احمد رضا خان صاحب کا قرآنی ترجمہ اور ان کی دو رخی:
اب ہم اس معاملے کی ایک اور زاویہ سے بھی تشریح کرنا چاہتے ہیں۔ احمد رضا خاں صاحب کے قرآنی ترجمے کا تقابلی جائزہ پیش خدمت ہے:
[1] [قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انھیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ [الأنعام:56]
[2] [قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]
تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ [الأعراف:37]
[3] [وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا]
اور جب تمھیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جنھیں تم پوجتے ہو سب غائب ہو جاتے ہیں۔ پھر جب وہ تمھیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو۔[بني إسرائيل:67]
[4] [اَتَدۡعُوۡنَ بَعۡلًا وَّ تَذَرُوۡنَ اَحۡسَنَ الۡخَالِقِیۡنَ]
کیا بعل کو پوجتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھے پیدا کرنے والے کو۔ [الصافات:125]
[5] [اِنۡ یَّدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا ۚ وَ اِنۡ یَّدۡعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا]
یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو۔ [النساء:117]
[6] [وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ]
اور انھیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔ [الأنعام:108]
[7] [فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡہُمۡ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِیۡ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّکَ]
تو ان کے معبود جنھیں اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے، جب تمھارے رب کا حکم آیا۔ [هود:101]
[8] [وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ]
اور اللہ اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں۔ [النحل:20]
آپ غور سے ملاحظہ فرمائیں: کہ مندرجہ بالا آٹھ آیات میں لفظ ،،یدعون،، اور ،،تدعون،، کا ترجمہ پکارنے کی بجائے پوجنا کیا۔ اب ہم ان آیتوں کا حوالہ آپ کے سامنے پیش کریں گے۔ جن میں انھی الفاظ یعنی ،،تدعون،، اور ،،یدعون،، کا ترجمہ احمد رضا خان صاحب نے بار بار پکارنا کیا، کیونکہ ان کا ترجمہ پوجنا ممکن نہیں ہے:
[1] [قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[ بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ]
تم فرماؤ! بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو، کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو، بلکہ اس کو پکارو گے۔ تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہوا سے اٹھا لے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔ [الأنعام:41،40]
[2] [قَالَ ہَلۡ یَسۡمَعُوۡنَکُمۡ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ]
فرمایا کیا وہ تمھاری سنتے ہیں جب تم پکارو۔ [الشعراء:72]
[3] [اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُدۡعَوۡنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ]
کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ ملا، کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تا کہ وہ ان کا فیصلہ کرے۔ [آل عمران:23]
[4] [اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ]
جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی طرف نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول(ﷺ) تمھیں پکار رہے تھے تو تمھیں غم کا بدلا غم دیا۔ [آل عمران:153]
[5] [وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ]
اور دور نہ کرو انھیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں، صبح اور شام، اس کی رضا چاہتے ہیں۔ [الأنعام:52]
[6] [وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ]
اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہیں اور تمھاری آنکھیں انھیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں۔ [الكهف:28]
