ترجمہ و تفسیر — سورۃ التحريم (66) — آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں، اس پر سخت دل، بہت مضبوط فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔ En
مومنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل عیال کو آتش (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر) ہیں جو ارشاد خدا ان کو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں
En
اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا ﻻتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِيْكُمْ نَارًا:} پچھلی آیات میں امہات المومنین کی تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا بیان تھا، اب تمام ایمان والوں کو اس کا حکم دیا جا رہا ہے۔ { نَارًا } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یعنی اس عظیم آگ سے بچ جاؤ۔ { قُوْا} (بچاؤ) {وَقٰي يَقِيْ وَقْيًا وَ وِقَايَةً} (ض) سے امر حاضر جمع مذکر ہے۔ اس میں ایمان والوں کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور اس کے ساتھ اپنے گھر والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا اہتمام کر کے انھیں بھی جہنم کی آگ سے بچائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِيَّتِهٖ] [بخاري، الجمعۃ، باب الجمعۃ في القرٰی والمدن: ۸۹۳] تم میں سے ہر ایک راعی (نگہبان) ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جانے والا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے ہر فرد کو اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا، فرمایا: «وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْهَا» ‏‏‏‏ [طٰہٰ: ۱۳۲] اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ۔ اس مقصد کے لیے بچپن ہی سے انھیں نماز روزے اور اسلام کے دوسرے احکام پر عمل کی عادت ڈالنی چاہیے اور سمجھ دار ہونے پر اس کے لیے سختی کی ضرورت ہو تو وہ بھی کرنی چاہیے، خواہ ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں اور سن تمیز شروع ہونے کے ساتھ ہی انھیں جنسی بے راہ روی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مُرُوْا أَوْلاَدَكُمْ بِالصَّلاَةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ وَاضْرِبُوْهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِيْنَ وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ] [أبو داوٗد، الصلاۃ، باب متٰی یؤمر الغلام بالصلاۃ: ۴۹۵، و قال الألباني حسن صحیح] اپنے بچوں کو نماز کاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوں اور اس پر انھیں مارو جب وہ دس برس کے ہوں اور بستروں میں انھیں ایک دوسرے سے الگ کر دو۔
➋ { وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴) کی تفسیر۔
➌ {عَلَيْهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ …: غِلَاظٌ غَلِيْظٌ} کی جمع ہے، سخت دل والے، بے رحم اور { شِدَادٌ شَدِيْدٌ} کی جمع ہے، سخت قوت والے، نہایت مضبوط۔ یہاں جہنم پر مقرر فرشتوں کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) وہ نہایت سخت دل ہیں، انھیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ (2) سخت قوت والے ہیں، کوئی ان کی گرفت سے نکل نہیں سکے گا۔ (3) اللہ تعالیٰ انھیں جو حکم بھی دے اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ (4) اور وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرتے، بلکہ وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

6 ۔ 1 اس میں اہل ایمان کو ان کی ایک نہایت اہم ذمے داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال عمر کے بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو سنن ابی داؤد۔ فقہا نے کہا ہے اسی طرح روزے ان سے رکھوائے جائیں اور دیگر احکام کے اتباع کی تلقین انہیں کی جائے تاکہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو اس دین حق کا شعور بھی انہیں حاصل ہوچکا ہو۔ ابن کثیر۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں [12] کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر [13] ہیں۔ اس پر تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہیں۔ اللہ انہیں جو حکم دے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے [14] اور وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
[12] یعنی مسلمانوں کو محض اپنی ذات کی اصلاح پر ہی اکتفا نہ کر لینا چاہیے بلکہ اہل و عیال پر بھی اتنی ہی توجہ دینا چاہیے اور اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر چلانا چاہیے اور اس کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈرا کر سمجھا کر، پیار سے، دھمکی سے، مار سے جس طرح بھی بن پڑے۔ انہیں اس راہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص راعی (نگہبان) ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی (کہ اس نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی تھی) امام بھی راعی ہے، اسے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے، اسے اپنی رعیت سے متعلق پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر کی راعی ہے، اسے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔ [بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب قولہ تعالیٰ من بعد وصیۃ۔۔]
اس لحاظ سے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کرے ورنہ اس سے باز پرس ہو گی۔
[13] پتھر سے مراد وہ پتھروں کے بت بھی ہیں جن کی مشرک دنیا میں پوجا کرتے رہے ہیں۔ تاکہ مشرکوں کی حسرت و یاس میں مزید اضافہ ہو اور پتھری کوئلہ بھی جس میں آگ کی حرارت کی شدت عام کوئلہ سے بدرجہا زیادہ ہوتی ہے اور گندھک اور گندھک ملے دوسرے تمام جمادات اور پتھروں کی قسم کے شعلہ گیر مادے بھی۔ جو آگ کی حرارت میں شدت پیدا کر دیتے ہیں۔
