ذبح کے وقت قربانی کرنے والے کا ذکر کرنا صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

ذبح کے وقت جس کی طرف سے قربانی کی جائے اس کا ذکر کرنا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ ذبح کرتے وقت جس کی طرف سے قربانی کی جائے اس کا ذکر کیا جائے۔ اس بات پر دلالت کرنے والی احادیث میں سے دو درج ذیل ہیں:
➊ امام مسلم کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت کردہ حدیث میں یہ بات پہلے ذکر ہو چکی ہے کہ:
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری کو تھاما اور مینڈھے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا، پھر آپ نے کہا:
بسم الله اللهم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمة محمدﷺ
”اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ۔ اے اللہ! محمد، آل محمد اور امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قبول فرمائیے۔“
حوالہ حدیث کے لیے ملاحظہ ہو: اس کتاب کا ص 36
امام نووی نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے:
فيه دليل لاستحباب قول المضحي حال الذبح مع التسمية والتكبير اللهم تقبل مني
”یہ [حدیث] اس بات پر دلالت کرتی ہے، کہ قربانی کرنے والے کا ذبح کرتے وقت [بسم الله والله اکبر] کے ساتھ اللهم تقبل مني ( ترجمہ: اے اللہ ! مجھ سے قبول فرمائیے۔ ) کہنا مستحب ہے۔ “
شرح النووي 122/13
➋ امام ابو داؤد نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
”شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الأضحى فى المصلى فلما قضى خطبته نزل من منبره وأتي بكبش فذبحه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده وقال:
بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي“

”میں (عید الاضحیٰ کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عید گاہ حاضر ہوا، خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپ منبر سے اترے۔ ایک مینڈھے کو لایا گیا اور آپ نے اسے اپنے دست( مبارک سے) ذبح فرمایا اور کہا:
بسم الله والله أكبر، هذا عني وعمن لم يضح من أمتي.
اللہ تعالیٰ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑے ہیں، یہ [قربانی] میری طرف سے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے جس نے قربانی نہیں کی۔“
سنن أبی داود کتاب الضحايا، باب فى الشاة يضحي بها عن جماعة، رقم الحديث 2807، 3/8 شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود 540/2)

تنبیہ :

بعض لوگوں کی رائے میں ذبح کرتے وقت جس کی طرف سے قربانی کی جائے اس کا ذکر کرنا مکروہ ہے، لیکن ان کی یہ رائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ثابت شدہ سنت کی مخالفت کی بنا پر قابل التفات نہیں۔