مضمون کے اہم نکات
احمد رضا خان صاحب کا قرآنی ترجمہ اور ان کی دو رخی:
اب ہم اس معاملے کی ایک اور زاویہ سے بھی تشریح کرنا چاہتے ہیں۔ احمد رضا خاں صاحب کے قرآنی ترجمے کا تقابلی جائزہ پیش خدمت ہے:
[1] [قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]
تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انھیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ [الأنعام:56]
[2] [قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]
تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ [الأعراف:37]
[3] [وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا]
اور جب تمھیں دریا میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جنھیں تم پوجتے ہو سب غائب ہو جاتے ہیں۔ پھر جب وہ تمھیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو۔[بني إسرائيل:67]
[4] [اَتَدۡعُوۡنَ بَعۡلًا وَّ تَذَرُوۡنَ اَحۡسَنَ الۡخَالِقِیۡنَ]
کیا بعل کو پوجتے ہو اور چھوڑتے ہو سب سے اچھے پیدا کرنے والے کو۔ [الصافات:125]
[5] [اِنۡ یَّدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا ۚ وَ اِنۡ یَّدۡعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا]
یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو۔ [النساء:117]
[6] [وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ]
اور انھیں گالی نہ دو جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے۔ [الأنعام:108]
[7] [فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡہُمۡ اٰلِہَتُہُمُ الَّتِیۡ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّکَ]
تو ان کے معبود جنھیں اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے، جب تمھارے رب کا حکم آیا۔ [هود:101]
[8] [وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ]
اور اللہ اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں۔ [النحل:20]
آپ غور سے ملاحظہ فرمائیں: کہ مندرجہ بالا آٹھ آیات میں لفظ ،،یدعون،، اور ،،تدعون،، کا ترجمہ پکارنے کی بجائے پوجنا کیا۔ اب ہم ان آیتوں کا حوالہ آپ کے سامنے پیش کریں گے۔ جن میں انھی الفاظ یعنی ،،تدعون،، اور ،،یدعون،، کا ترجمہ احمد رضا خان صاحب نے بار بار پکارنا کیا، کیونکہ ان کا ترجمہ پوجنا ممکن نہیں ہے:
[1] [قُلۡ اَرَءَیۡتَکُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُ اللّٰہِ اَوۡ اَتَتۡکُمُ السَّاعَۃُ اَغَیۡرَ اللّٰہِ تَدۡعُوۡنَ ۚ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ]،[ بَلۡ اِیَّاہُ تَدۡعُوۡنَ فَیَکۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنۡ شَآءَ وَ تَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِکُوۡنَ]
تم فرماؤ! بھلا بتاؤ تو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت قائم ہو، کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو، بلکہ اس کو پکارو گے۔ تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہوا سے اٹھا لے اور شریکوں کو بھول جاؤ گے۔ [الأنعام:41،40]
[2] [قَالَ ہَلۡ یَسۡمَعُوۡنَکُمۡ اِذۡ تَدۡعُوۡنَ]
فرمایا کیا وہ تمھاری سنتے ہیں جب تم پکارو۔ [الشعراء:72]
[3] [اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُدۡعَوۡنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ]
کیا تم نے انھیں نہ دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ ملا، کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تا کہ وہ ان کا فیصلہ کرے۔ [آل عمران:23]
[4] [اِذۡ تُصۡعِدُوۡنَ وَ لَا تَلۡوٗنَ عَلٰۤی اَحَدٍ وَّ الرَّسُوۡلُ یَدۡعُوۡکُمۡ فِیۡۤ اُخۡرٰىکُمۡ فَاَثَابَکُمۡ غَمًّۢا بِغَمٍّ]
جب تم منہ اٹھائے چلے جاتے تھے اور پیٹھ پھیر کر کسی طرف نہ دیکھتے اور دوسری جماعت میں ہمارے رسول(ﷺ) تمھیں پکار رہے تھے تو تمھیں غم کا بدلا غم دیا۔ [آل عمران:153]
[5] [وَ لَا تَطۡرُدِ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ]
اور دور نہ کرو انھیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں، صبح اور شام، اس کی رضا چاہتے ہیں۔ [الأنعام:52]
[6] [وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ]
اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہیں اور تمھاری آنکھیں انھیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں۔ [الكهف:28]
اس طرح اگر ہم ،،دعو،، لفظ سے نکلے ہوئے متعلقہ الفاظ کا قرآن میں مزید جائزہ لیں تو یہ بہت سی اور جگہوں پر بھی ہیں۔ اس تقابلی جائزے پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ جہاں بھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ یا اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے والوں کو کافر یا مشرک قرار دیا ہے۔ یا فرمایا ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے والے ان کی عبادت کر رہے ہیں وہاں احمد رضا صاحب نے ،،دعو،، یعنی پکارنا سے نکلے ہوئے الفاظ کا ترجمہ پکارنا سرے سے کیا ہی نہیں۔ بلکہ پوجنا یا بندگی ترجمہ کیا ہے۔ اور تفسیر میں بت کا لفظ لکھ دیا ہے۔ یعنی لکھا ہے کہ بتوں کی پوجا منع ہے۔ اور اس سے عام مسلمان کو سخت گمراہ کیا ہے۔ کہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا منع نہیں ہے، صرف بتوں کی پوجا منع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ بلا خوف و خطر اللہ کے سوا دوسروں کو پکار رہے ہیں۔ اور شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور دوزخ کا ایندھن بن رہے ہیں۔ اگر آپ یہ تقابلی جائزہ خود کرنا چاہیں تو احمد رضا خان صاحب کا [قرآنی ترجمہ و تفسیر مراد آبادی] سامنے رکھ لیں اور حافظ نذر احمد صاحب کا قرآنی ترجمہ بھی سامنے رکھ لیں، اس کے بعد ہماری نشاندہی کے مطابق دونوں قرآنی تراجم میں وہ مقامات نکال کر جائزہ لے لیں، فرق صاف نظر آ جائے گا۔ یاد رہے کہ حافظ نذر احمد صاحب کا قرآنی ترجمہ تینوں مسالک (یعنی) بریلوی، دیو بندی اور اہل حدیث کا نظر ثانی شدہ اور متفقہ علیہ ترجمہ ہے، یہ ترجمہ اردو بازار لاہور سے با آسانی دستیاب ہے۔
یادر ہے: کہ دعو (یعنی بلانا، پکارنا ، مانگنا) سے نکلے الفاظ کا یہی ترجمہ احمد رضا صاحب نے اپنے قرآنی ترجمہ میں بار بار کیا ہے۔ اور اس کا ترجمہ پوجا یا بندگی نہیں ہے۔ اور عبد کا ترجمہ پوجا کرنے والا یا بندگی کرنے والا ہوگا۔ عبد کا ترجمہ بلانے والا، پکارنے والا، مانگنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ عبد کا معنی بندہ ہے۔ ،،دعو،، یعنی پکارنا سے نکلے ہوئے الفاظ يدعو ، تدعو ، ندعو، يدعون، تدعون، دعاء دعوت، وغیرہ اور ،عبدت، نکلے ہوئے الفاظ نعبد، تعبد، يعبد، تعبدون، يعبدون وغیرہ ہوں گے۔
ترجمہ میں یہ گڑ بڑ احمد رضا صاحب کے قرآنی ترجمہ میں مندرجہ ذیل جگہوں پر کی گئی ہے۔
[النساء:117]،[الأنعام:108،71،56]،[الأعراف:37،29 ق 189 تا 198] (دو جگه) [هود:101]،[الكهف:14]،[مريم:48،47]،[العنكبوت:42]،[فاطر:14،13]،[الصافات:135]،[ الزمر:38]،[المومن:14 تا 20، 60 تا 66، 74]،[حم السجده:48]،[الزخرف:86]،[الأحقاف:5،4]،[الطور:28] ،[الجن:18 تا 20]،[بنی اسرائیل:67،57]،[الحج:73،62،13،12]،[يونس:106]،[النحل:86،20]، [الفرقان:77،68]،[المومنون:117]،[القصص:88]،[الشعراء:213]،[لقمان:30]
اور غضب یہ ہے کہ دعا جو عام فہم لفظ ہے جس کا معنی دعا کرنا، پکارنا یا مانگتا ہے اس لفظ دعا کا معنی بھی میں پوجا کیا گیا ہے۔
[مریم:48]،[الفرقان: 77]۔[الاحقاف:5] یہ واضح تحریف (یعنی) ٹیڑھا مطلب نکالنا ہے۔ صرف اپنا عقیدہ درست ثابت کرنے کے لیے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا تمام جگہوں پر شیعہ نے ترجمہ صحیح کیا ہے۔
مندرجہ بالا جگہوں کے علاوہ باقی جگہ ان الفاظ کا ترجمہ بلانا یا پکارنا یا مانگنا یا دعا کیا ہے۔ کیونکہ وہاں مجبوری تھی، احمد رضا خان صاحب والا ترجمہ یعنی بندگی ممکن نہیں تھا۔ [البقرة :282،260،186،221،171،68،69،70،61،23]،[هود:62،13]،[المومن:50،49،43،42،41،26،12،10]،[الأعراف:189 تا 198 ،180،134،56،55،5]،
[یونس:89،38،25،22،12،10]،[ابراهیم:44،40،33،22،10،9]،[بني إسرائيل:110،71،56،52]،[حم السجده:51،49،33،31،5]اور بے شمار اور جگہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔
دراصل احمد رضا صاحب پہلے اپنا من گھڑت عقیدہ بناتے ہیں اور پھر اپنے خود ساختہ عقیدہ کے مطابق قرآن کا ترجمہ غلط کرتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ قرآن کو پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق اپنا عقیدہ بناتے لیکن یہاں الٹ معاملہ ہوا جیسا کہ آپ دعا یعنی پکارنا کے باب میں ملاحظہ فرما چکے ہیں۔
اب ہم وہ آیات درج کرتے ہیں جن کے ترجمہ میں احمد رضا خان صاحب نے گڑ بڑ کی ہے:
وہ آیات جن میں ،،یدعون،،اور ،،يدعونه،، ہے اور ترجمہ غلط کیا گیا ہے:
[النساء:117،116]،[الأنعام:108]،[هود:101]،[النحل:17 تا 23]،[بنى إسرائيل:57،56]،[الحج:61تا 66]،[الفرقان:18]،[العنكبوت:42،41]،[لقمان:30 تا 32]،[الزخرف:82 تا 89]،[حم السجدة:48]
اب ہم وہ آیات درج کرتے ہیں جس میں احمد رضا خان صاحب نے ،،يدعون،، کا درست ترجمہ کیا ہے:
[البقرة:221]،[ آل عمران:104،23]،[الانعام:71،52]،[یونس:66]،[يوسف:33]،[الانبياء:90]،[الرعد:14]،[الكهف:28]،[القصص:41]،[السجدة: 16]،[یس:57]،[ص:51]،[الدخان:55]،[القلم:43،42]
وہ آیات جن میں ،،تدعون،، ہے اور ترجمہ غلط کیا گیا ہے:
[ الانعام:56]،[الاعراف:196،194،37]،[بنی اسرائیل:67]،[مریم:47 تا 49]،[الحج:74،73]،[الصافات:125 تا 128]،[الزمر:38 تا 40]،[الأحقاف:1تا6]
اب ہم وہ آیات درج کرتے ہیں جن میں لفظ ،،تدعون،، کا درست ترجمہ کیا گیا ہے:
[ابراهيم:9]،[الأنعام:63،41،40]،[الشعراء:72]،[المؤمن:10، 41تا 43]،[3 دفعه]،[حم السجدة:31]،[محمد:38]،[الفتح:16]،[الملك:28]
وہ آیات جن میں ،،تدع،، اور ،،یدع،، آتا ہے، لیکن ترجمہ غلط کیا گیا ہے:
[یونس:103 تا 109]،[المؤمنون:117،116]،[الشعراء:213]،[القصص:88]
وہ آیات جن میں ،،تدع،، اور ،،يدع،، وغیرہ کا درست ترجمہ کیا گیا ہے:
[فاطر:18]،[الكهف:57]،[بنی اسرائیل:11]،[المؤمن:26]،[القمر:6 تا 8]،[العلق:17]
وہ آیات جن میں (ادعو، تدعو، يدعو، ندعو ) وغیرہ ہیں لیکن ترجمہ غلط کیا گیا ہے:
[الأعراف:194]،[النحل:86]،[الكهف:14]،[مريم:47 تا 49]،[الحج:13،12]،[الجن:18 تا 23]،[الأحقاف:1 تا 6]،[الطور:28]
وہ آیات جن میں ان الفاظ کا درست ترجمہ کیا گیا ہے:
[الأعراف:56،55، 189 تا 198]،[یونس:38]،[هود:13]،[يوسف:108]،[الرعد:36]،[بنی إسرائيل:110،56]،[ المؤمنون:73]،[الفرقان:14،13]،[فاطر:14،13]،[محمد:35]،[یونس:25]،[هود:62]،[إبراهيم:9]،[بنى إسرائيل:52]،[الزمر:8]،[فاطر:6]،[بني إسرائيل:71]
وہ آیات جن میں ،،دعا،، کا لفظ آیا ہے لیکن ترجمہ ٹھیک نہیں کیا:
[مریم:47تا49]،[الفرقان:77]،[الأحقاف:1تا6]
وہ آیات جن میں ،،دعا،، کا صحیح ترجمہ کیا:
[البقرة :171]،[آل عمران:38]،[يونس:89،12]،[الرعد:14]،[ابراهيم:40،39]،[بنى إسرائيل:11]،[مريم:4]،[الأنبياء:45]،[النور:63]،[الزمر:49]
قرآن مجید میں پکارنے کے بارے میں بے شمار جگہ ذکر وارد ہوا ہے، لیکن سورہ فاطر اور سورة المؤمن، یہ دونوں سورتیں مکمل طور پر پکارنے کے موضوع پر ہیں، اس لیے ان سورتوں کا ہم یہاں تفصیلی ذکر کریں گے:
سورہ فاطر میں (دعو) سے بننے والے الفاظ کا رضا خانی ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
اس سورت کی [آیت :6]میں لفظ (یدعوا) آیا ہے جس کا ترجمہ ،،بلاتا،، ہے کیا گیا۔
اس سورت کی [آیات13تا18] میں لفظ(تدعون) کا ترجمہ ،،پوجتے،، کیا گیا ہے۔ اور(تدعوهم) کا ترجمہ ،،تم انھیں پکارو،، کیا گیا ہے۔ اور (دعاء کم) کا ترجمہ ،،تمھاری پکار،،کیا گیا ہے۔ اور (تدع) کا ترجمہ ،،بلانا،، کیا گیا ہے۔
اس سورت کی [آیات38تا41]میں لفظ (تدعون) کا ترجمہ ،،پوجتے،، کیا گیا ہے۔
اب تک آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ مندرجہ بالا تفصیل سے صاف ظاہر ہے کہ جان بوجھ کر ان الفاظ کا غلط ترجمہ کیا گیا۔
سورۃ المومن کے (دعو) سے بننے والے الفاظ کا یہاں رضا خانی ترجمہ درج کیا جاتا ہے:
اس سورت کی [آیت:10]میں ،،تدعون،، کا ترجمہ ،،بلانا،، کیا گیا ہے۔
اس سورت کی [آیت:12]میں [دُعِیَ اللّٰہُ وَحۡدَہٗ] کا ترجمہ ایک اللہ کو پکارنا کیا گیا ہے۔
اس سورت کی [آیت:14] میں [فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ] کا ترجمہ اللہ کی بندگی کرو، نرے اس کے بندے ہو کر کیا گیا ہے۔
اس سورت کی [آیت:20] میں ،،یدعون،، کا ترجمہ ،،پوجتے،، کیا گیا ہے۔
اس سورت کی [آیت:26] میں ،،یدع،، کا ترجمہ ،،پکارنا،، کیا گیا ہے۔
اس سورت کی [آیات:41تا43] میں ،،أدعوكم،، دو بار آیا۔ اور ،،تدعوننی،، تین بار آیا۔ اور ،،دعوۃ،، ایک بار آیا۔سب کا ترجمہ درست کیا۔
اس سورت کی [آیات:40تا74] میں ،،ادعونی،، کا ترجمہ درست کیا۔ اور ،،فادعوہ،، اور،، تدعون،، اور ،،ندعوا،، کا ترجمہ درست نہیں کیا۔
