سینگ ٹوٹا ہو یا کان کٹا ہو تو؟
جس جانور کا نصف یا نصف سے زیادہ سینگ ٹوٹا ہو یا نصف یا نصف سے زیادہ کان کٹا ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يضحى بأعضب القرن والأذن
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا نصف یا نصف سے زیادہ سینگ ٹوٹا یا (اتنی مقدار میں) کان کٹا ہو۔“
حسن : سنن أبي داؤد، کتاب الضحايا، باب ما يكره من الضحايا : 2805 – جامع ترمذي، أبواب الأضاحي، باب فى الضحية بعضباء القرن : 1504 ۔ سنن نسائی، أبواب الضحايا، باب العضباء 4382۔ سنن ابن ماجه ابواب الأضاحي، باب ما يكره ان يضحي به 3145، مسند احمد، 127/1 ، صحیح ابن خزیمه: 2913، مستدرك حاكم، 224/4 – جری بن کلیب نھدی صدوق حسن الحدیث راوی ہیں۔
فوائد:
علی بن عبد اللہ مدینی نے جری بن کلیب نہدی کو مجہول قرار دیا ہے اور ابو حاتم نے اسے ناقابل احتجاج قرار دیا ہے، (الجرح التعدیل: 527/2) لیکن حافظ ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے اور امام ترمذی، امام حاکم نے اس کی حدیث کو صحیح اور ضیاء مقدسی نے الاحادیث المختارہ میں حدیثِ جری بن کلیب کو حسن قرار دیا ہے، اس سے جہالت کا ازالہ ہوا ہے اور عجلی نے معرفة الثقات میں لکھا ہے: ”جری بن کلیب بصری ثقہ تابعی ہیں“، لہذا یہ ناقابل احتجاج نہیں بلکہ صدوق راوی ہیں۔
أعضب القرن کی توضیح:
① قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فذكرت ذلك لسعيد بن المسيب فقال: العضب ما بلغ النصف فما فوق ذلك
”میں نے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ (مشہور تابعی) سے ”أعضب القرن والأذن“ کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: اعضب وہ جانور ہے جس کا نصف یا نصف سے زیادہ سینگ ٹوٹا یا کان کٹا ہو۔“
صحیح: جامع ترمذي: 1505۔ سنن نسائی: 4382، صحیح ابن خزیمه : 2913 ۔مسند احمد : 127/1۔
القاموس المحیط میں ہے:
إن العصباء الشاة المكسورة القرن الداخل
”عضباء وہ بکری ہے جس کا سینگ اندر سے ٹوٹا ہو۔“
عون المعبود : 21/8 ۔ تحفة الأحوذي: 67/5
فوائد:
① حدیثِ باب دلیل ہے کہ ایسا جانور جس کا سینگ نصف یا نصف سے زیادہ ٹوٹا ہو یا اتنی مقدار میں کان کٹا ہو، اس کی قربانی درست نہیں، نیز سینگ کا اندر سے ٹوٹنا قربانی میں قادح ہے اور سینگ کا باہر سے ٹوٹنا اور اندر سے محفوظ ہونا یا سینگ کے خول کا معمولی ٹوٹنا، اس پر رگڑ یا چوٹ کے نشانات قربانی کے جانور کے عدم جواز کے لیے ناکافی ہیں، کم از کم نصف یا نصف سے زیادہ سینگ کا ٹوٹنا شرط ہے۔
② قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فيه دليل على أنها لا تجزئ التضحية بأعضب القرن والأذن وهو ما ذهب نصف قرنه أو أذنه، وذهب أبو حنيفة، والشافعي والجمهور إلى أنها تجزئ التضحية بمكسور القرن مطلقا وكرهه مالك إذا كان يدمي وجعله عيبا
