اسمِ محمد ﷺ سے تبرک: روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری کی کتاب تبرکات کی شرعی حیثیت سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اسم محمد ﷺ سے تبرک

سلف صالحین میں سے کسی ایک سے بھی نبی کریم ﷺ کے مبارک نام سے تبرک حاصل کرنا ثابت نہیں، حالانکہ اسلاف امت، یعنی صحابہ و تابعین اور ائمہ دین، سب سے بڑھ کر آپ ﷺ کی تکریم و تعظیم کرنے والے تھے، نیز قرآن وحدیث کی نصوص بہ خوبی ان کے مدنظر تھیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ اسم "محمد” ﷺ سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے۔ یہ غلو پر مبنی نظریہ ہے، اس حوالے سے پیش کیے جانے والے دلائل کا مختصر اور جامع جائزہ پیش خدمت ہے:

دلیل نمبر 1:

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [من ولد له مولود، فسماه محمدا تبرکا به؛ کان هو ومولوده فی الجنة]
جس نے اپنے پیدا ہونے والے بچے کا نام تبرکا محمد رکھا، وہ اور اس کا بچہ دونوں جنتی ہوں گے۔ [فضائل التسمیة لابن بكير: 30، مشيخة قاضي المارستان:453]
جھوٹی روایت ہے۔

اسے تراشنے والا حامد بن حماد بن مبارک عسکری ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[المتهم بوضعه حامد بن حماد العسكري]
اس حدیث کو گھڑنے کا الزام حامد بن حماد عسکری کے سر ہے۔
[تلخیص کتاب الموضوعات، ص:35]
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے الموضوعات(157/1) میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے "موضوع” (من گھڑت) کہا ہے۔
[میزان الاعتدال: 447/1]
التدوین فی اخبار قزوین للرافعی (343/2) والی سند بھی سخت ضعیف ہے۔
◈ ابواحمد حبیب بن نصر بن زیاد کی توثیق نہیں۔
◈ مکحول کا سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں۔

دلیل نمبر 2:

رسول اللہ ﷺ سے منسوب ہے: [قال الله: وعزتي وجلالي، لا أعذب أحدا سمي باسمك بالنار، يا محمد]
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد! مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جس کا نام آپ کے نام پر رکھا جائے، میں اسے آگ کا عذاب نہیں دوں گا۔
[معجم الشیوخ للذھبي:3/ 42-43]
یہ باطل اور جھوٹی روایت ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[نسخة نبيط؛ نسخة موضوعة بلا ريب، فلا تغتروا بعلوها، فاللکی تکلم فیہ ابن ماکولا وغیرہ، وشیخہ احمد؛ احسبہ ہو واضع النسخۃ]
نبیط کے نسخہ کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس کے عالی ہونے سے دھوکہ مت کھاؤ، کیونکہ لکی کے بارے میں ابن ماکولا وغیرہ نے جرح کر دی ہے۔ میرے خیال کے مطابق اس نسخہ کو گھڑنے والا اس کا استاذ احمد ہے۔
[معجم الشیوخ:43/3]
علامہ محمد طاہر پٹنی رحمہ اللہ نے اسے تذکرۃ الموضوعات (89) میں ذکر کیا ہے۔
اسی طرح ابن عراق کنانی رحمہ اللہ نے تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنیعۃ الموضوعۃ (226/1) میں ذکر کیا ہے۔

دلیل نمبر 3:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [یوقف عبدان بین یدی اللہ، فیؤمر بہما إلی الجنۃ، فیقولان: ربنا بم استأہلنا دخول الجنۃ، ولم نعمل عملا تجازینا بہ الجنۃ؟ فیقول اللہ: أدخلا عبدی، فإنی آلیت علی نفسی ألا یدخل النار من اسمہ احمد ومحمد]
دو آدمی اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرنے کا حکم فرمائے گا۔ اس پر وہ دونوں کہیں گے: ہمارے رب! ہم جنت میں داخل ہونے کے حق دار کیسے ہوئے، حالانکہ ہم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا، جس کے بدلے میں تو ہمیں جنت دیتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے ان دونوں بندوں کو جنت میں داخل کر دو، کیونکہ میں نے اپنے آپ پر لازم کیا ہے کہ وہ شخص دوزخ میں نہیں جائے گا، جس کا نام محمد یا احمد ہوگا۔ [فضائل التسمیة لابن بكير:1]
جھوٹی روایت ہے۔
احمد بن نصر بن عبداللہ ذارع کذاب ہے۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ذاك الكذاب] یہ جھوٹا شخص ہے۔ (میزان الاعتدال:313/2)
صدقہ بن موسیٰ بن تمیم مجہول ہے۔

خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هذا الشيخ مجهول، وقد روى عنه الذارع أحاديث منكرة، والحمل فيها عندي على الذارع]
یہ شیخ مجہول ہے۔ ذارع نے اس سے جھوٹی روایات بیان کر رکھی ہیں۔ میرے نزدیک اس کارروائی کا بوجھ ذارع کے سر پر ہے۔ [تاریخ بغداد:333/9]
اس کا باپ موسیٰ بن تمیم بن ربیعہ بھی مجہول ہے۔

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[هذا حديث لا أصل له] اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔ (الموضوعات:157/1)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[سنده مظلم، وهو موضوع] اس کی سند اندھیری ہے، جو کہ من گھڑت ہے۔
[تلخیص کتاب الموضوعات، ص: 34، ح: 52]

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:

[هذا مناقض، لما هو معلوم من دينه صلى الله عليه وسلم أن النار لا يجار منها بالأسماء والألقاب، وإنما النجاة منها بالإيمان والأعمال الصالحة]
یہ واضح طور پر نبی کریم ﷺ کے لائے ہوئے دین کے خلاف ہے، کیونکہ اسما و القاب نارِ جہنم سے بچا نہیں پائیں گے، بلکہ نجات کا دارو مدار صرف ایمان اور اعمالِ صالحہ پر ہے۔
(المنار المنیف فی الصحیح والضعیف، ص 57)

دلیل نمبر 4:

حافظ سیوطی رحمہ اللہ اپنی سند سے مرفوعاً ذکر کرتے ہیں:
[إذا كان يوم القيامة؛ نادى مناد: يا محمد، قم، فادخل الجنة بغير حساب، فيقوم كل من اسمه محمد، فيتوهم أن النداء له، فلكرامة محمد لا يمنعون]
روزِ قیامت ایک منادی یہ پکارے گا: اے محمد! کھڑے ہو جائیں اور جنت میں بغیر حساب داخل ہو جائیں۔ اس پر ہر محمد نامی شخص اس توہم میں اٹھ جائے گا کہ اس کا نام بھی محمد ہے۔ مگر محمد نام کی برکت کی وجہ سے کسی کو (جنت جانے سے) روکا نہیں جائے گا۔
[اللآلي المصنوعۃ في الأحاديث الموضوعۃ : 97/1]
جھوٹی روایت ہے۔

حافظ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ہذا معضل، سقط منہ عدۃ رجال]
یہ سند معضل (منقطع) ہے، اس سے کئی ایک راوی گر گئے ہیں۔
اس میں اور کئی خرابیاں بھی ہیں۔

ابن عراق کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قال بعض أشياخي: ہذا حديث موضوع بلا شک]
میرے بعض اساتذہ نے فرمایا: یہ حدیث بلاشبہ من گھڑت ہے۔ [تنزیہ الشریعۃ: 226/1]

دلیل نمبر 5:

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: [إذا سمیتم الولد محمدا؛ فأکرموہ وأوسعوا لہ المجلس، ولا تقبحوا لہ وجھا]
جب آپ کسی بچے کا نام محمد رکھیں، تو اس کی عزت کیا کریں، اس کے لیے مجلس کشادہ رکھیں اور اس کے چہرے کے عیوب بیان نہ کریں۔ [فضائل التسمیۃ لابن بکیر:26]
جھوٹی روایت ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ”منکر المتن“ قرار دیا ہے۔ (سیر أعلام النبلاء:386/9)

نیز فرماتے ہیں:

[عبد اللہ بن احمد بن عامر، عن أبیہ، عن علی الرضا، عن آبائہ، بتلک النسخۃ الموضوعۃ الباطلۃ، ما تنفک عن وضعہ أو وضع أبیہ]
عبد اللہ بن احمد بن عامر، اپنے باپ، علی رضا اور ان کے آبا و اجداد سے یہ من گھڑت اور جھوٹا نسخہ بیان کرتا ہے، جو یا تو اس کی اپنی گھڑنت ہے یا اس کے باپ کی۔ (میزان الاعتدال:390/2)
عبد اللہ بن احمد بن عامر کے متعلق حسن بن علی زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: [کان أمیا، لم یکن بالمرضی] وہ ایک جاہل اور غیر معتبر شخص تھا۔
(سؤالات السھمی للدارقطنی:339، تاریخ بغداد للخطیب:394/9)
تاریخ بغداد (90/3) والی سند بھی جھوٹی ہے۔
① ابواسماعیل علی بن حسین
② حسین بن حسن
③ محمد بن قاسم اور
④ اس کے باپ سمیت سب کی توثیق درکار ہے۔
مسند بزار (کشف الأستار:413/2) والی سند بھی سخت ضعیف ہے۔
غسان بن عبید اللہ راسی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
یوسف بن نافع بن عبد اللہ بن نافع ”مجہول الحال“ ہے، اسے صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات: 281/9“ میں ذکر کیا ہے۔

دلیل نمبر 6:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [إذا سمیتموہ محمدا؛ فلا تجبہوہ، ولا تحرموہ، ولا تقبحوہ، بورک فی محمد، وفی بیت فیہ محمد، ومجلس فیہ محمد]
جب تم بچے کا نام محمد رکھو، تو نہ اس کے ساتھ سختی کرو، نہ اس کی تنقیص کرو اور نہ اس کی برائی بیان کرو۔ نیز محمد نام، جس گھر میں محمد نامی بچہ ہو اور جس مجلس میں محمد نامی شخص ہو، اس میں برکت ہوگی۔ [الغرائب الملتّقطة لابن حجر:697/1]
جھوٹی روایت ہے۔
① سفیان بن وکیع ضعیف ہے۔
② سفیان بن ہارون قاضی کی توثیق نہیں۔
③ ابو الزبیر مکی کا عنعنہ ہے۔
④ یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نہاوندی کے حالات زندگی نہیں ملے۔

دلیل نمبر 7:

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[ما اجتمع قوم فی مشورۃ معہم رجل، اسمہ محمد، ولم یدخلوہ فی مشورتہم؛ إلا لم یبارک لہم فیہا]
جو قوم مشورے کے لیے جمع ہوتی ہے اور ان میں کوئی محمد نامی شخص ہو اور وہ اسے مشورے میں شریک نہ کریں، تو اس مشورے میں برکت نہیں ہوگی۔
[فضائل التسمیۃ لابن بکیر:9، موضح أوہام الجمع والتفریق للخطیب:446/1]
سند سخت ضعیف ہے۔

احمد بن حفص جزری کون ہے؟ معلوم نہیں۔
ایک سند میں احمد شامی کے نام سے مذکور ہے۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[منکر الحدیث، و لیس بالمعروف] یہ منکر الحدیث اور غیر معروف شخص ہے۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال:141/1)
دیلمی کی سند میں احمد بن جعفر حرانی کا ذکر ہے۔
(اللآلي المصنوعۃ للسیوطی:96/1) میں مجہول راوی ہے۔
تاریخ ابن النجار میں بھی اس بارے میں ایک موضوع سند مذکور ہے۔
ابوبکر محمد بن احمد بن محمد حفید کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [ہو متہم]
اس کو روایت حدیث میں موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ [میزان الاعتدال:461/3]

نیز فرماتے ہیں:

[لیس بثقۃ] یہ ثقہ نہیں ہے۔ (سیر أعلام النبلاء:389/9)
اسے حافظ سیوطی نے بھی ”متہم“ کہا ہے۔
[اللآلي المصنوعۃ:96/1]
فضائل التسمیۃ لابن بکیر (4) والی روایت من گھڑت ہے۔
عبد اللہ بن احمد بن عامر طائی اور اس کے باپ احمد بن عامر طائی دونوں کا حال بیان ہو چکا ہے، یہ روایت انہی دونوں کی کارروائی ہے۔ یوں یہ روایت ناقابلِ اعتبار ہوئی، یہی وجہ ہے کہ اسے امام ابن عدی رحمہ اللہ نے ”غیر محفوظ“ کہا ہے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال:140/1)

