امام نسائی رحمہ اللہ کا قول اور ان کی شہادت کا واقعہ: انجینئر مرزا کے دعوے کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

امام نسائی رحمہ اللہ کا قول اور ان کی شہادت کا واقعہ:

ہمارے جناب مرزا انجینئر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کو مشکوک اور غیر ثابت بنانے کی کوشش میں امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ایک واقعہ کا بھی چرچا کیا کرتے ہیں، آپ اپنے کئی لیکچرز میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ: امام نسائی رحمہ اللہ دمشق میں گئے وہاں لوگ تین سو سال گزرنے کے بعد بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کرتے تھے! (ایک لیکچر میں کہا: منبروں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہتے تھے)، امام نسائی رحمہ اللہ کو بڑا غصہ آیا، انہوں نے ارادہ کیا کہ میں علی کے فضائل پر کتاب لکھوں، تو انہوں نے ایک کتاب لکھی ”خصائص علی رضی اللہ عنہ“، تو وہاں لوگوں نے کہا کہ حضرتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں بھی کوئی حدیث بیان کریں! تو انہوں نے پہلے میرے والی بات کی کہ میری زبان بند ہی رہنے دو، تو وہاں کے لوگوں نے اصرار کیا کہ آپ بتائیں، تو امام صاحب نے فرمایا کہ اللہ معاویہ کو صحابی ہونے کی وجہ سے چھوڑ دے تو تمہارے لیے کافی نہیں؟ اور پھر کہا کہ مجھے تو معاویہ کے بارے میں صرف ایک صحیح حدیث کا پتہ ہے جو صحیح مسلم میں موجود ہے کہ اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے، پس اتنی بات تھی کہ ناصبی ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو اتنا مارا کہ ان کی شرمگاہ پر بھی ضربیں لگائیں حتیٰ کہ وہ قریب المرگ ہو گئے پھر ان کو ان کی خواہش کے مطابق مکہ لے جایا گیا اور وہاں ہی ان کو دفن کیا گیا۔
IMAAM NISAAI ki SHAHADAT
انہی سے ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ یہ واقعہ مرزا صاحب کئی مرتبہ بیان کر چکے ہیں، اسی لیے اسے ایک ہی عبارت میں اختصار واجمال کے ساتھ نقل کر دیا گیا ہے! اب اس واقعہ کو بیان کر کے بھی مرزا صاحب لوگوں کو یہی تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”امام نسائی رحمہ اللہ“ کے نزدیک بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کوئی فضیلت مروی نہیں۔ مگر مرزا صاحب پر افسوس کہ کس طرح وہ صحیح سند سے مروی احادیث کا رد غیر مستند اقوال و واقعات سے کرتے پھر رہے ہیں! حالانکہ یہ ایسے انسان ہیں کہ جو نعرے لگایا کرتے ہیں: میرے نبی سا ہے ہی کوئی نئ، بابے تے شے ای کوئی نئ! اب ہم مرزا صاحب اور ان کے چاہنے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اگر تمام روایات ضعیف ہیں تو بجائے وجہ ضعف بیان کرنے کے ان بابوں کے حوالے دیے جا رہے ہیں؟ اور جو اقوال پیش کر رہے ہو وہ بذات خود ضعیف ہیں! اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا صاحب بھی ایسے واقعات کو مستند اور صحیح قرار نہیں دیتے، کہ کبھی کہا ہو کہ اسکی سند صحیح ہے! آخر کیوں نہیں کہتے؟ اس لیے کہ انہیں بھی معلوم ہے کہ اس کی سند صحیح نہیں!