سورہ فاطر اور سورۃ المؤمن کی مندرجہ بالا آیات کے جو حوالے ہم نے اوپر دیے آپ خود ہی اندازہ فرمائیں، کہ اس میں دیدہ و دانستہ غلط ترجمہ کیا گیا۔ اور جہاں چاہا درست ترجمہ کر دیا۔ یہ ہے ان کی دو رخی اور اللہ تعالی کے کلام میں واضح تحریف ۔
ایک اہم نکتہ:
اگر ،،دعو،، سے بنے ہوئے الفاظ کا ترجمہ عبادت مان لیا جائے تو وہ دو احادیث جن کا اس تفسیر میں [المؤمن:60 ، ف:127] اور [الاعراف56،55، ف:100] میں ذکر ہے، ان کا ترجمہ اور تفصیل کچھ یوں ہوگی:
[الدعاء هو العبادة] [أبو داؤد:1479]،[ ترمذی:2969]
ان کے کہنے کے مطابق ترجمہ یوں ہو گا [عبادت عبادت ہے]
اور دوسری حدیث: [الدعاء مخ العبادة ] [ترمذی:3371] کا۔ ان کے کہنے کے مطابق ترجمہ یوں ہوگا عبادت عبادت کا مغز ہے۔
ظاہر ہے یہ معنی بے معنی ہیں، اور ان دو حدیثوں کا درست ترجمہ یہ ہوگا: پکارنا ہی عبادت ہے۔ اور دوسری حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا: پکارنا عبادت کا مغز ہے۔
اور [مراد آبادی صاحب کی تفسیر المؤمن60، ف:127]،[الأعراف:56،55، ف:100] میں یہ بھی لکھا ہے کہ دعا عبادت ہے۔ یہ قرآن میں بہت جگہ وارد ہوا ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات کلی طور پر ثابت ہوگئی کہ جو غیر اللہ کو پکارتا ہے وہ غیر اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس طرح غیر اللہ کو پکارنے والا شرک فی الحکم کر رہا ہے۔ کیونکہ اس نے نہ اللہ کی مانی نہ رسول اللہﷺ کی اس سلسلہ میں مانی۔ وہ شرک فی الذات بھی کر رہا ہے۔ کیونکہ عبادت اللہ کے سوا صرف اس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی ذات میں سے نکلا ہو۔ [الزخرف:81] اور کسی کی بھی اللہ کے سوا عبادت نہیں ہو سکتی۔ وہ شرک فی الصفات بھی کر رہا ہے، کیونکہ اس نے اللہ کی صفت غیراللہ میں رکھ دی۔ وہ شرک فی العلم بھی کر رہا ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو غیراللہ کو پکار رہا ہوں، وہ ہستی میرے پکارنے کا علم رکھتی ہے۔ حالانکہ اللہ قریب ہے، یہ قرآن میں ہے اور کوئی قریب نہیں ہے۔ [البقرة:186]،[هود:123]،[سبا:50] وہ شرک فی العبادت بھی کر رہا ہے، کیونکہ پکارنا عبادت ہے، اس طرح غیر اللہ کو پکارنے والا [لا الہ الا اللہ] ہی کا منکر ہو گیا۔ اور وہ اسلام سے خارج ہو گیا، کیونکہ کلمہ پڑھ کر وہ اسلام میں داخل ہوا، جب اس نے غیر اللہ کو پکارا تو اس نے غیر اللہ کی عبادت کی، اس طرح وہ
[لا الہ الا اللہ] کا منکر ہو گیا، کیونکہ کلمہ کا مطلب ہے اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں۔
قرآن عقل استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے، جس فوت شدہ کو ہم غسل دیتے ہیں، کفن پہناتے ہیں، کاندھوں پر اٹھا کر قبر تک لے جاتے ہیں، قبر میں اتارتے ہیں، اس کے اوپر منوں مٹی ڈالتے ہیں، اس کا جنازہ اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ پھر اسے ہی پکارنا شروع کر دیتے ہیں، اسے داتا مشکل کشا کہتے ہیں، اسے غوث الاعظم سمجھتے ہیں۔ کیا یہ لوگ اتنی عام کی بات کو بھی نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ بقول نعیم مراد آبادی صاحب کے جو فوت ہو جائے اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں۔ دیکھیے:
[تفسیر مراد آبادی: الشعراء:89 ، ف:92]
ان کی گڑ بڑ کے کچھ مزید نکات:
[وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ۙ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ وَ النُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ]،[ وَ مَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ]،[ وَ ہُوَ الَّذِیۡ سَخَّرَ الۡبَحۡرَ لِتَاۡکُلُوۡا مِنۡہُ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡا مِنۡہُ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ مَوَاخِرَ فِیۡہِ وَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ]،[ وَ اَلۡقٰی فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمۡ وَ اَنۡہٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ]،[ وَ عَلٰمٰتٍ ؕ وَ بِالنَّجۡمِ ہُمۡ یَہۡتَدُوۡنَ]،[ اَفَمَنۡ یَّخۡلُقُ کَمَنۡ لَّا یَخۡلُقُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ]،[ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]،[ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ]،[ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَا یَخۡلُقُوۡنَ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]،[ اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]،[ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَالَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مُّنۡکِرَۃٌ وَّ ہُمۡ مُّسۡتَکۡبِرُوۡنَ]،[ لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ]
اور اس نے تمھارے لیے مسخر کیے رات اور دن اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں، بے شک اس میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کو (ف18) اور وہ جو تمھارے لیے زمین میں پیدا کیا رنگ برنگ (ف19) بے شک اس میں نشانی ہے یاد کرنے والوں کو اور وہی ہے جس نے تمھارے لیے دریا مسخر کیا (ف20) کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو (ف21) اور اس میں سے گہنا نکالتے ہو جسے پہنتے ہو (ف22) اور تو اس میں کشتیاں دیکھے کہ پانی چیر کر چلتی ہیں اور اس لیے کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور کہیں احسان مانو اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے۔ (ف23) کہ کہیں تمھیں لے کر نہ کانپے اور ندیاں اور رستے کہ تم راہ پاؤ (ف24) اور علامتیں (ف25) اور ستارے سے وہ راہ پاتے ہیں (ف26) تو کیا جو بنائے (ف27) وہ ایسا ہو جائے گا جو نہ بنائے (ف28) تو کیا تم نصیحت نہیں مانتے اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انھیں شمار نہ کر سکو گے (ف29) بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف30) اور اللہ جانتا ہے (ف31) جو چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو اور اللہ کے سوا جن کو پوجتے ہیں (ف32) وہ کچھ بھی نہیں بناتے اور (ف33) وہ خود بنائے ہوئے ہیں (ف34) مردے ہیں (ف35) زندہ نہیں اور انھیں خبر نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ (ف36) تمھارا معبود ایک معبود ہے۔ (ف37) تو وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کے دل منکر ہیں (ف38) اور وہ مغرور ہیں(ف39) فی الحقیقت اللہ جانتا ہے جو چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں، بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔ [النحل:12تا23]