دلیل نمبر 8:

محمد بن عثمان عمری اپنے والد سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں: [ما ضر أحدکم لو کان فی بیتہ محمد ومحمدان وثلاثۃ]
اگر آپ میں سے کسی ایک کے گھر میں ایک، دو یا تین محمد نامی شخص ہوں گے تو آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد:54/5)
روایت مرسل ہے، عثمان عمری صحابی نہیں، وہ براہِ راست نبی کریم ﷺ سے بیان کر رہے ہیں۔

دلیل نمبر 9:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [ما أطعم طعام علی مائدۃ، ولا جلس علیہا، وفیہا اسمی؛ إلا قدسوا کل یوم مرتین]
جس بھی دسترخوان پر کھانا کھایا جائے اور جس بھی مجلس میں بیٹھا جائے، اگر اس میں میرا نام ہو، تو ہر دن انہیں دو مرتبہ پاک کیا جائے گا۔
[الکامل لابن عدی:275/1،موضح أوہام الجمع والتفریق للخطیب:447/1، العلل المتناہیۃ لابن الجوزی: 267]
جھوٹی روایت ہے۔
① احمد بن کنانہ شامی منکر الحدیث ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [منکر الحدیث، و لیس بالمعروف] یہ منکر الحدیث اور غیر معروف شخص ہے۔ (الکامل:274/1)
② یحییٰ بن عبد الرحمن بن ناجیہ حرانی کی توثیق درکار ہے!
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”غیر محفوظ“ کہا ہے۔

دلیل نمبر 10:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ایک مرفوع روایت ہے: [لیس أحد من أہل الجنۃ؛ إلا یدعی باسمہ، إلا آدم]
سیدنا آدم علیہ السلام کے علاوہ ہر جنتی کو نبی کریم ﷺ کے نام سے پکارا جائے گا۔
[کتاب المجروحین لابن حبان: 76/3، تاریخ بغداد للخطیب:463/3]
جھوٹی روایت ہے۔
① وہب بن حفص حرانی کذاب ہے۔

ابوعروبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[کذاب، یضع الحدیث] یہ جھوٹا تھا اور اپنی طرف سے احادیث گھڑا کرتا تھا۔
[الکامل لابن عدی:344/8]

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[کل أحادیثہ مناکیر، غیر محفوظة] اس کی ساری کی ساری روایات جھوٹی اور غیر محفوظ ہیں۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال:347/8)

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[یضع الحدیث] یہ اپنی طرف سے احادیث گھڑتا تھا۔ (تاریخ بغداد للخطیب:463/13)
اس روایت کو حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے الموضوعات (257/3) میں ذکر کیا ہے۔
الکامل لابن عدی (74/5) والی سند بھی جھوٹی ہے۔ شیخ بن ابی خالد صوفی بصری جھوٹی احادیث گھڑنے والا تھا۔

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[شیخ ابن أبی خالد ہذا؛ لیس بمعروف، وہذہ الأحادیث التی رواہا عن حماد بہذا الإسناد؛ بواطیل کلھا] شیخ بن ابی خالد غیر معروف ہے۔ حماد کے حوالہ سے بیان کی جانے والی یہ ساری روایات جھوٹی ہیں۔

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لا یجوز الاحتجاج بہ (شیخ ابن أبی خالد) بحال]
کسی بھی حالت میں شیخ بن ابی خالد کی روایت سے دلیل لینا جائز نہیں۔
[کتاب المجروحین:364/1]
اس روایت میں اور بھی خرابیاں ہیں۔

دلیل نمبر 11:

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: [أھل الجنۃ؛ لیست لھم کنی إلا آدم، فإنہ یکنی بأبی محمد توقیرا وتعظیما]
سیدنا آدم علیہ السلام کے علاوہ کسی جنتی کی کوئی کنیت نہیں ہوگی۔ آدم علیہ السلام کی کنیت بہ طورِ تعظیم و تکریم ابو محمد ہوگی۔
[الکامل لابن عدی:566/7، الموضوعات لابن الجوزی:258/3]
جھوٹی روایت ہے، جسے ابوالحسن محمد بن محمد بن الاشعث کوفی نے وضع کیا ہے، جیسا کہ امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[آیۃ من آیات ذلک الکتاب، ھو وضعہ، أعنی العلویات]
یہ علویات نامی کتاب، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اسے اسی (ابوالحسن کوفی) نے گھڑا ہے۔ (سؤالات السھمی:52)