اچھا جب واقعہ ضعیف سند سے منقول ہے اور ضعف بھی ایسا کہ ایسی روایات کو مرزا صاحب جعلی یا جھوٹی روایات سے تعبیر کرتے ہیں، تو اب مرزا صاحب کو اسے کسی نا کسی طریقے سچ ثابت کرنا تھا، پھر آپ نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا، اور وہ یہ کہ آپ اس واقعہ کو متواتر قرار دینے لگے، مرزا صاحب کی یہ عادت مبارکہ ہے کہ جب واقعہ جھوٹا اور بے سند ہو تو اس پر اجماع یا تواتر کا جھوٹا دعویٰ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ان سے کسی سائل نے اس واقعے کی دلیل کے متعلق پوچھنا چاہا تو آپ بول اٹھے:

”تواتر سے نقل ہوا ہے سر! ہمیں بتائیں کہ دنیا میں کسی محدث نے امام نسائی کی شہادت کے (اس) واقعے کا انکار کیا ہو؟ اسماء الرجال کی کتابوں میں تواتر سے یہ واقعہ نقل ہوا ہے، سندوں کو پھلانگنے کی ضرورت ہی نہیں…………“

Imam Nisai per Tashaddud waly waqiya ki daleel kiya ha
لیجیے اس واقعے کے اثبات کی دلیل! کتنا آسان ہے نا کسی بھی غیر مستند بات کو صحیح ثابت کرنا کہ اس پر تواتر جیسا دعویٰ کر دیا جائے، اور انجینئر صاحب تو اکثر ایسے جھوٹے دعوے کرتے رہتے ہیں! دیکھیں یہاں تواتر کا اتنا بڑا دعویٰ تو کر دیا گیا مگر کس دلیل کی بنیاد پر؟ نا تو واقعہ کی دلیل بیان کی، اور اس کے ثبوت میں جو دعویٰ کیا اس کی بھی کوئی دلیل نہیں، سبحان اللہ! یہ اسی طرح ہے کہ کوئی پوچھے:
سوال: تمہارا گھر کہاں ہے؟
جواب: مسجد کے سامنے!
سوال: تو مسجد کہاں ہے؟
جواب: جی میرے گھر کے سامنے!
سوال: اور یہ دونوں کہاں ہیں؟
جواب: آمنے سامنے!
اب نا پتہ چلے گھر کہاں ہے نا پتہ چلے مسجد کہاں ہے۔ اسی طرح انجینئر صاحب کے جواب کا معاملہ ہے، ایک بے دلیل چیز کی دلیل دے رہے ہیں، اور جو دلیل دے رہے ہیں وہ بھی بے دلیل ہے۔ تو مرزا صاحب نے جو دعویٰ کیا ہے وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے، یہ واقعہ متواتر ہرگز نہیں! اگر ہے تو دلیل مرزا صاحب کے ذمے ہے کہ اسے متواتر ثابت کریں، اور کس محدث نے اسے متواتر قرار دیا ہے بیان کریں۔
جناب! آپ کو تواتر کی تعریف اور اس کی شرائط کا پتہ بھی ہے؟ متواتر کوئی چیز تب کہلاتی ہے کہ جب ہر ہر دور میں اسے محدثین کی ایک کثیر تعداد بیان کرنے والی ہو۔ اب اسے ملحوظ رکھتے ہوئے کریں پیش حوالے کہ ہمارے اس دور سے لے کر امام نسائی کے دور تک کے تمام ادوار میں یہ قصہ ایک کثیر تعداد نے نقل کیا ہو۔
اور پھر آپ کا یہ مطالبہ بھی عجیب ہے کہ کسی محدث نے اس واقعے کو ضعیف کہا ہو۔ بھئی پہلے آپ متواتر تو ثابت کریں! یہ معاملہ الگ ہے کہ کسی نے اسے ضعیف کہا یا نہیں۔ اور کیا کسی واقعے کے ضعیف ہونے کا ضابطہ یہ ہے کہ اسے کسی نا کسی محدث نے ضعیف کہا ہو؟ ذرا یہ اصول بھی کہیں سے پیش کرنے کی زحمت فرمائیں! کہ تاریخ کا صرف وہی واقعہ ضعیف وغیر معتبر ہے جسے کوئی محدث ضعیف کہے ورنہ باقی ساری تاریخ ہی مستند ہے! آپ کا ہم سے مطالبہ کرنا نہیں بنتا کہ ہم پیش کریں کہ اسے کسی نے ضعیف کہا ہو، کیوں کہ مدعی آپ ہیں، واقعہ آپ بیان کر رہے ہیں تو دلیل آپ کے ذمے ہے کہ آپ اسے صحیح سند سے ثابت کریں۔ اور جب واقعہ کی سند ہمارے پاس موجود ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ فلاں علت کے سبب ضعیف ہے، تو کیا اب بھی یہ ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ کسی محدث نے اسے ضعیف کہا ہو؟ پھر جناب! آپ تو بابی بالکل نہیں آپ تو علمی کتابی ہیں، پھر آپ کا تو یہ مطالبہ ہرگز نہیں بنتا۔ محدثین ہی نے اسناد کے حوالے سے اصول وضوابط طے کیے ہیں، انہی نے بتایا ہے کہ اگر سند میں فلاں فلاں خرابی ہو گی تو وہ ضعیف کہلائے گی! اب یہاں پر انکی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، اور ان کے متعلق یہ مطالبہ لغو اور فضول کہلاتا ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں واقعے کو ضعیف قرار دیا یا نہیں؟
