تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے {”عِبَادِيْ“} کہہ کر اپنے بندوں پر اپنی خاص رحمت ظاہر کی ہے اور پھر اپنے قریب ہونے کا ذکر کر کے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے، فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے جس میں نہ کوئی گناہ ہو اور نہ قطع رحمی، مگر اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک عطا فرما دیتا ہے، یا تو اس کی دعا جلد قبول کر لیتا ہے، یا آخرت میں اس کا ذخیرہ کر لیتا ہے، یا اس سے اتنی برائی ٹال دیتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”پھر تو ہم بہت دعا کریں گے۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے پاس اس سے کہیں زیادہ ہے۔“ [مسند أحمد: ۳؍۱۸، ح: ۱1۱۳۹۔ صحیح]
➌ {فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ:} دعا کی قبولیت کے سلسلے میں دو حکم دیے، ایک تو یہ کہ ان پر بھی لازم ہے کہ وہ میری بات مانیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کے احکام پر عمل نہیں کرتا تو خواہ وہ دعویٰ کرتا رہے مگر (توبہ کے بغیر) اس کے دل میں اللہ کی رحمت کی امید کا چراغ روشن نہیں ہوتا۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۱۸) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے، بکھرے ہوئے بالوں والا ہے، غبار سے بھرا ہوا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے) ”یا رب! یا رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور وہ حرام غذا کے ساتھ پلا بڑھا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے؟ [مسلم، الزکوٰۃ، باب قبول الصدقۃ …: ۱۰۱۵] دوسرا حکم یہ کہ مجھ پر ایمان لائیں اور یقین رکھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک کہ کوئی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، بشرطیکہ جلدی بھی نہ کرے۔“ پوچھا گیا: ”یا رسول اللہ! وہ جلدی کیا ہے؟“ فرمایا: ”یہ کہ کوئی کہے کہ میں نے دعا کی اور میں نے (دوبارہ) دعا کی تو میں نے نہیں دیکھا کہ وہ میری دعا قبول کرتا ہو، سو اس وقت وہ تھک ہار کر رہ جائے اور دعا کرنا چھوڑ دے۔“ [مسلم، الذکر والدعاء، باب بیان أنہ یستجاب …:2735/92]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
پھر بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا جلد قبول ہوتی ہے۔ مثلاً لیلۃ القدر میں یا سجدہ کے وقت یا جمعہ کے دن اور ان کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے۔ پھر کچھ حالات بھی ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا فوراً قبول ہوتی ہے۔ مثلاً مضطر اور مصیبت کے مارے کی دعا، یا مظلوم کی ظالم کے حق میں بددعا یا والدین کی اپنی اولاد کے حق میں بددعا۔ اس لیے کہ عادتاً والدین اپنی اولاد کے ہمیشہ خیر خواہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کے حق میں بددعا اسی وقت کر سکتے ہیں جبکہ اولاد کی طرف سے انہیں کوئی انتہائی دکھ پہنچا ہو۔
رہی اللہ کو بلند آواز یا آہستہ آواز سے پکارنے کی بات تو اس آیت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اللہ قریب ہے۔ لہٰذا اسے آہستہ آواز سے پکارنا چاہیے۔ تاہم اس میں بھی انسان کی نیت ارادہ کا بہت دخل ہے اور حسن نیت سے ہی عمل میں خوبی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ مکی دور میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نکلے تو دیکھا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ آہستہ اور پر سوز آواز سے نماز میں قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ آپ آگے گئے تو دیکھا کہ حضرت عمرؓ بلند اور گرجدار آواز سے پڑھ رہے ہیں۔ صبح آپ نے پہلے حضرت ابو بکر صدیقؓ سے دریافت فرمایا کہ تم اتنی آہستہ آواز سے قرآن پاک کیوں پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس لیے کہ میرا رب میرے نزدیک ہے۔ پھر آپ نے عمرؓ سے بلند آواز سے قرآن پڑھنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں سونے والوں کو جگاتا ہوں اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ آپ نے دونوں کے جواب سن کر دونوں کی ہی تحسین فرمائی۔
