اللہ تعالیٰ کا مجاہد کے بدن کو مشرکین کے ہاتھوں کے لگانے سے محفوظ رکھنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أبى هريرة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة رهط سرية عينا وأمر عليهم عاصم بن ثابت الأنصاري جد عاصم بن عمر بن الخطاب فانطلقوا حتى إذا كانوا بالهدأة وهو بين عسفان ومكة ذكروا لحي من هذيل يقال لهم بنو لحيان فنفروا لهم قريبا من مائة رجل كلهم رام فاقتصوا آثارهم حتى وجدوا مأكلهم تمرا تزودوه من المدينة فقالوا هذا تمر يثرب فاقتصوا آثارهم فلما رآهم عاصم وأصحابه لجؤوا إلى فدفد وأحاط بهم القوم فقالوا انزلوا وأعطونا بأيديكم لكم العهد والميثاق ولا نقتل منكم أحدا قال عاصم بن ثابت أمير السرية: أما أنا فوالله لا أنزل اليوم فى ذمة كافر اللهم أخبر عنا نبيك فرموهم بالنبل فقتلوا عاصما فى سبعة فنزل إليهم ثلاثة رهط بالعهد والميثاق منهم خبيب الأنصاري وابن دثنة ورجل آخر فلما استمكنوا منهم أطلقوا أوتار قسيهم فأوثقوهم فقال الرجل الثالث: هذا أول الغدر والله لا أصحبكم إن لي فى هؤلاء أسوة يريد القتلى فجرروه وعالجوه على أن يصحبهم فأبى فقتلوه فانطلقوا بخبيب وابن دثنة حتى باعوهما بمكة بعد وقعة بدر فابتاع خبيبا بنو الحارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف وكان خبيب هو قتل الحارث بن عامر يوم بدر فلبث خبيب عندهم أسيرا فأخبرني عبيد الله بن عياض أن بنت الحارث أخبرته أنهم حين اجتمعوا استعار منها موسى يستحد بها فأعارته فأخذ ابنا لي وأنا غافلة حين أتاه قالت فوجدته مجلسه على فخذه والموسى بيده ففزعت فزعة عرفها خبيب فى وجهي فقال: تخشين أن أقتله ما كنت لأفعل ذلك والله ما رأيت أسيرا قط خيرا من خبيب والله لقد وجدته يوما يأكل من قطف عنب فى يده وإنه لموثق فى الحديد وما بمكة من ثمر وكانت تقول إنه لرزق من الله رزقه خبيبا فلما خرجوا من الحرم ليقتلوه فى الحل قال لهم خبيب ذروني أركع ركعتين ثم قال: لولا أن تظنوا أن ما بي جزع لطولتهما اللهم أحصهم عددا (ولست أبالي حين أقتل مسلما… على أى شق كان لله مصرعي وذلك فى ذات الإله وإن يشأ يبارك على أوصال شلو ممزع) فقتله ابن الحارث فكان خبيب هو سن الركعتين لكل امرئ مسلم قتل صبرا فاستجاب الله لعاصم بن ثابت يوم أصيب فأخبر النبى صلى الله عليه وسلم أصحابه خبرهم وما أصيبوا وبعث ناس من كفار قريش إلى عاصم حين حدثوا أنه قتل ليؤتوا بشيء منه يعرف وكان قد قتل رجلا من عظمائهم يوم بدر فبعث على عاصم مثل الظلة من الدبر فحمته من رسلهم فلم يقدروا على أن يقطعوا من لحمه شيئا.