اس طرح اگر ہم ،،دعو،، لفظ سے نکلے ہوئے متعلقہ الفاظ کا قرآن میں مزید جائزہ لیں تو یہ بہت سی اور جگہوں پر بھی ہیں۔ اس تقابلی جائزے پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ جہاں بھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ یا اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے والوں کو کافر یا مشرک قرار دیا ہے۔ یا فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے والے ان کی عبادت کر رہے ہیں وہاں احمد رضا صاحب نے ،،دعو،، یعنی پکارنا سے نکلے ہوئے الفاظ کا ترجمہ پکارنا سرے سے کیا ہی نہیں۔ بلکہ پوجنا یا بندگی ترجمہ کیا ہے۔ اور تفسیر میں بت کا لفظ لکھ دیا ہے۔ یعنی لکھا ہے کہ بتوں کی پوجا منع ہے۔ اور اس سے عام مسلمان کو سخت گمراہ کیا ہے۔ کہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا منع نہیں ہے، صرف بتوں کی پوجا منع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ بلا خوف و خطر اللہ کے سوا دوسروں کو پکار رہے ہیں۔ اور شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور دوزخ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ اگر آپ یہ تقابلی جائزہ خود کرنا چاہیں تو احمد رضا خان صاحب کا [قرآنی ترجمہ و تفسیر مراد آبادی] سامنے رکھ لیں اور حافظ نذر احمد صاحب کا قرآنی ترجمہ بھی سامنے رکھ لیں، اس کے بعد ہماری نشاندہی کے مطابق دونوں قرآنی تراجم میں وہ مقامات نکال کر جائزہ لے لیں، فرق صاف نظر آ جائے گا۔ یاد رہے کہ حافظ نذر احمد صاحب کا قرآنی ترجمہ تینوں مسالک (یعنی) بریلوی، دیو بندی اور اہل حدیث کا نظر ثانی شدہ اور متفقہ علیہ ترجمہ ہے، یہ ترجمہ اردو بازار لاہور سے با آسانی دستیاب ہے۔
یادر ہے: کہ دعو (یعنی بلانا، پکارنا ، مانگنا) سے نکلے الفاظ کا یہی ترجمہ احمد رضا صاحب نے اپنے قرآنی ترجمہ میں بار بار کیا ہے۔ اور اس کا ترجمہ پوجا یا بندگی نہیں ہے۔ اور عبد کا ترجمہ پوجا کرنے والا یا بندگی کرنے والا ہوگا۔ عبد کا ترجمہ بلانے والا، پکارنے والا، مانگنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ عبد کا معنی بندہ ہے۔ ،،دعو،، یعنی پکارنا سے نکلے ہوئے الفاظ يدعو ، تدعو ، ندعو، يدعون، تدعون، دعاء دعوت، وغیرہ اور ،عبدت، نکلے ہوئے الفاظ نعبد، تعبد، يعبد، تعبدون، يعبدون وغیرہ ہوں گے۔
ترجمہ میں یہ گڑ بڑ احمد رضا صاحب کے قرآنی ترجمہ میں مندرجہ ذیل جگہوں پر کی گئی ہے۔
[النساء:117]،[الأنعام:108،71،56]،[الأعراف:37،29 ق 189 تا 198] (دو جگه) [هود:101]،[الكهف:14]،[مريم:48،47]،[العنكبوت:42]،[فاطر:14،13]،[الصافات:135]،[ الزمر:38]،[المومن:14 تا 20، 60 تا 66، 74]،[حم السجده:48]،[الزخرف:86]،[الأحقاف:5،4]،[الطور:28] ،[الجن:18 تا 20]،[بنی اسرائیل:67،57]،[الحج:73،62،13،12]،[يونس:106]،[النحل:86،20]، [الفرقان:77،68]،[المومنون:117]،[القصص:88]،[الشعراء:213]،[لقمان:30]
اور غضب یہ ہے کہ دعا جو عام فہم لفظ ہے جس کا معنی دعا کرنا، پکارنا یا مانگتا ہے اس لفظ دعا کا معنی بھی میں پوجا کیا گیا ہے۔
[مریم:48]،[الفرقان: 77]۔[الاحقاف:5] یہ واضح تحریف (یعنی) ٹیڑھا مطلب نکالنا ہے۔ صرف اپنا عقیدہ درست ثابت کرنے کے لیے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام جگہوں پر شیعہ نے ترجمہ صحیح کیا ہے۔
مندرجہ بالا جگہوں کے علاوہ باقی جگہ ان الفاظ کا ترجمہ بلانا یا پکارنا یا مانگنا یا دعا کیا ہے۔ کیونکہ وہاں مجبوری تھی، احمد رضا خان صاحب والا ترجمہ یعنی بندگی ممکن نہیں تھا۔ [البقرة :282،260،186،221،171،68،69،70،61،23]،[هود:62،13]،[المومن:50،49،43،42،41،26،12،10]،[الأعراف:189 تا 198 ،180،134،56،55،5]،
[یونس:89،38،25،22،12،10]،[ابراهیم:44،40،33،22،10،9]،[بني إسرائيل:110،71،56،52]،[حم السجده:51،49،33،31،5]اور بے شمار اور جگہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔
دراصل احمد رضا صاحب پہلے اپنا من گھڑت عقیدہ بناتے ہیں اور پھر اپنے خود ساختہ عقیدہ کے مطابق قرآن کا ترجمہ غلط کرتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ قرآن کو پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق اپنا عقیدہ بناتے لیکن یہاں الٹ معاملہ ہوا جیسا کہ آپ دعا یعنی پکارنا کے باب میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