عن معاذ بن رفاعة بن رافع الزرقي عن أبيه وكان أبوه من أهل بدر قال جاء جبريل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال ما تعدون أهل بدر فيكم؟ قال من أفضل المسلمين أو كلمة نحوها قال وكذلك من شهد بدرا من الملائكة.
”معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی سے روایت ہے وہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں اور ان کے والد جنگِ بدر میں شرکت کرنے والوں میں شامل تھے، وہ کہتے ہیں کہ جب جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”آپ اپنے میں بدر والوں کو کیا شمار کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم انہیں تمام مسلمانوں میں افضل شمار کرتے ہیں (یا اسی طرح کی بات کہی)۔“ جبریل علیہ السلام نے فرمایا: ”بدر میں شرکت کرنے والے فرشتے بھی ایسے ہی ہیں (یعنی وہ بھی تمام فرشتوں میں افضل ہیں)۔“
( صحیح البخاری) (رواہ البخاری، کتاب المغازی، باب شہود الملائکة بدراً، الرقم: 3992)
فوائد
➊ جہاد ایسا فضیلت والا عمل ہے کہ اس سے انسان تو کیا فرشتوں کو بھی شرف حاصل ہو جاتا ہے۔
➋ اس حدیث سے بدر میں شریک تمام صحابہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
➌ فرشتوں کا نزول جنگِ بدر کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی ہوا ہے لیکن جو فرشتے اس موقع پر حاضر تھے وہ دوسروں سے افضل ہیں۔
➍ اہلِ بدر کی اہمیت: حدیث مذکور سے اہل بدر کی اہمیت و شرف معلوم ہوا اور وہ اس طرح کہ جبریل علیہ السلام کا استفہام کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا کہ تم اپنے میں اہل بدر کو کیا شمار کرتے ہو؟