مزید تسلی کے لیے عرض ہے کہ انجینئر صاحب کے نزدیک بڑی معتبر اور علمی شخصیت، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ہیں، انجینئر صاحب انہیں جگہ جگہ محدث قرار دیتے ہیں، یہاں تک کہ پاکستان کا سب سے بڑا محدث آپ شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کو ہی مانتے ہیں، تو وہ بھی اس واقعہ کو ضعیف اور غیر ثابت قرار دیتے ہیں، چنانچہ آپ اپنے تحقیقی مقالے میں اس کی حقیقت واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”(امام) حاکم نیشاپوری رحمہ اللہ نے فرمایا:
فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَشَايِخَنَا بِمِصْرَ يَذْكُرُونَ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَارَقَ مِصْرَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ، وَخَرَجَ إِلَى دِمَشْقَ، فَسُئِلَ بِهَا عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَمَا رُوِيَ مِنْ فَضَائِلِهِ، فَقَالَ: لَا يَرْضَى مُعَاوِيَةُ رَأْسًا بِرَأْسٍ حَتَّى يُفَضَّلَ، قَالَ: فَمَا زَالُوا يَدْفَعُونَ فِي حِضْنَيْهِ حَتَّى أُخْرِجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ حُمِلَ إِلَى الرَّمْلَةِ، وَمَاتَ بِهَا سَنَةَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، وَهُوَ مَدْفُونٌ بِمَكَّةَ۔
”پس مجھ سے محمد بن اسحاق (بن محمد بن یحیی بن مندہ) الاصبہانی نے بیان کیا: میں نے مصر میں اپنے استادوں کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابو عبدالرحمٰن (النسائی) نے آخری عمر میں مصر کو الوداع کہا اور دمشق کی طرف چلے گئے تو وہاں اُن سے معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں پوچھا گیا اور ان کے فضائل کی روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: کیا معاویہ اس پر راضی نہیں کہ ان کا معاملہ برابر برابر ہو جائے؟ چہ جائے کہ انھیں فضیلت دی جائے؟! کہا: لوگ انھیں سینے (یا خصیوں) پر مارتے رہے حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکال دیئے گئے پھر انھیں اٹھا کر مکہ لے جایا گیا اور وہ وہیں 303ھ میں فوت ہوئے اور مکہ میں دفن ہوئے۔“ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم، ص83 ح182)
اس روایت کی سند میں ”مشائخنا“ سارے مشائخ مجہول ہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے اور اس پر حافظ ابن عساکر کا حاشیہ (تہذیب الکمال:45/1) بے فائدہ ہے۔
اس روایت کو حافظ ذہبی نے بغیر کسی سند کے ابن مندہ عن حمزہ العقبی المصری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ (سیر اعلام النبلاء:132/14)۔
یہ روایت بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
اور محدث زبیر علی زئی صاحب نے مزید فرمایا: یہ وہ روایات ہیں جنہیں بعض علماء اور واعظین مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں، مثلاً شاہ عبدالعزیز دہلوی نے امام
نسائی کے بارے میں لکھا ہے:
”ان کی موت کا واقعہ یہ ہے کہ……………..۔“
