سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل اور مرزا صاحب کے شبہات واعتراضات
ہم نے صحیح اسانید کی روشنی میں فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت روایات نقل کیں ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فضیلت ومنقبت حاصل ہے، مگر کیسے ممکن ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے حق میں کچھ منقول ہو اور ہمارے جناب انجینئر صاحب کو وہ راس آجائے، یہی وجہ ہے کہ آپ ان فضائل کو جھٹلانے کی ممکنہ حد تک کوشش کرتے ہیں۔ کبھی تو بلا دلیل ان میں سے بعض کو غیر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسکے لیے چند غیر ثابت اقوال کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ آپ نا ہی بابی ہیں نا ہی مقلد! تو چاہیے تو یہ کہ ہماری پیش کردہ روایات کا تحقیقی طور پر جواب دیتے کہ فلاں حدیث اگر ضعیف ہے تو اس علت کی وجہ سے، فلاں اگر صحیح نہیں تو اس میں یہ ضعف ہے، مگر کبھی آپ کو اس کی زحمت نہیں ہوئی! اور جو بالاتفاق صحیح ہیں ان کے بارے میں بھی آپ آئیں بائیں شائیں کرتے ہی نظر آتے ہیں، اور اسکے باوجود آپ خود کو سینہ تان کر ایک منصف انسان گردانتے ہیں۔ اور انہیں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی بغض بھی نہیں ہے۔
نوٹ: ذیل میں ہم مرزا صاحب کے جن دلائل پر تبصرہ کریں گے وہ آپ کی ویڈیو ”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ائمہ اہلسنت“ (42:40 کے دورانیے) سے ماخوذ ہیں۔
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا قول:
فتح الباری کے حوالے سے مرزا صاحب آپ رحمہ اللہ سے یہ قول پیش کیا کرتے ہیں:
عن إسحاق بن راهويه أنه قال: لم يصح في فضائل معاوية شيء۔
”امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ: فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ میں کوئی روایت صحیح نہیں۔“ (فتح الباری، تحت حدیث: 3766)
فتح الباری میں اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ مرزا صاحب نے اس مقام پر اپنی انصاف پسندی کا دوہرا مظاہرہ کیا ہے، ایک تو یہ کہ آپ بابی نہیں جیسا کہ آپ خود جھوم جھوم کر بار بار اعلان کرتے ہیں، تو صحیح روایات کو چھوڑ کر ایک بابے کے قول کو پکڑے ہوئے ہیں، چلیں ان روایات کو آپ ضعیف تو ثابت نہیں کر پائے تو جس قول کی بنیاد پر انہیں ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کم ازکم اسی کو صحیح سند سے پیش فرما دیتے، مگر نہیں!
عرض ہے کہ امام اسحاق رحمہ اللہ سے یہ قول صحیح سند کے ساتھ منقول نہیں، امام ابن عساکر رحمہ اللہ نے جس سند سے اسے نقل کیا وہ ملاحظہ فرمائیں:
كتب إلي أبو نصر بن القشيري أنا أبو بكر البيهقي أنا أبو عبد الله الحافظ قال سمعت أبا العباس الأصم يقول سمعت أبي يقول سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظلي يقول لا يصح عن النبي (صلى الله عليه وسلم) في فضل معاوية بن أبي سفيان شيء۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر: 106/59)
اس میں ابو العباس اصم اپنے والد سے روایت کر رہے ہیں، مگر ان کے والد مجہول الحال ہیں، ان کی توثیق نہیں ملتی، اور وہی اکیلے ہیں جو امام اسحاق رحمہ اللہ سے یہ قول نقل کرتے ہیں، لہٰذا اصولی طور پر تو یہ قول بلحاظ سند ونقل ضعیف ٹھہرا! مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے، آپ کے الفاظ یہ ہیں:
”قول ثابت نہیں، اس کی سند میں ابو العباس اصم کے والد یعقوب بن یوسف بن معقل، ابوفضل، نیشاپوری کی توثیق نہیں ملی“
(دفاع صحابہ 484)
اب مرزا صاحب اگر واقعی منصف اور علمی کتابی ہیں، بابی نہیں، تو اس مجہول الحال راوی کی توثیق ثابت کریں کہ کسی نے اسے صراحت کے ساتھ ثقہ کہا ہو وگرنہ اس قول سے دھوکہ دینا بند کر دیں۔ یاد رہے مرزا صاحب ہمیں اس راوی کی توثیق مطلوب ہے، اس کے علاوہ اگر آپ یہ کوشش کرتے پھریں کہ جی اس قول کو فلاں نے بھی اپنی کتاب میں نقل کیا اور فلاں نے بھی، تو یہ بے کار ہو گا!
