تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴) کی تفسیر۔
➌ {عَلَيْهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ …: ” غِلَاظٌ “ ”غَلِيْظٌ“} کی جمع ہے، سخت دل والے، بے رحم اور {” شِدَادٌ “ ”شَدِيْدٌ“} کی جمع ہے، سخت قوت والے، نہایت مضبوط۔ یہاں جہنم پر مقرر فرشتوں کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) وہ نہایت سخت دل ہیں، انھیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ (2) سخت قوت والے ہیں، کوئی ان کی گرفت سے نکل نہیں سکے گا۔ (3) اللہ تعالیٰ انھیں جو حکم بھی دے اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔ (4) اور وہ کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرتے، بلکہ وہی کرتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس لحاظ سے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کرے ورنہ اس سے باز پرس ہو گی۔
[13] پتھر سے مراد وہ پتھروں کے بت بھی ہیں جن کی مشرک دنیا میں پوجا کرتے رہے ہیں۔ تاکہ مشرکوں کی حسرت و یاس میں مزید اضافہ ہو اور پتھری کوئلہ بھی جس میں آگ کی حرارت کی شدت عام کوئلہ سے بدرجہا زیادہ ہوتی ہے اور گندھک اور گندھک ملے دوسرے تمام جمادات اور پتھروں کی قسم کے شعلہ گیر مادے بھی۔ جو آگ کی حرارت میں شدت پیدا کر دیتے ہیں۔
[14] جہنم پر مقرر کردہ فرشتوں کی تین صفات مذکور ہوئیں ایک یہ کہ وہ سخت دل ہیں، انہیں کسی پر رحم نہیں آئے گا۔ دوسرے سخت گیر ہیں، جو عذاب دیں گے، پوری سختی اور قوت کے ساتھ دیں گے۔ تیسرے وہ دوزخیوں کی چیخ و پکار اور التجاؤں کا کوئی اثر قبول نہ کریں گے، بلکہ وہی کچھ کریں گے جو اللہ کی طرف سے انہیں حکم ملا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ کے فرمان بجا لاؤ، اس کی نافرمانیاں مت کرو، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو۔“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو، ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو، نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔“ ضحاک و مقاتل رحمہا اللہ فرماتے ہیں ”ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے، کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی، غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے۔“
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو، جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ }، یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔ [مسند احمد:404/3:صحیح]
ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں، ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے، پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہو گی؟ پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی جیسے اور جگہ ہے «إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ» ۱؎ [21-الانبیاء:98] ’ تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو ‘، یا گندھک کے نہایت ہی بدبودار پتھر ہیں۔
ایک رویات میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» ۱؎ [66-التحریم:6] الخ کی تلاوت کی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعض اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے“، انہیں یہ سن کر غشی آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آواز دی کہ اے شیخ کہو «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» اس نے اسے پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کی خوشخبری دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، دیکھو قرآن میں ہے «ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:14] یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو“ }، یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازے پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں، کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، سخت بے رحم ہیں، ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا، اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں، پھر دروازے پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے، پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔“
پھر ارشاد ہے کہ ’ اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے ‘۔
نعمان بن بشیر رحمہ اللہ نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ ”لوگو! میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم490/2:ضعیف]
اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے قریب مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے جو ضعیف ہے اور ٹھیک یہی ہے کہ وہ بھی موقوف ہی ہے۔ [مسند احمد:446/1:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يا مَن منَّ الله عليهم بالإيمان! قوموا بلوازمه وشروطه، فَـ {قُوا أنفسكم وأهليكم ناراً} موصوفةً بهذه الأوصاف الفظيعة، ووقاية الأنفس بإلزامها أمر الله امتثالاً ونهيه اجتناباً والتوبة عمَّا يُسْخِطُ الله ويوجب العذاب، ووقاية الأهل والأولاد بتأديبهم وتعليمهم وإجبارهم على أمر الله؛ فلا يسلم العبد إلاَّ إذا قام بما أمر الله به في نفسه وفيمن تحت ولايته من الزوجات والأولاد وغيرهم ممَّن هم تحت ولايته وتصرُّفه، ووصف الله النار بهذه الأوصاف؛ ليزجر عباده عن التَّهاون بأمره، فقال: {وَقودها الناسُ والحجارةُ}؛ كما قال تعالى: {إنَّكم وما تعبُدونَ مِن دونِ اللهِ حَصَبُ جهنَّم أنتم لها وارِدونَ}، {عليها ملائكةٌ غلاظٌ شدادٌ}؛ أي: غليظةٌ أخلاقُهم، شديدٌ انتهارُهم يفزعون بأصواتهم ويزعجون بمرآهم ويهينون أصحابَ النار بقوَّتهم، وينفِّذون فيهم أمرَ الله الذي حتم عليهم بالعذاب ، وأوجب عليهم شدَّة العقاب، {لا يعصونَ اللهَ ما أمَرَهم ويفعلون ما يُؤمرونَ}: وهذا فيه أيضاً مدحٌ للملائكة الكرام، وانقيادهم لأمر الله، وطاعتهم له في كلِّ ما أمرهم به.