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کی ایک جماعت کفار کی جاسوسی کے لیے بھیجی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو اس جماعت کا امیر مقرر فرمایا۔ یہ جماعت روانہ ہوئی، جب یہ لوگ مقامِ ہداۃ پر پہنچے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے تو قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنو لحیان کو کسی نے خبر دے دی اور اس قبیلہ کے دو سو تیر اندازوں کی ایک جماعت ان کی تلاش میں نکلی۔ یہ صحابہ کے قدموں کے نشانات سے اندازہ لگاتے ہوئے چلتے چلتے آخر ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ نے بیٹھ کر کھجوریں کھائی تھیں جو وہ مدینہ منورہ سے اپنے ساتھ لے کر چلے تھے۔ پیچھا کرنے والوں نے (آپس میں) کہا: یہ (گھٹلیاں) تو یثرب (مدینہ) کی کھجوروں کی ہیں۔ اور پھر قدموں کے نشانوں سے اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے، آخر عاصم اور ان کے ساتھیوں نے جب انہیں دیکھ لیا تو ان سب نے ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی۔ مشرکین نے ان سے کہا کہ ہتھیار ڈال کر نیچے اتر آؤ تم سے ہمارا عہد و پیماں ہے، ہم تم میں سے کسی کو قتل نہیں کریں گے۔ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ جو اس مہم کے امیر تھے، نے کہا: ”میں تو آج کسی صورت میں ایک کافر کی پناہ میں نیچے نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہماری حالت سے اپنے نبی کو مطلع کر دے۔“ اس پر ان کافروں نے ان پر تیر برسانا شروع کر دیے اور عاصم سمیت سات دوسرے صحابہ کو شہید کر ڈالا، اور باقی تین صحابی ان کے عہد و پیماں پر اتر آئے۔ یہ خبیب انصاری، ابن دثنہ اور تیسرے صحابی (عبد اللہ بن طارق بلوی) تھے۔ جب یہ صحابہ ان مشرکین کے قبضے میں آگئے تو انہوں نے اپنی کمانوں کے تانت اتار کر ان صحابہ کو ان سے باندھ لیا۔ عبد اللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! یہ تمہاری پہلی غداری ہے، میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤں گا، بلکہ میں تو ان شہداء صحابہ کا اسوہ اختیار کروں گا۔“ ان کی مراد شہداء صحابہ تھے، مگر مشرکین ان کو زبردستی کھینچنے لگے اور بزور ساتھ لے جانا چاہا، لیکن انہوں نے جانے سے انکار کر دیا تب انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔ اب یہ لوگ خبیب اور ابن دثنہ ہی کو ساتھ لے کر چلے اور ان کو مکہ میں لے جا کر فروخت کر دیا، یہ جنگ بدر کے بعد کا واقعہ ہے۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف کے لڑکوں نے خرید لیا، خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی بدر کی لڑائی میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ آپ ان کے یہاں بحیثیتِ قیدی کچھ دن رہے۔ (زہری نے بیان کیا) مجھے عبید اللہ بن عیاض نے خبر دی اور انہیں حارث بن عامر کی بیٹی (زینب جو بعد میں مسلمان ہو گئی تھیں) نے خبر دی کہ جب ان (خبیب) کو قتل کرنے کے لیے لوگ جمع ہوئے تو انہوں نے (زینب سے) موئے زیرِ ناف مونڈنے کے لیے استرا مانگا۔ انہوں نے استرا دے دیا۔ (زینب نے بیان کیا) پھر انہوں نے میرے ایک بچے کو اپنے پاس بلایا، جب وہ ان کے پاس گیا تو میں غافل تھی، (زینب بیان کرتی ہیں) پھر میں نے جب اپنے بچے کو ان کی ران پر بیٹھا ہوا دیکھا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا، تو میں اس بری طرح گھبرا گئی کہ خبیب رضی اللہ عنہ بھی میرے چہرے سے سمجھ گئے۔ انہوں نے کہا: ”تمہیں اس بات کا خوف ہوگا کہ میں اس (بچے) کو قتل کر ڈالوں گا، یقین کرو میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔“ اللہ کی قسم! کوئی قیدی میں نے خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کبھی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! میں نے ایک دن دیکھا کہ انگور کا خوشہ ان کے ہاتھ میں ہے اور اس میں سے کھا رہے ہیں حالانکہ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ میں پھلوں کا موسم بھی نہیں تھا۔ (زینب) کہا کرتی تھیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے خبیب رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا تھا۔ پھر جب مشرکین انہیں حرم سے باہر لائے تاکہ حرم کی حدود سے نکل کر انہیں شہید کر دیں تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔“ انہوں نے اجازت دے دی، پھر خبیب رضی اللہ عنہ نے دو رکعت پڑھیں اور فرمایا: ”اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں (قتل سے) گھبرا رہا ہوں تو میں ان دو رکعتوں کو اور لمبا کرتا۔ اے اللہ! ان ظالموں میں سے ایک ایک کو ختم کر دے۔“ (پھر یہ اشعار پڑھے:)
”جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے کسی قسم کی پرواہ نہیں ہے، خواہ اللہ کے راستے میں مجھے کسی پہلو پر بھی پچھاڑا جائے۔ یہ صرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس جسم کے ٹکڑوں میں بھی برکت دے سکتا ہے جس کی بوٹی بوٹی کر دی گئی ہو۔“
آخر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے ان کو شہید کر دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ سے ہی ہر اس مسلمان کے لیے جسے قید کر کے قتل کیا جائے (قتل سے پہلے) دو رکعتیں مشروع ہوئی ہیں۔ ادھر حادثہ کے شروع ہی میں عاصم بن ثابت (جو مہم کے امیر تھے) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی تھی (کہ اللہ ہماری حالت کی خبر اپنے نبی کو دے دے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو وہ سب حالات بتلا دیے تھے جن سے یہ مہم دو چار ہوئی تھی۔ کفارِ قریش کے کچھ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ عاصم بن ثابت شہید کر دیے گئے تو انہوں نے ان کی تلاش کے لیے اپنے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لائیں جس سے ان کی شناخت ہو سکتی ہو۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر میں کفارِ قریش کے ایک سردار (عقبہ بن ابی معیط) کو قتل کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کا چھتہ عاصم رضی اللہ عنہ کی نعش پر قائم کر دیا انہوں نے قریش کے آدمیوں سے عاصم کی لاش کو بچا لیا اور وہ ان کے بدن کا کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔“
( صحیح البخاری) (رواہ البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ہل یستأسر الرجل ومن لم یستأسر ومن رکع رکعتین عند القتل، الرقم: 3045)

فوائد مستنبطہ

➊ عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ کی والدہ جمیلہ، عاصم بن ثابت کی بیٹی تھیں، بعض نے یہ کہا کہ یہ عاصم بن عمر کے ماموں تھے اور جمیلہ ان کی بہن تھیں۔ ان چھ آدمیوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ (دو قبیلوں کے نام ہیں) کی درخواست پر بھیجا تھا، وہ جنگِ احد کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں، ہمارے ساتھ چند صحابہ بھیج دیں تاکہ وہ ہمیں دین کی تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثد بن ابی مرثد، خالد بن بکیر، خبیب بن عدی، زید بن دثنہ اور عبد اللہ بن طارق رضی اللہ عنہم کو ان کے ساتھ کر دیا۔ راستے میں بنو لحیان کے لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا اور دغا سے مار ڈالا۔
➋ زینب بنت الحارث (جن کے حالاتِ زندگی الاصابہ فی تمییز الصحابہ وغیرہ کتبِ تراجم میں موجود ہیں) کا اس حدیث میں ذکر ہے، یہ بعد میں مسلمان ہو گئی تھیں۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان کا ذکر الاصابة فى تمييز الصحابه میں کیا ہے ۔
➌ کفار کا وعدہ خلافی کرنا: حدیث مذکور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار کا کوئی عہد و پیماں نہیں ہے، جیسا کہ کفارِ بنی لحیان نے مسلمانوں کے ساتھ عہد کرنے کے بعد فوراً ہی اپنے وعدے کی خلاف ورزی کر کے مسلمانوں کو قتل کر ڈالا۔
➍ کراماتِ اولیاء کا ثبوت: مذکورہ بالا حدیث سے اولیاء کی کرامات کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ بغیر موسم کے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو تازہ میوے ملنا۔
➎ اہلِ اسلام کی نرم دلی: حدیث سے مسلمانوں کی نرم دلی کا ثبوت ملتا ہے کہ جب کفار کا وہ شیر خوار بچہ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس غلطی سے پہنچ گیا اور استرا ان کے ہاتھ میں تھا تو انہوں نے دشمن کے اس شیر خوار بچے کو قتل نہیں کیا کیونکہ وہ بے گناہ تھا، جبکہ ان کو یقینِ کامل تھا کہ دشمن نے انہیں قتل ہی کرنا ہے۔
➏ مجاہد کے بدن کو کفار کے ہاتھوں سے محفوظ رکھنا: جب مشرکینِ مکہ کو معلوم ہوا کہ عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو انہوں نے ان کی لاش کے لیے اپنے آدمی بھیجے تاکہ جسم کا کوئی حصہ کاٹ لائیں (کیونکہ عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر میں ایک مشرک سردار عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا تھا)، مگر اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کے ذریعے ان کی لاش کو محفوظ کر کے بچا لیا۔