مندرجہ بالا آیات اور ترجمہ کو بار بار غور سے پڑھیں، ان آیات کے ترجمے اور تفسیر میں از بر دست گڑ بڑ اور تحریف کی گئی ہے۔
ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر یہ یہ نعمتیں کی ہیں۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور وحدانیت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فاعل و مختار ہے اور اس کو سب قدرت و اختیار حاصل ہے اور تم ایسے خالق و مالک کی عبادت چھوڑ کر کسی بھی اور کو مت پکارو کیونکہ وہ اکیلا معبود ہے، خالق کو پکارو، مخلوق کو نہ پکارو، کیونکہ خالق نے سب کو پیدا کیا، مخلوق کچھ پیدا نہیں کر سکتی۔
ان واضح آیات کے باوجود رضا خانی ترجمہ مع تفسیر میں جو کچھ تحریف کی گئی ہے وہ درج ذیل ہے:
[1] یہاں ،،خلق،، سے نکلے ہوئے چار الفاظ ہیں : [يَخْلُق: دو مرتبہ]،[يَخْلُقُونَ، يُخْلَقُونَ] ان کا ترجمہ پیدا کرنا ہے۔ لیکن اس ترجمہ میں پیدا کرنے کی بجائے ،،بنانا،، ترجمہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا: کہ میں نے سب کچھ پیدا کیا، کوئی اور ہستی کچھ پیدا نہیں کر سکتی، لہٰذا مجھے پکارو، میری عبادت کر ولیکن یہاں بنانا ترجمہ چار دفعہ لکھ کر تفسیر میں بت لکھ دیا اور مطلب یہ نکالا کہ بت کچھ نہیں بنا سکتے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ان آیات کا مطلب ساری مخلوق کی طرف سے پھیر کر بتوں کی طرف کر دیا کہ بت کچھ نہیں کر سکتے ، حالانکہ ہر ذی شعور شخص ان آیات سے یہ مطلب آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ کہ ان آیات میں بیان کردہ اللہ کی صفات اللہ کےسوا اور کسی میں نہیں۔
[2] یہاں [یدعون] کا لفظ بیان ہوا ہے۔ جس کا معنی ہے پکارنا اور اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں، وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں، مردے ہیں، زندہ نہیں اور انھیں خبر نہیں کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ یہ آیات فوت شدہ مخلوق کو پکارنے کی صاف نفی کر رہی ہیں لیکن یہاں اس بات کا ذکر تک نہیں اور محض بتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو سراسر تحریف ہے۔
[3] تیسری بات یہ ہے کہ ان . آیات میں [يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ] وارد ہوا ہے۔ یعنی اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں۔ [مِنْ دُونِ اللهِ] کے باب میں نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔ کہ احمد رضا خانی قرآن ہی میں [مِنْ دُونِ اللهِ] سے مراد ساری مخلوق ہے، جس میں انبیاء بھی شامل ہیں لیکن یہاں [مِنْ دُونِ اللهِ] کی تفسیر میں بت لکھ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ان آیات میں ساری مخلوق کی نفی فرما رہا ہے لیکن یہ صاحب صرف بتوں کی نفی کر رہے ہیں۔ جو واضح تحریف ہے۔
بالکل اسی طرح کی تحریفیں:
[فاطر38 تا 41]،[الأحقاف:1 تا 6]اور [الأعراف 189 تا 198]میں بھی کی گئی ہیں۔ آپ خود مطالعہ کر سکتے ہیں۔ [سورہ یونس103تا109] میں ،،تدع،، کا ترجمہ بندگی کیا، باقی ترجمہ وتفسیر بالکل درست کیا، ان آیات کو پڑھ کر اوپر والی تحریف صاف سمجھ آرہی ہے۔
یادر ہے کہ اوپر والے چار حوالے جب آپ قرآن مجید میں ترجمے کے ساتھ پڑھیں گے تو یہ بات بالکل عیاں ہو جائے گی، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے دلائل دے کر فرمایا: کہ صرف میری عبادت کرو، صرف مجھے پکارو، مخلوق کو نہ پکارو۔
اور مندرجہ ذیل مقامات پر بھی تحریف کی گئی ہے:
[الروم:28تا40، ف:88،87]،[سبا:22تا27 مع فوائد]،[فاطر:1تا41 فوائد:2تا102]،[الزمر:29تا46]،[الشورى:1تا12مع فوائد]
یادر ہے کہ احمد رضا خانی ترجمہ میں مندرجہ ذیل جگہوں پر (خلق) ،،پیدا کرنا،، سے نکلے ہوئے الفاظ کا بار بار پیدا کرنا ترجمہ کیا گیا ہے۔ چند جگہوں کی نشاندہی یہ ہے:[البقرة :228،164،21]،[آل عمران:191،190،47]، [الأنعام:101،94،2]،[الأعراف :189،54،11]،[الروم:40،22،20،8] اور بہت سی اور بھی جگہ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے ترجمے میں (خلق) سے نکلے ہوئے الفاظ میں کئی جگہ پیدا کرنا بھی ترجمہ کر دیا ہے۔ اور ،،بنانا،، ترجمہ بھی کر دیا ہے، لیکن اپنے مطلب اور عقیدے کے مطابق۔ مثلاً: [الاعراف :189تا198] میں دونوں ترجمے کیے ہیں، آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
،،دعو،، الفاظ کے ترجمہ میں رضا خانی قرآن کے تضادات:
[1] الفاظ سب پکارنا ترجمہ بھی سب پکارنا کیا:
[الأنعام:41،40]،[الرعد:14تا16]،[بنی إسرائيل:110، ف:230]،[الروم:25 تا 3]،[البقرة:221،186]، [القصص:64]،[الكهف:52]،[المومن:41تا43]،[فاطر:14]،[القمر:6]،[الشعراء:72]،[الكهف:52،28] ،[الأحقاف:32،31]،[الزمر:8]،[العلق:18،17]،[الفرقان:14،13]،[القلم:43،42]
[2]عبادت اور پکارنا دونوں الفاظ وارد ہوئے، ترجمہ صرف بندگی کیا:
[الأنعام:56]،[یونس:104تا107]،[الكهف:14تا16، ف19]،[الشعراء:213]،[القصص:88]،[المؤمن:66،65]،[المؤمنون:117،116]،[الفرقان:68]،[هود:101]،[الفرقان:68]
[3]لفظ دونوں پکارنا وارد ہوئے، ترجمہ دونوں کا بندگی کیا :
[الأحقاف:4تا6]،[الجن:18 تا 20]،[مریم:48]
[4] عبادت اور پکارنا دونوں الفاظ وارد ہوئے، ترجمہ بھی عبادت اور پکارنا کیا:
[الرعد:36]،[النحل:62]،[سوره یونس:62]
[5]لفظ دونوں پکارنا وارد ہوئے ایک کا ترجمہ بندگی کیا، اور ایک کا پکارنا کیا:
[الأنعام:71]،[بني إسرائيل:57،56]،[بنی اسرائیل:67 ، ف:148]،[لقمان:25 تا 32]،[القصص:88،87]،[الأعراف:189تا198]
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ سے فرمایا:
کہ میرے بندوں کو نہ پکارو، اگر تم سچے ہو تو ان کو پکارو وہ تمھیں جواب دیں۔ [الاعراف:189تا198]
اور یہود و نصاری سے فرمایا:
کہ اپنے نبیوں کو نہ پکارو، دیکھیے: [رضا خانی ترجمہ مع تفسیر :بنی اسرائیل:57،56، ف:118] اور [الجن:18تا20، ف:38]،[الأعراف:37تا41، ف61تا69] یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہ غیر اللہ کو پکارنے والا موت کے وقت اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ اور ایسوں کی بخشش ناممکن ہے جب تک سوئی کے نکے میں سے اونٹ نہ گزر جائے۔








