امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول:
فضائل جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو مشکوک بنانے کے لیے مرزا انجینئر صاحب جن کمزور چیزوں کا سہارا لیتے ہیں ان میں ایک امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ایک قول بھی ہے، چنانچہ فتح الباری کے حوالے سے فرماتے ہیں:
”امام ابن الجوزی نے عبداللہ بن احمد سے ان کے والد احمد بن حنبل کا مکالمہ بھی نقل کیا ہے، کہ انہوں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل سے پوچھا…… ……کہ سیدنا علی اور حضرت معاویہ کے اختلاف کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو امام احمد بن حنبل نے تھوڑی دیر سر جھکائے رکھا! پھر فرمایا: میرے بیٹے خوب سمجھ لو کہ سیدنا علی کے دشمن بہت ہی زیادہ تھے، جنہوں نے ان کے عیوب تلاش کرنا چاہے، مگر ناکام رہے! چنانچہ ان دشمنوں نے ایک متبادل چال کے طور پر اس دوسرے شخص یعنی معاویہ کو مقصد برآری کے لیے موزوں پایا، جو ان سے جنگیں کر چکا تھا، چنانچہ ان دشمنوں نے سیدنا علی کے مقابلے پر اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔“
پھر اس کے بعد انجینئر صاحب اس کی باطل تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”انہوں نے کہا ہے یہ جو حضرت معاویہ کے متعلق حدیثیں مل رہی ہیں نا، حضرت علی کو تو نیچا نہیں کر سکتے تھے، یہ گھڑیں ہیں انہوں نے!…………“
کیا ہے کہ انجینئر صاحب نے صحیح الاسناد صحیح الاسناد کی اتنی رٹ لگائی ہے کہ ہمیں عادت سی ہو گئی ہے کہ ان کی ہر ہر دلیل کو ہم اسنادی قوانین کی روشنی میں پرکھتے ہیں، ایسا نہیں کہ ہم مارے تعصب کے بس ان کی ہر دلیل کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ لہٰذا عرض ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تو حجت نہیں اور نا ہی انہوں نے امام احمد بن حنبل کے اس قول کی سند ہی ذکر کی ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی کتاب ”الموضوعات“ کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں اس قول کی مکمل سند موجود ہے (الموضوعات:24/2)۔ تو اس سند میں ایک راوی ابوسعید بن الحرفی ہے، کسی امام الجرح والتعدیل سے صراحت کے ساتھ اس کی توثیق منقول ہی نہیں! اگر ثابت ہے تو انجینئر صاحب یا ان کا کوئی حواری پیش کر دے ہم آپ کے مشکور ہوں گے۔ نیز اس میں ایک متکلم فیہ راوی محمد بن علی بن الفتح بھی موجود ہے، اگرچہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے لیکن علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس پر جرح مفسر کر رکھی ہے۔ (المیزان :7989) اور خطیب رحمہ اللہ کا قول نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”قلت: ليس بحجة“ میں (ذہبی) کہتا ہوں کہ یہ راوی حجت نہیں ہے۔
یہ تھی انجینئر صاحب کے پیش کردہ قول کی اسنادی حیثیت، جبکہ دوسری جانب امام احمد رحمہ اللہ کے شاگرد امام ابوبکر المروزی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ:
يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، مَا تَقُولُ فِيمَا كَانَ مِنْ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ رَحِمَهُمَا اللهُ؟ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: مَا أَقُولُ فِيهَا إِلَّا الْحُسْنَى، رَحِمَهُمُ اللهُ أَجْمَعِينَ۔
”اے ابوعبداللہ (احمد بن حنبل رحمہ اللہ)! آپ جناب علی و معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: ”میں ان کے متعلق سوائے خیر کے اور کچھ نہیں کہتا، اللہ ان تمام صحابہ پر رحم فرمائے۔““
(السنة للخلال:713)
اور اس کی سند کیا ہے؟ امام ابوبکر الخلال رحمہ اللہ اہل سنت کے أئمہ میں سے ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے یہ روایت امام ابوبکر المروزی رحمہ اللہ نے بیان کی، اور یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے مشہور شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ اور وہ امام احمد سے یہ قول نقل کر رہے ہیں۔ وہی امام احمد اور وہی سوال، لیکن جواب میں فرق نمایاں ہے! اب کون سا جواب قابل حجت ہوگا؟ اور کیا ہمارے حق گو انجینئر صاحب نے کبھی یہ قول بیان کیا ہے؟
اور اگر وہ قول ثابت مان بھی لیا جائے پھر بھی اس سے مرزا صاحب کی مراد پوری نہیں ہوتی، انہوں نے اپنے مفاد کے لیے اصل بات کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کی وضاحت سے واضح ہے کہ اس قول سے آپ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی سب کی سب روایات کو من گھڑت قرار دینا چاہ رہے ہیں، جیسا کہ مرزا صاحب نے کہا ”یہ جو حدیثیں معاویہ کے بارے میں مل رہی ہیں“۔ یعنی علماء حضرات جو بھی فضائل سناتے اور بیان کرتے ہیں وہ سب من گھڑت اور موضوع ہیں! حالانکہ یہ سراسر امام احمد رحمہ اللہ کے قول کی غلط ترجمانی ہے، آپ رحمہ اللہ کی ہرگز یہ مراد نہیں!
جواباً عرض ہے کہ کیا امام صاحب نے یہ کہا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں مروی تمام روایات من گھڑت ہیں؟ بالکل نہیں! ان کے قول سے زیادہ سے زیادہ جو نتیجہ نکل سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں احادیث گھڑی بھی گئیں ہیں۔ مگر اس سے ان احادیث کا انکار کہاں لازم آتا ہے جو بسند صحیح منقول ہیں؟ یعنی اگر کسی کے متعلق حدیث میں فضیلت وارد ہوئی ہے، اور اسی کے متعلق بناوٹی احادیث بھی موجود ہیں، تو ان من گھڑت روایات کی وجہ سے کیا دوسری (ثابت شدہ) احادیث پر بھی وہی حکم لگ جائے گا؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں! تو کیوں مرزا صاحب آپ لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
خود ابن الجوزی رحمہ اللہ نے بھی اس قول سے یہ مسئلہ اخذ نہیں کیا جو آپ کر دینے کی کوشش میں ہیں، اگر ہماری پیش کردہ احادیث بھی موضوع ہی ہیں، اور جناب علی رضی اللہ عنہ کے دشمنوں نے گھڑیں ہیں، تو پھر ابن الجوزی رحمہ اللہ (جو احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے قول کے ناقل ہیں) ان احادیث کو بھی ضرور ذکر کرتے، مگر کیا انہوں نے ان احادیث میں سے کسی ایک کو بھی من گھڑت یا ضعیف کہا؟ ہرگز نہیں! حالانکہ یہ مشہور ہیں، تو سب سے زیادہ یہ حقدار تھیں کہ ان کی نشاندہی کی جاتی کہ جی یہ سب بھی من گھڑت ہیں۔
اور پھر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تو ان احادیث کو اپنی کتاب ”مسند احمد“ میں لے کر آئے ہیں:
❀ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ: (مسند احمد:17895)
❀ اَللّٰهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِهِ الْعَذَابَ: (مسند احمد:17152)
اگر یہ احادیث ان کے نزدیک جناب علی رضی اللہ عنہ کے دشمنوں نے گھڑیں تھیں تو کیا وہ انہیں اپنی کتاب میں درج کرتے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ جناب احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق تمام احادیث کو من گھڑت اور دشمنان علی رضی اللہ عنہ کی وضع کردہ کہا ہی نہیں! اسکی ایک بہت ہی بڑی دلیل یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں مروی ایک مشہور حدیث ”اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ“ ہے، جو ہم نے فضائل معاویہ رضی اللہ عنہ کے تحت سنن ترمذی کے حوالے سے ذکر کی ہے، یہ حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنی کتاب مسند احمد میں لائے ہیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا، اب امام صاحب رحمہ اللہ سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کی سند ملاحظہ فرمائیں! آپ فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ: "اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ”۔
یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان پانچ واسطے ہیں، احمد اپنے استاد علی بن بحر سے روایت کرتے ہیں، وہ ولید بن مسلم سے، وہ سعید بن عبدالعزیز سے، اور وہ ربیعہ سے، اور وہ صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے!
اب ان راویوں کے متعلق خود احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی آراء بھی دیکھ لیں!
”علی بن بحر“ کو ثقة، لا بأس به قرار دیا: (تاریخ بغداد-268/13)
”ولید بن مسلم“ کے بارے میں فرمایا:
كَانَ عِنْدَكُمْ ثَلَاثَةُ أَصْحَابِ حَدِيثٍ: مَرْوَانُ، وَالْوَلِيدُ، وأبو مسهر۔
”تمہارے پاس تین (بڑے بڑے) اصحاب حدیث ہیں! مروان، ولید بن مسلم اور ابومسہر۔“ (تاریخ ابی زرعۃ الدمشقی، ص،384)
”سعید بن عبدالعزیز“ کے بارے میں امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: لَيْسَ بِالشَّامِ رجل أصح حديثا من سعيد بن عبد الْعَزِيز التنوخي۔
”شام میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کی حدیث سعید بن عبدالعزیز سے زیادہ صحیح ہو“: (العلل لاحمد-53/3)
اور اسی صفحے پر آپ کا دوسرا قول بھی موجود ہے کہ: ”امام اوزاعی اور سعید بن عبدالعزیز میرے نزدیک برابر ہیں“! جبکہ امام اوزاعی بہت بڑے امام، محدث اور فقیہ تھے، تو پھر سعید بن عبدالعزیز کا روایت حدیث میں کیا مقام ہوگا؟
”ربیعہ بن یزید“ بخاری و مسلم کے راوی ہیں! (صحیح البخاری: 5478، صحیح مسلم:2735،1037،542) وغیرہ۔
اور رہے ”عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ“ تو وہ صحابی ہیں! اب مرزا صاحب یا ان کے چیلے ہمیں بتائیں کہ آخر یہ حدیث گھڑی تو گھڑی کس راوی نے؟ اس کے سب راوی تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ ہیں۔
مرزا صاحب کے دلائل اور آپ کی کمال منصف مزاجی آپ دیکھ چکے، اب ان احادیث کی صحت کے متعلق ہماری گزارشات ملاحظہ فرمائیں۔