بریلوی حضرات کی دورخی اور اتباعِ سنت ﷺ سے انحراف

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بریلوی حضرات کی مزید دورخی:

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات جو دونوں وحی ہیں، دیکھیے:[ترجمہ قرآن از احمد رضا: الانعام:145،ف:297] کے بارے میں [نعیم مراد آبادی صاحب نے اپنی تفسیر الانعام:56،ف:124] میں لکھا:یعنی تمھارا طریقہ اتباع نفس و خواہش ہوا ہے نہ کہ اتباع دلیل، اس لیے اختیار کرنے کے قابل نہیں۔ [الانعام:121، ف:242] میں لکھا: کیونکہ دین میں حکم الہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا اللہ کے سوا اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔ اور [الاعراف:12،ف:17] میں لکھا: نص کے موجود ہوتے ہوئے اس کے مقابل قیاس کیا اور جو قیاس کہ نص کے خلاف ہو، وہ ضرور مردوداور اس کے باوجود کہ دین مکمل ہو چکا (المائدة:3) اور اس کے باوجود کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو دنیا میں جنت کی خوش خبری دی گئی انھوں نے صرف قرآن و حدیث پر عمل کر کے یہ اعزاز حاصل کیا۔ کیونکہ امام صاحبان تو بعد میں پیدا ہوئے۔اور اس کے باوجود کہ احمد رضا خان صاحب کے قرآنی ترجمہ مع تفسیر میں حدیث کی کتابوں کا کافی ذکر ہے۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ احادیث کا ذکر (45) بار ہے اور ان دونوں کتب احادیث کو صحیحین کہا ہے۔ (الانفال: 69،ف:128) صرف بخاری کا ذکر بائیس(22) بار، صرف مسلم کا ذکر(29) بار، ترمذی(46) بار، ابو داؤد(12) بار، نسائی دو بار اور ان سب کو پانچ بار صحاح لکھا ہے۔ دارمی اور مؤطا امام مالک کا ذکر بھی موجود ہے۔ یعنی قرآن وحدیث کا مکمل مطالعہ کیا لیکن اسے کافی نہ سمجھا اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور فقہ حنفی کا ذکر بار بار کیا اور فقہ حنفی کی کتابوں ہدایہ، عالمگیری، در مختار کا ذکر کیا۔

مندرجہ بالا صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ باتیں سامنے آئیں جو کہ عظیم دو رخی ہے:

[1] وحی والا دین:

(یعنی) قرآن و حدیث اپنے پاس موجود ہوتے ہوئے بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور فقہ حنفی کی طرف رخ کیا، حالانکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ 80ھ میں پیدا ہوئے، 150ھ میں فوت ہوئے، تقلید 400ھ کے بعد کے بعد شروع ہوئی، تقریبا20 سال فقہ حنفی کو امت مسلمہ نے تسلیم نہ کیا۔ تقلید کے پودے کا پھل یہ نکلا کہ خانہ کعبہ میں پانچ مصلے رکھے گئے اور امت میں فرقہ بندی ہوگئی۔ یاد رہے کہ ائمہ اربعہ کی تقلید کے بعد رفتہ رفتہ ان کے مقلدین بھی بڑھ گئے اور سلاطین کا میلان بھی تقلید ہی کی طرف ہو گیا۔ ہر بادشاہ اپنے ہم مذہب کو قاضی مقرر کرتا۔ ہر فرقہ اپنے مذہب کو فروغ اور دوسرے مذہب کو زیر کرنے کی تدبیریں اور کوشش کرتا اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتا، کبھی کوئی غالب ہو جاتا اور کبھی کوئی مغلوب۔ بالآخر شاہ پیرس کے زمانے میں 665 ھ ہجری میں چار مذہبوں کے چار قاضی مقرر ہوئے۔ گویا سرکاری طور پر چاروں مذاہب تسلیم کر لیے گئے۔ آخر سلطان فرح بن برقوق نے اول نویں صدی میں کعبہ شریف کے اندر مصلی ابراہیم کے علاوہ چار مصلے قائم کر دیے، اس طرح رسول اللہﷺ کے دین کے چار ٹکڑے کر دیے گئے۔ ایک مصلے پر نماز ہوتی تو تینوں مصلے والے بیٹھے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ اور اسی طرح یکے بعد دیگرے چاروں مصلوں پر نماز ہوتی تھی۔ یہ سلسلہ تقریباً 500سال تک چلتا رہا۔ اب سعودی عرب کے موجودہ حکمرانوں نے چاروں مصلوں کو ختم کر کے امت مسلمہ کو ایک مصلی پر جمع کر دیا ہے۔ آپ پاکستان میں یہی فرقہ بندی دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں ہم خیر القرون کے سلف صالحین کے نہایت ہی اہم اقوال نقل کرنا چاہتے ہیں جو خلص کلمہ گو بھائیوں کے لیے کافی ہونے چاہئیں

◈ مشہور ثقہ امام عامر بن شراحیل الثعبی التابعی (المتوفی104ھ) فرماتے ہیں: [ما حدثوك هؤلاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فخذ به وما قالوه برأيهم فألقه في الحش] یہ لوگ تجھے رسول اللہ ﷺ کی جو حدیث بیان کریں اسے ( مضبوطی سے) پکڑ لو اور جو بات وہ اپنی رائے سے (خلاف قرآن و حدیث اور اجماع ثابت ) کہیں اسے بیت الخلا میں پھینک دو۔ [سنن الدارمي:ح 206 وإسناده صحيح]

[2]ثقہ محدث امام عبد العزیز بن رفیع (المتوفی 110ھ) فرماتے ہیں:

امام عطاء ابن ابی رباح رحمہ اللہ (المتوفی 114 علی المشہور) سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: [لا أدری] (مجھے اس کے متعلق علم نہیں) امام عبدالعزیز بن رفیع فرماتے ہیں: کہ امام عطاء ابن ابی رباح سے کہا گیا: [ألا تقول فيها برأيك؟] آپ نے اپنی رائے سے جواب کیوں نہیں دیا ؟ اس کے جواب میں امام عطاء ابن ابی رباح نے فرمایا: [إني استحي من الله أن يدان في الأرض برأیي] میں اللہ سے اس بات میں حیا کرتا ہوں کہ زمین میں میری رائے کو دین بنایا جائے۔ [سنن الدارمی:ح108 وإسناده صحيح]،[تاریخ دمشق ابن عساكر:43/26 ،27 وإسناده صحيح]

[3] تابعی صغیر مشهور ثقہ و ثبت امام الحکم بن عتبہ (المتوفی115ھ) فرماتے ہیں:

[ليس أحد من خلق الله إلا يؤخذ من قوله و يترك إلا النبي]
نبی اکرم ﷺ (فداہ ابی وامی و روحی) کے علاوہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے کہ جس کی بات لی اور چھوڑی نہ جا سکتی ہو۔ صرف آپ ﷺ ہی ایسی بابرکت اور پاکیزہ شخصیت ہیں جن کی ہر بات لی جائے گی۔ [جامع بيان العلم و فضله:2/91 إسناده حسن لذاته]،[الأحكام لابن حزم:6/293 وإسناده حسن لذاته]

[4]مشہور و معروف ثقه و متقن محدث ابراہیم بن یزید کے سامنے:

کسی نے امام سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ کا قول پیش کیا تو آپ نے فرمایا: [ما تصنع بحديث سعيد بن جبير مع قول رسول الله صلى الله عليه وسلم؟]

رسول اللہﷺ کی حدیث کے مقابلے میں تم سعید بن جبیر کی بات کو کیا کرو گے؟[الأحكام لابن حزم: 6/293 وإسناده صحيح]

[5] امام الائمه الحافظ الكبير ثقہ و متقن محدث محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری (المتوفی:311ھ) فرماتے ہیں:

[ليس لأحد مع النبي صلى الله عليه وسلم قول إذا صح الخبر عنه] جب نبی کریم ﷺ (فداہ ابی و امی و روحی) کی صحیح حدیث آجائے گی اس کے مقابلے میں کسی بھی شخص کی کوئی بات قابل التفات و اتباع نہیں ہوگی۔ [معرفة علوم للحاكم نیشاپوری:ص 84، دوسرا نسخة،ص:286،ح:190 وإسناده صحيح]

[6] اہل رائے کے مشہور امام ابو حنیفہ نے ایک دن اپنے شاگرد قاضی ابو یوسف سے فرمایا:

[ويحك يا يعقوب لا تكتب كل ما تسمع مني فإني قد أرى الرأي و أتركه غدا و أرى الرأي غدا و أتركه بعد غداليوم]

اے یعقوب! (قاضی ابو یوسف) تیر استیا ناس ہو! میری ہر بات نہ لکھا کر، میری آج ایک رائے ہوتی ہے اور کل بدل جاتی ہے، کل دوسری رائے ہوتی ہے تو پھر پرسوں وہ بھی بدل جاتی ہے۔ [تاريخ يحيى بن معين:2/607، ت:2461 و إسناده صحیح]،[تاریخ بغداد:13/424]

تنبیه:

اس موضوع پر ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ سیدنا عمر رضي اللہ عنہ کے تو رات پڑھنے پر رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس پر ناراضگی کے آثار دیکھے گئے۔ اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کہ اگر موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کے بغیر کوئی راہ نہ پاتے۔ یہ روایت مجالد بن سعید، جابر بن یزید الجعفی، ابو شیبه عبد الرحمن بن اسحاق الواسطی کے سخت ضعیف اور ابو عامر القاسم بن محمد الاسدی کے غیر معروف ہونے کی وجہ سے تمام اسانید کے ساتھ ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد:173/1 ،174 ،182]

ان آثار سلف صالحین اور امام ابو حنیفہ کے قول کو پیش نظر رکھ کر غور فرمائیں کہ سلف صالحین اتباع سنت کو کس قدر مضبوطی سے تھامنے کی تلقین و نصیحت فرماتے اور خلاف قرآن وسنت آراء کو بیت الخلا میں پھینکنے کی نصیحت کرتے اور اپنی رائے سے فتوی دینا اللہ کی زمین پر ایک نیا دین کھڑا کرنے کے مترادف گردانتے تھے ، ان عمدہ اقوال سلف صالحین سے اہل رائے کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو اپنے اندھے مقلدین کو قیل وقال، روى، يقال، اور خلاف قرآن و سنت اور اجماع مسائل سے بصری کتابوں پر عمل کرنے اور ان کے نفاذ پر ابھارتے ہیں۔