مسند احمد میں سماع کی تصریح اور سنن ترمذی 2676: انجینئر مرزا کے دو جوابات کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

بقیہ بن ولید کی توثیق بیان کرنے کے بعد اب انجینئر صاحب تدلیس پر گفتگو کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ میں اس پر تین جواب دوں گا۔
جواب نمبر ایک یہ ہے کہ ابوداؤد میں اگرچہ بقیہ ”عن“ بحیر ہے یعنی سماع کی تصریح نہیں لیکن مسند احمد کے طریق میں بقیہ نے سماع کی صراحت کر رکھی ہے، اور پھر مسند احمد کے اس طریق کا حوالہ دیا:
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ [حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ] عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ أَتُرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ وَقَالَ: ”هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ“۔ (مسند احمد:17189)
سند پر بات تو بعد میں کرتے ہیں، پہلے ذرا اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ جب ابوداؤد والے طریق میں بقیہ کے سماع کی تصریح موجود نہیں، اور اصولی طور پر مدلس کی عن والی روایت جب ضعیف ہوتی ہے، تو ہمیشہ ابوداؤد والا طریق ہی کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ آپ نے اس ویڈیو میں بھی سنن ابوداؤد والی روایت لفظ بلفظ پڑھ کر اس میں مزید رنگ بھی بھرے، لیکن کیا وجہ ہے کہ مسند احمد والی روایت نہیں پڑھی جاتی کہ جس کے متعلق آپ کا دعویٰ ہے کہ اس میں بقیہ کے سماع کی تصریح موجود ہے؟ تو عرض ہے کہ نہ تو مسند احمد کی روایت (جس کی سند بقول آپ کے صحیح ہے) میں یہ ہے کہ ”حسن دہکتا ہوا انگارہ تھا“ (نعوذ باللہ)، جس کی تشریح میں آپ نے اتنی بڑی سٹوری بنا کر پیش کی ہے، نہ ہی مسند احمد کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہو: میں آج تمہیں غصہ دلا کے رہوں گا اور ایسی باتیں کروں گا جو تمہیں بری لگیں گی۔ اور نہ ہی اس بات کا دور دور تک کوئی ذکر ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں درندوں کی کھالوں کو استعمال کیا جاتا تھا، یا سونا اور ریشم پہنا جاتا تھا۔ یہ سب باتیں ابوداؤد کی روایت میں ہیں جس کی سند ضعیف ہے، عجیب بات ہے کہ آپ اس روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مسند احمد کی روایت پیش کرتے ہیں لیکن اس میں یہ باتیں موجود ہی نہیں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں: تو جب مسند احمد میں سماع کی تصریح مل گئی لہٰذا ابوداؤد والی روایت بھی صحیح ہو گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون!
مرزا صاحب! سنن ابوداؤد میں جو اضافات ہیں انہیں مسند احمد کی روایت کیسے کفایت کر سکتی ہے کہ جب مسند احمد میں وہ باتیں ہیں ہی نہیں جو ابوداؤد کی روایت میں ہیں؟ ہاں اگر دونوں روایات ایک جیسی ہوتیں تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ دوسری جگہ سماع کی صراحت مل گئی لہٰذا………… لیکن جب ایک روایت جو کہ سنداً ضعیف ہے میں ایسا اضافہ ہے جو دوسری صحیح روایت میں نہیں تو وہ اضافہ ضعیف اور غیر ثابت ہی رہے گا، اس کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ وہ اضافہ بھی ایسی سند سے منقول ہو جس میں مدلس نے سماع کی صراحت کی ہو ورنہ وہ تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہی رہے گا۔
دوسری اور بنیادی بات یہ ہے کہ آپ مسند احمد کا جو طریق پیش کر رہے ہیں خیر سے اس میں بھی بحیر ”عن“ خالد موجود ہے۔ اور آپ کے ذمے صرف بقیہ کے اپنے استاد سے سماع کی صراحت ثابت کرنا نہیں بلکہ تمام سند میں سماع کی تصریح مطلوب ہے، کیوں کہ بقیہ عام مدلس نہیں بلکہ تدلیس تسویہ کا مرتکب ہے جیسا کہ ہم بڑی تفصیل سے یہ بات واضح کر چکے ہیں اور اس کے لیے صرف اپنے استاد سے سماع کی صراحت کرنا کافی نہیں ہوتا کیوں کہ تدلیس تسویہ کرنے والا سند کے کسی بھی حصے سے کوئی ضعیف راوی حذف کر دیتا ہے، لہٰذا یہاں جس طرح بقیہ کا اپنے استاد سے سماع کی تصریح کرنا ضروری ہے اتنا ہی اپنے استاد کے لیے بھی اس بات کی تصریح کرنا لازم ہے کہ اس کے استاد نے آگے اپنے استاد سے یہ روایت سنی ہے، لیکن مسند احمد کی روایت میں بھی بحیر ”عن“ خالد ہے اور یہاں پر بقیہ کی تدلیس تسویہ کا احتمال باقی ہے، جیسے بقیہ نے حدثنا ابو وہب عن اسحاق بن ابی فروہ عن نافع والی سند سے اسحاق (سخت ضعیف راوی) کو سند سے گرا کر حدثنا ابو وہب ”عن“ نافع کر دیا تھا۔ لہٰذا مرزا صاحب کا مسند احمد کا طریق بطور حجت پیش کرنا بھی بے کار ہے تدلیس کا مسئلہ اس سے بھی حل نہیں ہوتا۔
جواب نمبر دو میں سنن ترمذی -2676- کی وہی حدیث کہ: ”میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو“ پیش کی گئی ہے، اور جناب صاحب فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے، باوجود اس کے کہ اس میں بقیہ صیغہ عن سے روایت کر رہا ہے۔ یعنی یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید یہ حدیث صرف بقیہ نے ہی بیان کی ہے اور امام ترمذی نے اسے اس بنیاد پر صحیح کہا ہے کہ بقیہ کی بحیر سے عن والی روایت سماع پر محمول ہوتی ہے چاہے وہ سماع کی صراحت نہ بھی کرے، حالانکہ یہ دھوکے بازی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
پہلی بات یہ ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ حدیث صرف بقیہ کے واسطے سے ہی بیان نہیں کی بلکہ ساتھ ہی فرمایا:
وَقَدْ رَوَى ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا۔
”اور ثور بن یزید نے عن خالد عن عبدالرحمٰن بن عمرو عن عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے۔“
مکمل سند یوں ہے:
حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال، وغير واحد قالوا: حدثنا أبو عاصم، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي، عن العرباض بن سارية، عن النبي صلى الله عليه وسلم (سنن ترمذی:342/4)
لیجیے امام ترمذی رحمہ اللہ تو اس حدیث کا دوسرا طریق بھی بیان کر رہے ہیں کہ جس میں بقیہ بن ولید ہے ہی نہیں، لہٰذا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے بقیہ عن بحیر کو مطلقاً صحیح اور اسے سماع پر محمول مانتے ہوئے اس حدیث کو صحیح کہا ہے؟ اس کے علاوہ بھی یہی حدیث دیگر اسانید سے حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، ابو داؤد میں اس کی سند ہے:-
حدثنا أحمد بن حنبل حدثنا الوليد بن مسلم حدثنا ثور بن يزيد قال حدثني خالد بن معدان قال حدثني عبد الرحمن بن عمرو السلمي وحجر بن حجر قالا: أتينا العرباض بن سارية (سنن ابوداؤد:4607)
سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کی سند یوں ہے:
حدثنا عبد الله بن أحمد بن بشير بن ذكوان الدمشقي حدثنا الوليد بن مسلم قال حدثنا عبد الله بن العلاء يعني ابن زبر قال: حدثني يحيى بن أبي المطاع، قال: سمعت العرباض بن سارية۔ (سنن ابن ماجہ:42)
ابن ماجہ ہی میں اس حدیث کا اگلا طریق ہے:
حدثنا إسماعيل بن بشر بن منصور وإسحاق بن إبراهيم السواق قالا: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن معاوية بن صالح عن ضمرة بن حبيب عن عبد الرحمن بن عمرو السلمي أنه سمع العرباض بن سارية (سنن ابن ماجہ:43)
اس سے اگلا طریق ہے:
حدثنا يحيى بن حكيم قال حدثنا عبد الملك بن الصباح المسمعي قال حدثنا ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن عبد الرحمن بن عمرو عن العرباض بن سارية (سنن ابن ماجہ:44)
لہٰذا امام ترمذی رحمہ اللہ نے اگر اس حدیث کو صحیح کہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ بقیہ کی بحیر سے عن والی روایت کو سماع پر محمول سمجھتے ہیں، یا وہ اسے تدلیس تسویہ سے بری قرار دیتے ہیں، نہ ہی امام ترمذی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب تھی اس وجہ سے میں اسے صحیح کہہ رہا ہوں اور بقیہ عن بحیر مطلقاً مقبول ہے، اور انہوں نے یہ بھی بالکل نہیں فرمایا کہ یہ حدیث ”اس سند کے ساتھ“ حسن صحیح ہے، بلکہ یہ حدیث تو بقیہ کے علاوہ بھی کئی رواۃ بیان کرتے ہیں۔
لیکن بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صرف اسی سند کی بنیاد پر صحیح قرار دیا ہے پھر بھی اس سے یہ رزلٹ نہیں نکلتا جو انجینئر صاحب نکالنے کی کوشش میں ہیں، زیادہ نہیں چند ایک مثالیں پیش خدمت ہیں کہ سنن ترمذی میں جن مدلسین کی روایات کو حسن یا صحیح قرار دیا گیا ہے :
سنن ترمذی میں-477-نمبر حدیث کے تحت امام ترمذی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
جبکہ اس کی سند میں عطیہ العوفی نامی راوی مدلس ہے اور عن سے روایت بیان کر رہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس راوی کو مدلسین کے چوتھے طبقے میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”مشهور بالتدليس القبيح“ کہ یہ قبیح (بری ترین) تدلیس کے ساتھ مشہور ہے۔ (طبقات المدلسین:122)
سنن ترمذی-3726-نمبر حدیث کے متعلق امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے!
جبکہ اس میں ابوزبیر مدلس ہے اور صیغہ عن سے روایت بیان کر رہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے مدلسین کے تیسرے طبقے میں ذکر کیا ہے۔ (طبقات المدلسین:101)
سنن ترمذی کی حدیث نمبر-2453-کے متعلق امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح ہے۔
جبکہ اس طریق میں ابن عجلان راوی مدلس ہے (طبقات المدلسین:98) اور اس نے سماع کی تصریح نہیں کی۔
تو کیا یہاں کہا جا سکتا ہے کہ امام ترمذی ان تمام کو یا تو مدلسین ہی نہیں مانتے یا ان مخصوص اساتذہ سے ان کی عن والی روایت کو سماع پر محمول سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے استاد کی کتاب تھی؟ اور ترمذی میں جو سفیان ثوری، اعمش، شریک القاضی اور قتادہ جیسے مدلسین (جن کا عنعنہ مرزا صاحب کے نزدیک مردود ہے) کی عن والی روایات کو صحیح قرار دیا گیا ہے تو کیا ان کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ ان کی عن والی روایات بھی سماع پر محمول ہوتی ہیں اور ان کے پاس اپنے استاد کی کتاب تھی؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو اپنی روایت کے جھوٹے دفاع میں بقیہ عن بحیر کے متعلق کیوں یہ اصول امام ترمذی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے؟ کہ ان کے نزدیک بقیہ کی بحیر سے روایت مطلقاً قبول ہے کہ بقیہ کے پاس بحیر کی کتاب تھی۔ جبکہ انہوں نے ایسی کسی بات کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