ داری انھی اندھے مریدوں پر عائد ہوتی ہے۔