[14] جہنم پر مقرر کردہ فرشتوں کی تین صفات مذکور ہوئیں ایک یہ کہ وہ سخت دل ہیں، انہیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ دوسرے سخت گیر ہیں، جو عذاب دیں گے، پوری سختی اور قوت کے ساتھ دیں گے۔ تیسرے وہ دوزخیوں کی چیخ و پکار اور التجاؤں کا کوئی اثر قبول نہ کریں گے، بلکہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ کی طرف سے انہیں حکم ملا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں ٭٭
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ارشاد ربانی ہے کہ ’ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ ‘۔ [مستدرک حاکم:494/2:ضعیف]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔‏‏‏‏
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔‏‏‏‏ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔‏‏‏‏
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ }، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]‏‏‏‏
جہنم کا ایندھن ٭٭
فقہاء کا فرمان ہے کہ اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہیئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے، اطاعت کے بجا لانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔‏‏‏‏
ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:98]‏‏‏‏ ’ تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو ‘، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔
ایک رویات میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحریم:6]‏‏‏‏ الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:14]‏‏‏‏ یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو }، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
جہنم کے فرشتے ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے ’ اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لیے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں، جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے ‘۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔‏‏‏‏
قیامت کے دن کوئی عذر قبول نہیں ٭٭
قیامت کے دن کفار سے فرمایا جائے گا کہ ’ آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو، کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی، تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا ‘۔
پھر ارشاد ہے کہ ’ اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے ‘۔
نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔‏‏‏‏ ۱؎ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف]‏‏‏‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اے وہ لوگو جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے! ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے ﴿ قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِیْكُمْ نَارًا اپنے آپ کواور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے، اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا، اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں، جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف کے تحت ہوں، اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف اس لیے بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ جیسا کہ فرمایا:﴿ اِنَّـكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ (الانبیاء: 21؍98) تم اور تمھارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرعبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں،تمھیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔ ﴿عَلَیْهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔ ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت اور ان کا انتقام بہت برا ہو گا، جہنمی ان کی آوازیں سن کرگھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے، یہ فرشتے اپنی طاقت و قوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ﴿ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ اللہ انھیں جو حکم دیتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انھیں ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کے سر تسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا ذکر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يا مَن منَّ الله عليهم بالإيمان! قوموا بلوازمه وشروطه، فَـ {قُوا أنفسكم وأهليكم ناراً} موصوفةً بهذه الأوصاف الفظيعة، ووقاية الأنفس بإلزامها أمر الله امتثالاً ونهيه اجتناباً والتوبة عمَّا يُسْخِطُ الله ويوجب العذاب، ووقاية الأهل والأولاد بتأديبهم وتعليمهم وإجبارهم على أمر الله؛ فلا يسلم العبد إلاَّ إذا قام بما أمر الله به في نفسه وفيمن تحت ولايته من الزوجات والأولاد وغيرهم ممَّن هم تحت ولايته وتصرُّفه، ووصف الله النار بهذه الأوصاف؛ ليزجر عباده عن التَّهاون بأمره، فقال: {وَقودها الناسُ والحجارةُ}؛ كما قال تعالى: {إنَّكم وما تعبُدونَ مِن دونِ اللهِ حَصَبُ جهنَّم أنتم لها وارِدونَ}، {عليها ملائكةٌ غلاظٌ شدادٌ}؛ أي: غليظةٌ أخلاقُهم، شديدٌ انتهارُهم يفزعون بأصواتهم ويزعجون بمرآهم ويهينون أصحابَ النار بقوَّتهم، وينفِّذون فيهم أمرَ الله الذي حتم عليهم بالعذاب ، وأوجب عليهم شدَّة العقاب، {لا يعصونَ اللهَ ما أمَرَهم ويفعلون ما يُؤمرونَ}: وهذا فيه أيضاً مدحٌ للملائكة الكرام، وانقيادهم لأمر الله، وطاعتهم له في كلِّ ما أمرهم به.