تو یہ سارا بیان زیب داستان ہے اور باسند صحیح ہرگز ثابت نہیں! اور آپ رحمہ اللہ نے مزید لکھا: اگر کوئی شخص کہے کہ ان قصوں میں صحیح یا حسن سند کا ہونا ضروری نہیں تو عرض ہے کہ یہ اصول غلط ہے اور اس کے مختصر رد کے لئے دیکھئے میرا مضمون: امام مسلم رحمہ اللہ کی وفات کا سبب؟ (مقالات: ج6 ص269)
اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ امام نسائی کے بارے میں بستان المحدثین وغیرہ کا قصہ اصولِ محدثین کی رُو سے باسند صحیح ہرگز ثابت نہیں اور نہ امام نسائی کا شیعہ ہونا کہیں ثابت ہے، بلکہ وہ اہلِ سنت کے جلیل القدر اماموں میں سے تھے۔ رحمہ اللہ“ (تحقیقی مقالات: جلد6، ص275-272)
یہ لیں محدث زبیر رحمہ اللہ نے نا صرف اس کو دلائل سے غیر ثابت اور ضعیف کہا بلکہ اسے بیان کرنے والوں کی بھی گرفت کی! اور آپ کا دارالسلام والوں کا نام لے کر اس واقعہ کی مشہوری کروانا بھی باطل ٹھہرا، کیوں کہ آپ کے نزدیک وہ محدث اعظم ہیں، اور آپ کے بقول وہ اہل حدیث کے سب سے بڑے محقق اور عالم ہیں، تو انکے اور دیگر کئی اہل علم کے رد اور اصلاح کرنے سے اب دارالسلام کی غلطی کو ڈھال بنانا کہ انہوں نے تو امام نسائی کے حالات زندگی میں ان کی وفات کے تحت واقعہ ہی یہی بیان کیا، کوئی فائدہ مند نہیں۔ اور شیخ زبیر صاحب کی اس تصریح جو آپ نے اس تحریر کے اخیر میں فرمائی سے آپ کی اس بات کا بھی رد ہو گیا کہ جو آپ نے کہا کہ اس واقعے کی سند وغیرہ کی بحث ضروری نہیں۔
مولانا غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے بھی اس واقعہ کو ضعیف اور غیر ثابت کہا، اور فرمایا کہ اس میں مجہول اور غیر معتبر راوی موجود ہیں: (دفاع صحابہ:484)
پھر مرزا صاحب کا یہ دعویٰ کرنا بھی انتہائی گھناؤنا جھوٹ ہے کہ تمام اسماء الرجال کی کتابوں میں تواتر کے ساتھ یہ واقعہ نقل ہوا ہے، جناب ذرا ہمت کریں اور ان تمام کتب کا نام اور ان میں جہاں وہ واقعہ بیان ہوا وہ جگہ اور پھر ہر ہر دور میں اسماء الرجال کی کتب سے اسکا ثبوت پیش کر کے دکھائیں! کیوں کہ آپ کا دعویٰ ”تمام کتب“ اور ”تواتر سے ثابت ہے“ یہی تقاضا کرتا ہے۔
ایک ویڈیو میں انجینئر صاحب کہتے ہیں: ”امام نسائی کی شہادت کا یہ واقعہ تواتر کے ساتھ تمام أئمہ اہل سنت نے ”امام ذہبی“ ہوں (اور) باقی أئمہ نے نقل کیا ہے!“
IMAAM NISAAI ki SHAHADAT رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کسی ایک جگہ پر نہیں کیا، بلکہ بار بار کہتے ہیں کہ تمام ائمہ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے! اور نام صرف ذہبی کا ہی لیتے ہیں۔
Imam Nisai R.T.A ki Shahadat kay Waqiya Mein Ahle Hadees aur Engineer sab mein Ikhtilaf Kiyon? – 6:25
مختلف ویڈیوز میں مختلف جگہوں پر ایک ہی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تمام أئمہ نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے، مگر حوالے کتنے أئمہ کے دیے جاتے ہیں؟ صرف ایک! کیا تمام أئمہ سے مراد فقط امام ذہبی رحمہ اللہ ہی ہیں؟ ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ سرا سر بے بنیاد اور جھوٹا ہے، اگر تمام أئمہ نے اسے نقل کیا ہے تو ہر مرتبہ مرزا صاحب کے منہ سے صرف ایک ہی نام کیوں نکلتا ہے؟ اور یہ بھی یاد رہے امام ذہبی ہوں یا انکے علاوہ جتنے بھی مؤرخین ہیں انہوں نے اپنی کتب میں ہرگز، ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم صرف صحیح و مستند تاریخ اور واقعات بیان کریں گے! لہٰذا چند کتب تاریخ میں کسی بات کا ذکر اس کی تصحیح و توثیق کی دلیل بالکل نہیں ہوا کرتا، اور پھر ہمارے انجینئر صاحب بھی اس بات سے منحرف نہیں! لہٰذا امام ذہبی رحمہ اللہ کا حوالہ بھی بے کار ہے۔