اور امام ابن عساکر رحمہ اللہ کی بھی سن لیں کہ ان کے ہاں امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب اس ضعیف قول کی کیا اہمیت ہے۔ چنانچہ آپ رحمہ اللہ نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے ضمن میں اپنی سند سے امام صاحب رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا جیسا کہ اوپر گزرا، پھر اس کے متصل بعد فرمایا:
وأصح ما روي في فضل معاوية حديث أبي حمزة عن ابن عباس أنه كاتب النبي صلى الله عليه وسلم فقد أخرجه مسلم في صحيحه، وبعده حديث العرباض اللهم علمه الكتاب، وبعده حديث ابن أبي عميرة اللهم اجعله هاديا مهديا۔
”سب سے صحیح روایت جو معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی ہے وہ یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے، اور اس کے بعد حضرت عرباض کی حدیث، اور اسکے بعد (جو صحیح حدیث) مروی ہے وہ ابن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: اے اللہ اسے ہادی ومہدی بنا۔“ (تاریخ دمشق: 106/59)
لیجیے خود ہی امام اسحاق بن راہویہ کا قول نقل کر کے اسکی مخالفت کر رہے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس قول کی کیا حیثیت ہے۔ مرزا صاحب! اگر یہ بسند صحیح ثابت بھی ہو جائے تو آپ اسے ہماری بیان کردہ احادیث کے خلاف پیش نہیں کر سکتے، وہ اس لیے کہ اگر امام اسحاق رحمہ اللہ نے مجموعی طور پر فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے تو اس بات کی کیا دلیل ہے کہ انکی نظر میں یہ صحیح احادیث بھی تھیں جو ہم بیان کرتے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے یا نہیں کہ ان تک یہ احادیث نا پہنچی ہوں، یا وہ ان صحیح اور حسن اسانید کے ساتھ ان کے علم میں نا ہوں؟ تو پھر جب اس میں احتمال موجود ہے تو اسکی بنیاد پر اس باب میں مروی ہر ایک حدیث کو انکے ہاں ضعیف کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
ایسی کنڈیشن میں مرزا صاحب کا اپنا طرز عمل بھی ملاحظہ فرمائیں! آپ اپنے ایک ویڈیو لیکچر بعنوان ”Jewellery (Zaiwar) par zakat“ میں کہتے ہیں۔
”بھائیوں سنن ابی داؤد میں ایک حدیث ہے انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق 1563 کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو عورتیں حاضر ہوئیں، جن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے موٹے موٹے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں سے پوچھا: کیا تم اس سونے کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آگ کے کنگن تمہیں پہنائے؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ نہیں، تو فرمایا پھر انکی زکاۃ ادا کیا کرو! (پھر انجینئر صاحب کہتے ہیں) یہ ہے بنیادی طور پر وہ حدیث جس کی بنیاد پر زیورات کی زکوۃ کا مسئلہ امت کی اکثریت نے ڈیٹکٹ کیا، اجماع تو نہیں ہے مگر بہرحال اکثریت نے اسے ڈیٹکٹ کیا۔ اچھا اسی حدیث کا ایک طرق جامع ترمذی میں انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق – 637 – ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہی حدیث لکھ کر کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے! اور پھر انہوں نے ایک اسٹیٹمنٹ دے دی کہ زیورات کی زکاۃ کے اوپر جتنی بھی حدیثیں ہیں وہ ضعیف ہیں! اس حدیث کو بھی انہوں نے ضعیف کہا، مگر جو سند امام ترمذی کے پاس ہے وہ واقعی ضعیف ہے، اس میں ابن لھیعۃ مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں، اور مدلس کی عن والی روایت سماع کی تصریح کے بغیر ضعیف ہوتی ہے! لیکن امام ابو داؤد یہی حدیث لے کر آئے ہیں سنن ابی داؤد میں انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق -1563- تو وہ حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے، الحمدللہ!“
اب غور کریں ایک حدیث کو ہمارے جناب صحیح کہہ رہے ہیں، اور اس سے مسئلہ اخذ کر رہے ہیں، پھر خود ہی سنن ترمذی سے امام ترمذی رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو غیر صحیح قرار دیا ہے، مگر آپ نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی، اور اسکے باوجود مرزا صاحب سنن ابو داؤد کی حدیث کو صحیح بتاتے ہیں! وجہ؟ حالانکہ امام ترمذی رحمہ اللہ کا یہ قول خود انہی کی کتاب میں منقول ہے اور اسکے ثابت ہونے میں کسی قسم کا شبہ بھی نہیں، مگر دوسری طرف امام اسحاق رحمہ اللہ سے جو منقول ہے اسکی کنڈیشن بھی آپ کے سامنے ہے۔ پھر کیوں ایک ہی جیسے مسئلے میں مرزا صاحب کے دو الگ رخ ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کا عذر تو قبول کہ انکے پاس اس حدیث کی جو سند تھی وہ واقعی ضعیف تھی، تو پھر فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کا عذر کیوں نظر نہیں آتا؟ ان سے بھی تو خطا ہو سکتی ہے، ان سے بھی تو کوئی حدیث اوجھل رہ سکتی ہے، یا یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہماری پیش کردہ احادیث انکے پاس ان اسانید سے موجود نا ہوں، جیسا کہ مرزا صاحب نے امام ترمذی رحمہ اللہ کے قول کی تاویل بیان فرمائی، کہ انکے پاس جو سند ہے وہ واقعی ضعیف ہے، تو مرزا صاحب! اسحاق رحمہ اللہ کے پاس کونسی احادیث تھیں اور کن سندوں سے تھیں، اس کا تو سرے سے کوئی پتہ نہیں، مگر پھر بھی انکے ایک قول (جو ہے بھی ضعیف سند کے ساتھ) کو ڈھال بنا کر آپ صحیح احادیث کا رد کرتے ہیں، کیا اسی کو آپ کے ہاں انصاف پسندی کہا جاتا ہے؟
اگر مان بھی لیا جائے کہ اسحاق رحمہ اللہ کا قول ان تمام احادیث کے متعلق ہی ہے پھر بھی (مرزا صاحب کے اصول کے مطابق) ہمیں اصول وقوانین کے تحت اس قول سے اختلاف کرنے کا حق ہے، جیسا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کی اسٹیٹمنٹ کے باوجود بھی مرزا صاحب ایک حدیث کو صحیح قرار دے رہے ہیں، کہ اس میں کوئی ضعف نہیں، تو ہمارا جواب اور رویہ بھی اس معاملے میں اسی نوعیت کا ہے!
مرزا صاحب سے گزارش ہے کہ جو حدیث سنن ابو داؤد میں زیورات کے متعلق مروی ہے یا تو اسے بھی اور اس سے متعلقہ جتنی بھی احادیث ہیں سب کو بغیر تحقیق آنکھیں بند کر کے ضعیف کہیں، اگر نہیں تو پھر امام اسحاق رحمہ اللہ کے ضعیف قول کی تقلید کرنا چھوڑ دیں، اور ہم سے دلیل پر بات کریں! کہ فلاں روایت اگر ضعیف ہے یا فلاں غیر ثابت ہے تو فلاں ضعف اور علت کی بنیاد پر۔