قافیہ بند دعا، قبولیت میں جلدی، اگر تو چاہے کہنا اور سستی سے بچنے کی دعا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

قافیہ بند کلام میں دعا کرنے کی ممانعت

① عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
حدث الناس كل جمعة مرة ، فإن أبيت فمرتين ، فإن أكثرت فثلاث مرات ، ولا تمل الناس هذا القرآن ، ولا ألفينك تأتي القوم وهم فى حديث من حديثهم فتقص عليهم فتقطع عليهم حديثهم فتملهم ، ولكن أنصت ، فإذا أمروك فحدثهم وهم يشتهونه ، وانظر السجع من الدعاء فاجتنبه
”ہر جمعے لوگوں کو خطاب (وعظ و نصیحت) کیا کرو، اگر تم نہیں مانتے تو پھر دو مرتبہ، اگر زیادہ ہی وعظ کرنا ہو تو پھر (ہفتے میں) تین مرتبہ۔ تم لوگوں کو اس قرآن سے اچاٹ نہ کرنا۔ میں تمہیں ہرگز ایسا نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ جبکہ وہ اپنی گفتگو میں محو ہوں اور تم ان کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کر دو اور انہیں بیزار کر دو، بلکہ خاموش رہنا، جب وہ تمہیں بات کرنے کے لیے کہیں اور وہ اس کا اشتیاق بھی رکھیں تو پھر ان سے بات کرنا، اور قافیہ بند کلام میں دعا کرنے سے اجتناب کرنا۔“
بخاری، کتاب الدعوات 6337۔

قبولیت دعا کے لیے جلدی کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يستجاب لأحدكم ما لم يعجل ، يقول : قد دعوت فلم يستجب لي
”تم میں سے ہر کسی کی دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے، وہ یوں کہے: میں نے دعا کی تھی مگر قبول نہیں ہوئی۔“
بخاری، کتاب الدعوات 6340، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة والاستغفار 2735/90۔

انسان کا ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو بخش دے“ کہنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقولن أحدكم اللهم اغفر لي إن شئت اللهم ارحمني إن شئت ، فليعزم المسألة فإنه لا مكره له
”تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ پختہ عزم کے ساتھ مانگا کرو کیونکہ اسے کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔“
بخاری، کتاب التوحيد 7477، مسلم، الذکر والدعاء والتوبة الخ 9/ 2678۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دعا أحدكم فليعزم المسألة ولا يقولن : اللهم إن شئت فأعطني ، فإنه لا مستكره له
”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو پختہ عزم سے سوال کرے اور وہ یوں نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا کر، کیونکہ اسے کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔“
بخاری، کتاب التوحيد 7464، مسلم، الذكر والدعاء والتوبة الخ 7/ 2678۔

سستی سے بچنے کی دعا

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل ، والجبن والهرم والبخل ، وأعوذ بك من عذاب القبر وفتنة المحيا والممات
”اے اللہ! میں عجز، سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں عذاب قبر نیز حیات و ممات کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“
بخاری، کتاب الدعوات 6365، مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبة الخ 2706/50۔