اور بعض دفعہ حالات کا یہ تقاضا ہوتا ہے کہ اللہ کا نام بلند آواز سے پکارا جائے جیسے حج و عمرہ کے درمیان تلبیہ پکارنا یا تکبیرات عیدین یا جہاد کے سفر میں اللہ اکبر کہنا یا دوران جنگ یا کفار کے مقابلہ اور ان کا جی جلانے کے لیے بلند آواز سے نعرہ لگانا ایسے تمام مواقع پر اللہ کو بلند آواز سے ہی پکارنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میرے ساتھ جیسا عقیدہ رکھتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں [صحیح مسلم:2686] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں ہلتے ہیں میں اس کے قریب ہوتا ہوں اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه:379، قال الشيخ الألباني:صحیح] اس مضمون کی آیت کلام پاک میں بھی ہے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ» [16۔ النحل: 128] جو تقویٰ و احسان و خلوص والے لوگ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے، موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا جاتا ہے آیت «اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» [20۔ طہٰ: 46] میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں، مقصود یہ ہے کہ باری تعالیٰ دعا کرنے والوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس دعا سے غافل رہے یا نہ سنے اس نے دعا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس کے ضائع نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتا ہے تو وہ «ارحم الراحمین» اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرتے ہوئے شرماتا ہے۔ [سنن ابوداود:1488، قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ الہٰ العالمین! عائشہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے مراد اس سے وہ شخص ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہو اور سچی نیت اور نیک دلی کے ساتھ مجھے پکارے تو میں لبیک کہہ کر اس کی حاجت ضرور پوری کر دیتا ہوں [المیزان180/1:باطل و ضعیف جداً] یہ حدیث اسناد کی رو سے غریب ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے اللہ تو نے دعا کا حکم دیا ہے اور اجابت کا وعدہ فرمایا ہے میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے لاشریک اللہ میں حاضر ہوں حمد و نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں میری گواہی ہے کہ تو نرالا یکتا بیمثل اور ایک ہی ہے تو پاک ہے، بیوی بچوں سے دور ہے تیرا ہم پلہ کوئی نہیں تیری کفو کا کوئی نہیں تجھ جیسا کوئی نہیں میری گواہی کہ تیرا وعدہ سچا تیری ملاقات حق جنت و دوزخ قیامت اور دوبارہ جینا یہ سب برحق امر ہیں۔ [الدیلمی فی مسند الفردوس:1798:ضعیف جداً]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا جواب سؤال. سأل النبيَّ - صلى الله عليه وسلم - بعضُ أصحابه فقالوا: يا رسول الله، أقريب ربنا فنناجيه، أم بعيد فنناديه؟ فنزل {وإذا سألك عبادي عني فإني قريب}؛ لأنه تعالى الرقيب الشهيد المطلع على السر وأخفى يعلم خائنةَ الأعين وما تخفي الصدور فهو قريب أيضاً من داعيه بالإجابة، ولهذا قال: {أجيب دعوة الداع إذا دعان}؛ والدعاء نوعان: دعاء عبادة، ودعاء مسألة.
والقرب نوعان: قرب بعلمه من كل خلقه، وقرب من عابديه وداعيه بالإجابة والمعونة والتوفيق.
فمن دعا ربه بقلب حاضر ودعاء مشروع ولم يمنع مانع من إجابة الدعاء كأكل الحرام ونحوه فإن الله قد وعده بالإجابة، وخصوصاً إذا أتى بأسباب إجابة الدعاء وهي الاستجابة لله تعالى بالانقياد لأوامره ونواهيه القولية والفعلية والإيمان به الموجب للاستجابة، فلهذا قال: {فليستجيبوا لي وليؤمنوا بي لعلهم يرشدون}؛ أي: يحصل لهم الرشد الذي هو الهداية للإيمان والأعمال الصالحة ويزول عنهم الغي المنافي للإيمان والأعمال الصالحة، ولأن الإيمان بالله والاستجابة لأمره سبب لحصول العلم كما قال تعالى: {يا أيها الذين آمنوا إن تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً}. ثم قال تعالى: