عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا’ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب: (من عرف نفسه فقد عرف ربه) یہ بھی من گھڑت روایت ہے، اس کی سند کا ہی پتا نہیں۔ امام نووی نے کہا:[ليس هو ثابتا] یہ ثابت نہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے موضوع کہا ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اسناد دین میں سے ہیں، اگر اسناد نہ ہوں تو جو کوئی جو چاہے کہتا رہے۔
[مقدمة صحيح مسلم، باب بيان أن الإسناد من الدين .. إلخ: 32]
سوال: کیا اللہ کے سوا کوئی اور مافوق الاسباب (بغیر اسباب کے) لوگوں کی تکالیف کا علم رکھتا ہے؟
جواب: اللہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ہے۔ فرمایا:[اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیۡرًۢا بَصِیۡرًا] بے شک اللہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے۔ (بنى إسرائيل: 30)
کسی فوت شدہ کو لوگوں کی تکالیف کا علم نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ] اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہو گا جو اللہ کے سوا ایسے شخص کو پکارے جو قیامت تک بھی اسے جواب نہ دے سکے اور وہ ان کی پکار ہی سے غافل ہوں۔ (الأحقاف:5)
خود رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ] (اے نبی!) آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں۔(فاطر:22)
یہ بھی فرمایا: [فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی] پس بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ (الروم:52)
جب رسول اللہ ﷺ مردوں کو نہیں سنا سکتے تو اور کون ہے جو مردوں کو اپنی مشکلات سے آگاہ کر سکے۔ اس لیے فرمایا: [اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ] بھلا کون بے قرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور کون اس کی تکلیف دور کرتا ہے۔ (النمل:62)
سوال: حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اے محمد!) اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو کائنات پیدا نہ کرتا، کیا یہ فرمانِ رسول نہیں؟
جواب: (لو لاك لما خلقت الأفلاك) یہ روایت من گھڑت ہے۔ امام اصفہانی نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ ایسی بلا سند روایت کو ماننا جائز نہیں، جب کہ قرآنِ حکیم بھی اس نظریہ کی تردید کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ]
میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ (الذاریات:56)
معلوم ہوا کہ تخلیقِ کائنات کا سبب رسول اللہ ﷺ کی ذات نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کا مقصد بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی ہے۔
سوال: سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ] کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔(الفيل:1)،،تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اس واقعہ کو دیکھ رہے تھے، حالانکہ آپ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔
جواب: ،،ألم تر،، (کیا تو نے نہیں دیکھا) سے مراد مشاہدہ نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ] کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی بستیاں ہلاک کیں۔ (الأنعام:6)
اب کیا مشرکینِ مکہ کے بارے میں بھی یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ اپنی پیدائش سے پہلے ہلاک ہونے والی بستیوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہ بھی فرمایا: [فَاَمَّا عَادٌ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ قَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ؕ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَہُمۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً] پس قومِ عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہنے لگے کہ ہم سے قوت میں کون زیادہ ہے؟ کیا انھوں نے دیکھا ہے، اللہ وہ ہے جس نے انھیں پیدا کیا، وہ قوت میں ان سے زیادہ ہے۔ (حم السجدة:15)
اب کیا قومِ عاد نے اللہ تعالیٰ کو تخلیقِ انسانیت کرتے ہوئے آنکھ سے دیکھا تھا، الغرض ،،ألم تر،، سے مراد آنکھ سے مشاہدہ کرنا نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ باتیں سب کے علم میں ہیں۔ (الأنبیاء:30)،(العنکبوت:19)،(یٰس:31، 77)،(الأحقاف:33)،(نوح:15)،(الکھف:48)
ان آیات سے ان لوگوں کے اس باطل عقیدہ کی واضح تردید ہوتی ہے۔