شادی بیاہ اور خاندانی زندگی میں حلال وحرام
فطری داعیات (خواہشات) کا دائرہ عمل
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کی خلافت (نیابت) اور اس کی آبادکاری کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل اسی صورت میں ہو سکتی ہے جبکہ انسان کی نوع ونسل باقی رہے اور اس طرح زندگی بسر کرے کہ زراعت صنعت تعمیر اور آباد کاری کے کام اس کے ہاتھوں انجام پاتے رہیں، نیز اللہ عزوجل کا جو حق اس پر ہے، اس کو وہ ادا کرتا رہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر فطری داعیات اور نفسیاتی محرکات رکھے ہیں جو انسان کو فرد اور نوع دونوں کی بقا کا ذریعہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
من جملہ ان کے ایک داعیہ کھانے کی اشتہاء ہے کہ شکم سیری سے آدمی کا وجود باقی رہتا ہے۔ دوسرا داعیہ جنسی خواہش ہے، جس پر نوع انسانی کی بقا کا انحصار ہے۔ یہ نہایت قوی اور قابو سے نکل جانے والا داعیہ ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر متنفس سے اپنی ناقابل تسکین خواہش کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لہذا انسان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ تین موقفوں میں سے کوئی ایک موقف اختیار کرے۔
جنسی داعیہ کے متعلق انسان کے مختلف موقف:
➊ ایک موقف یہ ہے کہ اس داعیہ کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ جہاں چاہے اور جس طرح چاہے اپنا کام کرے۔ اس کے لیے کسی قسم کی دینی اخلاقی اور عرفی رکاوٹ نہ ہو۔ اباحیت والے مذاہب جو نہ کسی دین کو مانتے ہیں اور نہ فضائل اخلاق کو تسلیم کرتے ہیں، اسی کے قائل ہیں۔ یہ موقف انسان کو انسانیت کے مقام سے گرا کر حیوانیت کی سطح پر لے آتا ہے اور فرد، خاندان اور سماج سب کے بگاڑ کا موجب بنتا ہے۔
➋ دوسرا موقف یہ ہے کہ اس داعیہ سے آدمی ٹکرائے اور اس کا زور ختم کرنے کی کوشش کرے جیسا کہ تقشف پسند اور محرومی و بدشگونی کا اعتقاد رکھنے والے مذاہب کا شعار ہے اور رہبانیت اور المانویت اس کی مثالیں ہیں۔ یہ موقف اس داعیہ کو کچل دیتا ہے اور اس حکمت کے سراسر منافی ہے جس کی مناسبت سے انسان کو مخصوص ساخت عطا کی گئی ہے اور اس خاص فطرت پر اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ نیز یہ موقف اس طریق زندگی سے متصادم ہے جو ان فطری خواہشات کی تکمیل کا سامان کرتا ہے۔
➌ تیسرا موقف یہ ہے کہ اس داعیہ کے لیے حدود مقرر کیے جائیں تا کہ وہ اپنے دائرہ میں آزاد رہے۔ نہ تو اسے کچل کر رکھ دیا جائے اور نہ ہی دیوانگی کی حد تک آزاد چھوڑ دیا جائے۔ آسمانی مذاہب نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ ان مذاہب نے زنا کو حرام اور نکاح کو جائز ٹھہرایا ہے، خصوصاً اسلام نے اس داعیہ کو تسلیم کر لیا ہے اور اس کے لیے جائز راہ کھول دی ہے اور عورتوں سے بے تعلقی اختیار کرنے اور تجرد کی زندگی گزارنے سے منع کیا ہے جبکہ اس نے زنا، اس کے متعلقات اور مقدمات کو سخت حرام ٹھہرایا ہے۔
یہ موقف عدل اور اعتدال پر مبنی ہے۔ اگر نکاح مشروع نہ کیا گیا ہوتا تو یہ داعیہ سلسلہ انسانی کی بقا کی خدمت انجام نہیں دے سکتا تھا۔ اور اگر زنا کو حرام نہ کر دیا گیا ہوتا اور مرد کے لیے یہ ضروری نہ کر دیا گیا ہوتا کہ وہ کسی عورت کو اپنے لیے مخصوص کرلے، تو خاندان کی تشکیل نہیں ہوسکتی تھی، جس کے زیر سایہ مودت، رحمت، شفقت، محبت اور ایثار جیسے ارتقا پذیر اجتماعی جذبات پرورش پاتے ہیں۔ اور جب خاندان نہ ہوتا تو سماج کی تشکیل ہوتی اور نہ وہ ترقی و کمال کی راہ پر گامزن ہوتا۔
زنا کے قریب نہ پھٹکو
جب ہم دیکھتے ہیں کہ تمام آسمانی مذاہب زنا کے خلاف اور اس کی حرمت پر متفق ہیں تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ اور اسلام نے جو آخری دین ہے، اس کی سخت ممانعت کی ہے کیونکہ اس کا نتیجہ اختلاط نسب، اپنی نسل پر ظلم، خاندان کے لیے گراوٹ، تعلقات کے انتشار، امراض کے پھیلنے، شہوت کے ابھرنے اور اخلاقی انحطاط کی شکل میں نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بالکل صحیح فرمایا ہے:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا
”زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بڑی بے حیائی کا کام ہے اور بہت بری راہ ہے۔“
سورة الإسراء: 32
اسلام جب کسی چیز کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کی طرف جانے والے راستوں کو بھی مسدود کر دیتا ہے اور اس کے تمام ذرائع اور مقدمات و محرکات کو بھی حرام قرار دیتا ہے۔
لہذا جو چیزیں سوئے ہوئے جذبات کو جگانے والی، مردوزن کے لیے فتنہ کا دروازہ کھولنے والی اور بے حیائی کی ترغیب دینے یا اس سے قریب کرنے یا اس کے لیے راہ ہموار کرنے والی ہوں، تو ایسی چیزیں سد ذریعہ کے طور پر یا مفسدہ کو دفع کرنے کی غرض سے ممنوع اور حرام قرار پاتی ہیں۔