اللہ کی رضا کے علاوہ علم حاصل کرنے کی ممانعت
① سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من طلب العلم ليجاري به العلماء، أو يماري به السفهاء، أو يصرف وجوه الناس إليه أدخله الله النار
”جو شخص علماء سے بحث و مباحثہ، مناظرہ کرنے یا نادان کم فہموں سے حجت بازی یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2654)
علم کے بغیر فتویٰ دینے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أفتي بغير علم كان إثمه على الذى أفتاه، ومن أشار علىٰ أخيه بأمر يعلم أن الرشد فى غيره فقد خانه
”جسے علم کے بغیر فتویٰ دیا جائے (اور وہ اس کے مطابق عمل کرے) تو اس کا گناہ اس شخص پر ہے جس نے اسے فتویٰ دیا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ اسے پتا ہے کہ بہتری اس کے علاوہ دوسرے معاملے میں ہے تو اس نے اس سے خیانت اور بدخواہی کی ہے۔“
(ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3657. ابن ماجه، المقدمة، حدیث: 53)