”یہ حدیث دلیل ہے کہ نصف یا نصف سے زیادہ سینگ ٹوٹے یا (اتنی مقدار میں) کان کٹے جانور کی قربانی درست نہیں، (اعضب وہ ہے) جس کا نصف سینگ یا نصف کان ضائع ہو چکا ہو، لیکن ابوحنیفہ، شافعی اور جمہور علماء کا موقف ہے کہ سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی مطلق جائز ہے (خواہ نصف ہو یا نصف سے کم یا زیادہ سینگ ٹوٹا ہو) اور امام مالک رحمہ اللہ نے سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی کو تب مکروہ خیال کیا ہے جب سینگ سے خون بہتا ہو اور وہ عیب کی شکل اختیار کر چکا ہو۔“
نیل الأوطار: 123/5۔ عون المعبود : 21/8 ۔ تحفة الأحوذي: 67/5
راجح موقف:
امام شوکانی رحمہ اللہ مذکورہ بحث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
فالظاهر أن المكسورة لا تجوز التضحية بها إلا أن يكون الذاهب من القرن مقدارا يسيرا بحيث لا يقال عضباء لأجله، أو يكون دون النصف إن صح التقدير بالنصف المروي عن سعيد بن المسيب لغوي وشرعي، كذلك لا تجزئ التضحية بأعضب الأذن وهو ما صدق عليه اسم العضب لغة أو شرعا
”راجح موقف یہ ہے کہ سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ جانور کا معمولی مقدار میں سینگ ٹوٹا ہو کہ اس پر عضباء (نصف یا نصف سے زیادہ مقدار میں سینگ ٹوٹا ہوا) کی تعریف صادق نہ آتی ہو یا نصف مقدار سے کم سینگ ٹوٹا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے بشرطیکہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی عضب کی تفسیر صحیح ہو (چونکہ سعید بن مسیب سے مروی تفسیر درست ہے لہذا یہ استدلال برحق ہے) اسی طرح نصف یا نصف سے زائد کان کٹے جانور کی قربانی بھی درست نہیں۔“
نیل الأوطار: 123/5۔ عون المعبود : 21/8 ۔ تحفة الأحوذي: 67/5
باہر سے ٹوٹا ہوا سینگ عیب نہیں:
اگر قربانی کے جانور کا سینگ اندر سے صحیح سالم اور باہر سے ٹوٹا ہوا ہے تو پھر ایسی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے، کیونکہ جب جانور کا سینگ اندر سے ٹوٹے تب وہ معیوب ٹھہرتا ہے۔
عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قال فى الفائق: العضب فى القرن داخل الانكسار، ويقال فى الخارج القصم، وكذلك فى القاموس كما عرفت، وقال فيه القصماء المعزى المكسورة القرن الخارج انتهى، فالظاهر عندي أن المكسورة القرن الخارج تجوز التضحية بها، وأما المكسورة القرن الداخل، فكما قال الشوكاني من أنها لا تجوز التضحية بها إلا أن يكون الذاهب من القرن الداخل مقدارا يسيرا
”الفائق فی غریب الحدیث والاثر میں ہے کہ اندر سے سینگ کا ٹوٹنا عضب اور باہر سے سینگ کا ٹوٹنا قصم کہلاتا ہے، القاموس المحیط میں بھی یہی منقول ہے اور قصماء اس بکری کو کہا جاتا ہے کہ جس کے سینگوں کے باہر والے کنارے ٹوٹے ہوں، لہذا میرے نزدیک یہ بات رائج ہے کہ باہر سے ٹوٹے ہوئے سینگوں والے جانور کی قربانی جائز ہے اور اندر سے ٹوٹے ہوئے سینگوں والے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اندر سے معمولی مقدار میں سینگ ٹوٹا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، جیسا کہ شوکانی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے۔“
تحفة الأحوذي: 67/5
لہذا اگر جانور کے سینگ کے کنارے ٹوٹے ہیں یا سینگ کا خول ہی اتر چکا ہو تب بھی ایسے جانور کی قربانی جائز ہے، بشرطیکہ سینگ کا اندرونی حصہ صحیح سالم ہو۔