غیر معروف باتیں بیان کرنے اور گمراہی کی طرف دعوت دینے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

لوگوں سے غیر معروف باتیں بیان کرنے کی ممانعت

① سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”لوگوں سے ایسی باتیں بیان کرو جنہیں وہ جانتے ہیں، (غیر معروف باتیں کر کے) کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی جائے؟“
(بخاری، العلم: 1/ 272، باب من خص بالعلم قوما)

گمراہی کی طرف دعوت دینے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من داع يدعو إلىٰ ضلالة إلا كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذٰلك من أوزارهم شيئا
”جو داعی گمراہی کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس پر اس کی دعوت کی اتباع کرنے والے کا بھی گناہ ہوتا ہے اور یہ چیز ان کے بوجھ اور گناہوں میں کوئی کمی نہیں کرتی۔“
(مسلم، کتاب العلم، حدیث: 2674/16. موطا: 1/ 218، حدیث: 41)

گمراہی کی ممانعت

① سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله لا يقبض العلم انتراعا ينتزعه من الناس، ولٰكن يقبض العلم بقبض العلماء حتىٰ إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤساء جهالا، فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا وأضلوا
”اللہ علم کو ایسے نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں کے سینوں سے نکال لے بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جہلاء کو پیشوا بنا لیں گے، پس ان سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر ہی فتوے دیں گے، اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
(بخاری، کتاب العلم، حدیث: 100. مسلم، کتاب العلم، حدیث: 2673/13)