اور توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس واقعہ میں بیان ہوا ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ مکہ میں فوت ہوئے اور مکہ ہی میں آپ کی تدفین کی گئی! اور انجینئر صاحب کی سب سے پہلی ذکر کردہ ویڈیو میں ہے کہ آپ کی شہادت دمشق میں ہوئی۔ مگر دوسری طرف امام نسائی رحمہ اللہ کے شاگرد امام عبدالرحمٰن بن احمد بن یونس المصری رحمہ اللہ بھی اپنے استاد امام النسائی رحمہ اللہ کی وفات کا ذکر کرتے ہیں، چنانچہ امام ذہبی رحمہ اللہ نے جہاں امام نسائی کا زیرِ بحث واقعہ نقل کیا، اسکے بعد لکھتے ہیں:
قَالَ أَبُو سَعِيْدِ بنُ يُوْنُسَ فِي تَارِيْخِهِ: كَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ إِمَامًا حَافِظًا ثَبْتًا، خَرَجَ مِنْ مِصْرَ فِي شَهْرِ ذِي القَعْدَةِ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْنِ وَثَلاَثِ مائَةٍ، وَتُوُفِّيَ بِفِلَسْطِيْنَ فِي يَوْمِ الاثْنَيْنِ لِثَلاَثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ صَفَرٍ، سَنَةَ ثَلاَثٍ۔ قُلْتُ: هَذَا أَصَحُّ، فَإِنَّ ابْنَ يُوْنُسَ حَافِظٌ يَقِظٌ وَقَدْ أَخَذَ عَنِ النَّسَائِيِّ، وَهُوَ بِهِ عَارِفٌ۔
”ابوسعید بن یونس اپنی تاریخ (کی کتاب) میں کہتے ہیں: امام ابوعبدالرحمٰن النسائی رحمہ اللہ حافظ، ثبت اور امام تھے! آپ ذو القعدہ کے مہینے میں 302ھ میں مصر سے نکلے، اور آپ سوموار کے دن 13 صفر/303ھ کو ”فلسطین“ میں فوت ہوئے۔
میں (حافظ ذہبی) کہتا ہوں کہ یہ روایت اس سے درست ہے، کیوں کہ ابن یونس حافظ، (اور اس فن میں) محتاط و چوکنے تھے، اور وہ امام نسائی رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہیں، اور وہ امام نسائی رحمہ اللہ کو زیادہ جاننے والے ہیں!“ (سیر اعلام النبلاء:133/14)
اب امام نسائی رحمہ اللہ کا اپنا شاگرد اپنے استاد صاحب رحمہ اللہ کی وفات کا ذکر کر رہا ہے، اور ان کے بقول امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات فلسطین میں ہوئی! فیصلہ کریں کس کی بات زیادہ معتبر ہوگی، وہ بات جو مجہول لوگ بیان کریں، یا وہ جسے خود امام نسائی رحمہ اللہ کا اپنا شاگرد بیان کرے؟
اور مزید یہ کہ امام ذہبی رحمہ اللہ ہی نے امام ”الطحاوی“ رحمہ اللہ سے اسی جیسا قول نقل کیا: (تذہیب تہذیب الکمال:153/1)۔ جس سے مرزا صاحب کے بیان کردہ واقعے کا بطلان ثابت ہوتا ہے۔
پھر یہاں ایک قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ انہوں (امام ابن یونس المصری) نے امام نسائی رحمہ اللہ کی وفات کا ذکر کیا مگر وہ ضعیف قصہ جسے مرزا صاحب پیش کرتے ہیں کو تو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا! تو اس سے ہمارے مدعے کو مزید تقویت ملتی ہے کہ وہ واقعہ ضعیف ہے، صحیح ثابت نہیں! اور اس سے جناب انجینئر صاحب کے اس باطل اور جھوٹے دعوے کا بھی صاف رد ہوتا ہے کہ اس واقعہ کو تمام أئمہ نے نقل کیا ہے، بھئی تمام کی بات تو چھوڑیں، خود امام نسائی رحمہ اللہ کا شاگرد اپنے استاد کی وفات کے ذکر میں وہ قصہ بیان نہیں کر رہا، جسکے متعلق امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ امام نسائی کو زیادہ جاننے والے تھے وغیرہ وغیرہ!
یہیں بس نہیں، آگے چلیے! امام نسائی رحمہ اللہ کا یہ ضعیف قول اور واقعہ تو مرزا صاحب مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں، مگر خود امام نسائی رحمہ اللہ ہی سے جو قول جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں منقول ہے، کبھی وہ بھی بیان کیا ہے؟ نہیں کبھی نہیں! کیوں کہ آپ کے نصاب میں ایسی باتیں ہیں ہی نہیں، آپ کا تو کام حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق صرف منفی تاثرات دینا اور لوگوں کو ان سے بدظن کرنا ہے، اور خصوصاً حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق، اس کے لیے چاہے آپ کو ایمانداری، اور صداقت جیسے اوصاف کی دھجیاں اڑانی پڑیں۔ خیر، امام نسائی رحمہ اللہ سے جو قول صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خصوصی طور پر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں منقول ہے، ملاحظہ فرمائیں! امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے فرمایا:
روى عن أبي عبد الرحمٰن النسائي أنه سئل عن معاوية بن أبي سفيان صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إنما الإسلام كدار لها باب. فباب الإسلام الصحابة. فمن آذى الصحابة إنما أراد الإسلام، كمن نقر الباب إنما يريد دخول الباب. قال: فمن أراد معاوية فإنما أراد الصحابة۔
”امام ابوعبدالرحمٰن النسائی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے متعلق سوال کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ اسلام کی مثال ایسے ہے جیسے ایک دروازے والا گھر ہو، پس اسلام کا دروازہ صحابہ ہیں، اور جس نے صحابہ کو اذیت دی اس نے اسلام پر جرأت کی، جیسے کوئی دروازے پر دستک دینے والا دروازے سے گھسنا چاہتا ہے، اور فرمایا: جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص یا آپ پر تنقید کرتا ہے وہ اصل میں تمام صحابہ پر تنقید کرتا ہے!“ (تاریخ دمشق لابن عساکر: ج71، ص/176-175)
امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ایک جگہ یہی قول امام نسائی رحمہ اللہ سے انکی وفات والے غیر ثابت قصے کے متصل بعد ذکر کیا: [تذہیب تہذیب الکمال:153/1]، آخر وہ کیا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اور آپ کیا تاثر دینے کے لیے یہ سب بھاگ دوڑ کر رہے ہیں؟
تف ہے مرزا صاحب! پہلے تو صحیح روایات کا رد ضعیف اقوال و واقعات سے کر رہے ہیں، اور پھر اسے ثابت کرنے کے لیے تواتر کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے، اور انکی اسانید کے ہونے یا نا ہونے کو غیر ضروری کہا جا رہا ہے، (حالانکہ صحیح الاسناد روایات کی ترغیب آپ خود لوگوں کو دلاتے پھرتے ہیں، اور تاریخی بے سند اور ضعیف روایات سے کلی طور پر براءت کا اعلان کرتے ہیں)، پھر تواتر کا دعویٰ تو کہیں رہ گیا، اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے آپ کو یہ جھوٹا دعویٰ بھی کرنا پڑ گیا کہ ”تمام أئمہ اہل سنت“ نے ”اسماء رجال“ کی تمام کتب میں امام نسائی رحمہ اللہ کی شہادت کا یہ واقعہ نقل کیا، اور پھر تمام میں سے نام بھی لیتے ہیں تو بس ذہبی رحمہ اللہ کا، اور پھر امام ذہبی رحمہ اللہ کے اسلوب اور منہج جو آپ رحمہ اللہ نے اس واقعہ کے متعلق اختیار کیا اس کی آپ بالکل مخالفت کر رہے ہیں، اور اس ضعیف قصے کو misuse وہ بھی ذہبی کا نام لے کر کر رہے ہیں۔ اس پر ہم تو کچھ کہنے سے قاصر ہیں، ہاں معاملہ عوام اور انجینئر صاحب کے محبین کے حوالے کرتے ہیں، وہ خود فیصلہ فرما لیں کہ مرزا محمد علی انجینئر صاحب عدل و انصاف اور صداقت کے کس منصب پر فائز ہیں!