رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی ممانعت
① سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تكذبوا علي، فإنه من كذب على يلج النار
”مجھ پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔“
(بخاری، کتاب العلم، حدیث: 106. مسلم، المقدمة: 1/1)
② سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كذبا على ليس ككذب علىٰ أحد، فمن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”مجھ پر جھوٹ باندھنا تمہارا آپس میں کسی پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں ہے، پس جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، حدیث: 1291. مسلم، المقدمة: 4/4)
③ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من يقل على ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار
”جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو کہ میں نے کہی نہ ہو تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔“
(بخاری، کتاب العلم، حدیث: 109)
④ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حدث عني بحديث يرىٰ أنه كذب، فهو أحد الكاذبين
”جس نے مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان (منسوب) کی جسے وہ سمجھتا ہے کہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے۔“
(مسلم، المقدمة، حدیث: 1. ابن ماجه، المقدمة، حدیث: 39)
علم چھپانے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سئل عن علم يعلمه فكتمه، ألجم بلجام من نار
”جس شخص سے کسی علم کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اسے جاننے کے باوجود چھپائے تو اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2649. ابوداؤد، کتاب العلم، حدیث: 3658)
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سئل عن علم فكتمه ألجمه الله بلجام من نار يوم القيامة
”جس شخص سے کسی علم کے متعلق پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام ڈالے گا۔“
(ابوداؤد، حدیث: 3658. ترمذی، حدیث: 2649)