مضمون کے اہم نکات
عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا شرک کا ارتکاب کرنے والے کو اس کے نیک اعمال فائدہ دیں گے؟
جواب: نیک اعمال (صدقہ، خیرات، نماز، روزہ، لوگوں سے حسن سلوک) عقیدہ شرک کی موجودگی میں بے کار ہو جاتے ہیں اور اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں رہتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قانون کی انتہائی بالادستی بیان کرتے ہوئے ابراہیم، اسحاق، یعقوب، داؤد، سلیمان اور ایوب علیہم السلام سمیت 18 جلیل القدر انبیاء کا نام لے کر فرمایا:[وَ لَوۡ اَشۡرَکُوۡا لَحَبِطَ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ] اور اگر (بفرضِ محال) ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کے بھی سب اعمال ضائع ہو جاتے۔ (الأنعام:88)
سوال: کیا شرک کرنے سے آدمی کا اسلام جاتا رہتا ہے
جواب: جس طرح نماز میں کلام کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، ہوا خارج کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جان بوجھ کر کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح شرک کرنے سے آدمی کا اسلام جاتا رہتا ہے خواہ خود کو مسلمان کہے۔ اس کے بعد آدمی کا ہر عمل خود بخود ضائع ہو جاتا ہے، اسے عقائد کی اصطلاح میں نواقضِ اسلام کہتے ہیں۔ اسلامی فقہ کی ہر کتاب میں باب المرتد موجود ہے یعنی وہ باتیں جو کسی کلمہ گو کو کافر کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد اس امر کی گنجائش نہیں رہتی کہ شرک کا داعی یا طاغوت کی کرسی پر بیٹھا ہوا کوئی کلمہ گو ہو تو اسے مسلمان کہا یا سمجھا جائے۔
سوال: کیا عامۃ الناس کو کافر سمجھا جائے گا؟
جواب: کسی گمان اور قیاس پر کسی کو کافر نہیں کہا جائے گا کیونکہ مسلمان پر کفر کا فتویٰ خود لگانے والے پر پلٹ آئے گا۔ یہ کہنے میں تو کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے کہ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشکل کشا جان کر مشکلات میں امداد کے لیے پکارتا ہے وہ مشرک ہے مگر فردِ معین پر فتویٰ لگانے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
کیونکہ چار وجوہات کی بنا پر فتویٰ نہیں لگتا:
① تاویل:
کوئی شخص اپنے فعل کی کوئی تاویل کرے (مثلاً) گیارہویں والے پیر کے نام کی نذر و نیاز کو ایصالِ ثواب کہے تو اس کو مشرک نہیں کہا جائے گا۔
② اکراہ:
کوئی شرکیہ عمل اپنی جان بچانے کے خوف سے کرے تو وہ بھی مشرک نہ ہو گا۔
③ جہالت:
کوئی شخص جاہل ہے تو فتویٰ سے پہلے اس کی جہالت دور کی جائے گی۔ مثلاً وہ نبی اکرم ﷺکو ،،نور من نور اللہ،، کہتا ہے مگر اس کے مفہوم ہی سے ناآشنا ہے۔
④ بلا مقصد:
کسی شخص کی زبان سے بلا ارادہ شرکیہ یا کفریہ کلام نکلتا ہے، وہ دل سے بات کا قائل نہ ہو تو بھی اس پر فتویٰ نہیں لگتا۔
یہ چاروں وجوہات مانع نہ ہوں اور واضح طور پر نواقضِ اسلام میں سے کسی ایک بات کا مرتکب ہو تو اس کو کافر کہا جائے گا، ورنہ فقہ اسلامی میں مرتد کا باب سرے سے نہ ہوتا، کیونکہ مرتد کلمہ گو ہوتا ہے، جس نے اسلام قبول ہی نہ کیا ہوا اسے مرتد نہیں کہا جا سکتا۔
سوال: کیا ،،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،، پڑھنے والا مشرک ہو سکتا ہے؟
جواب: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلی امتوں کی پیروی کرو گے اور پہلی امتوں سے آپ ﷺ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔
[بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: 3456]،[مسلم، کتاب العلم، باب إتباع سنن الیهود والنصارى: 2669]
یہود و نصاریٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے اور طاغوت کی بندگی کرتے تھے: [اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَ الطَّاغُوۡتِ] کیا تو نے اہل کتاب کو نہیں دیکھا کہ وہ بت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں۔ (النساء:51)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک میری امت کی ایک جماعت مشرکوں سے نہ جا ملے اور میری امت کے بہت سے لوگ بت پرستی نہ کریں۔ (برقانی نے اپنی صحیح میں روایت کی)
[ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون: 2219]