دلیل نمبر 12:

نبی کریم ﷺ سے منسوب ہے:
[من کان لہ ذو بطن، فأجمع أن یسمیہ محمدا؛ رزقہ اللہ غلاما، وما کان اسم محمد فی بیت؛ إلا جعل اللہ فی ذلک البیت برکۃ]
جو اپنے پیٹ والے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے بیٹا ہی عطا فرمائے گا اور جس گھر میں محمد نامی شخص ہو، اللہ تعالیٰ اس گھر میں برکت ڈالتا ہے۔
[فضائل التسمیۃ بأحمد ومحمد لابن بکیر:11]
جھوٹی سند ہے۔
① محمد بن عبد الرحمن جدعانی ضعیف ہے۔
② ابن جریج کا عنعنہ ہے۔
ابن جریج سے اوپر سند غائب ہے۔ اس سند میں اور بھی خرابیاں ہیں۔

دلیل نمبر 13:

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[من ولد لہ ثلاثۃ فلم یسم أحدہم محمدا فھو من الجفاء، وإذا سمیتموہ محمدا فلا تسبوہ، ولا تجبہوہ، ولا تعنتوہ، ولا تضربوہ، وشرفوہ وعظموہ وأکرموہ وبروا قسمہ]
جس کے تین بیٹے ہوں اور ان میں سے کسی کا نام ”محمد“ نہ رکھے، تو یہ (نبی کریم ﷺ سے) بے وفائی ہے۔ جب آپ اپنے بچے کا نام محمد رکھیں، تو اسے گالی مت دیں، نہ اسے رسوا کریں، نہ اس پر سختی کریں، نہ اسے ماریں، بلکہ اس کے ساتھ شرف و عظمت والا معاملہ کریں، اس کی تکریم کریں اور اس کو قسم میں سچا جانیں۔ [الکامل لابن عدی:437/3]
روایت باطل و منکر ہے۔
① خالد بن یزید عمری متروک و وضاع ہے۔
② قطن بن ابراہیم ضعیف ہے۔
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”منکر“ قرار دیا ہے۔

دلیل نمبر 14:

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے: [من کان لہ حمل، فنوی أن یسمیہ محمدا؛ حولہ اللہ ذکرا، وإن کان أنثی]
جس کا کوئی حمل ہو اور وہ اس کے لیے محمد نام کی نیت کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے بیٹے میں بدل دے گا، اگرچہ وہ بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔ [اللآلي المصنوعۃ للسیوطی:95/1]
جھوٹی روایت ہے۔
وہب بن وہب کو محدثین نے کذاب، دجال، اللہ کا دشمن اور اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ کر رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنے والا قرار دیا ہے۔ [میزان الاعتدال للذھبی:353/4]
زید بن مروان تک اس سند کی تحقیق درکار ہے۔

دلیل نمبر 15:

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: [دخلت علی المنصور أمیر المؤمنین، فقال: کم ولدا لک یا ہشام؟ قلت: محمدا، وفلانا، وفلانا، فقال لی: کیف سمیت ولدک محمدا، وترکت الزبیر وعروۃ؟ قلت: تبرکا باسم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: ائت بموضع البرکۃ والتکریم، قال: حدثنی أبی محمد بن علی، قال: سمعت أبی علیا، یقول: سمعت أبی عبد اللہ بن عباس یقول: من کان لہ حمل، فنوی أن یسمیہ محمدا؛ أدخل إن شاء اللہ الجنۃ]
میں امیر المومنین منصور کے پاس آیا، انہوں نے دریافت کیا: ہشام! آپ کے کتنے بچے ہیں؟ میں نے کہا: محمد اور فلاں، فلاں۔ انہوں نے کہا: آپ نے زبیر اور عروہ چھوڑ کر محمد نام کیوں رکھا؟ میں نے کہا: نبی کریم ﷺ کے نام کی برکت کی وجہ سے۔ انہوں نے دریافت کیا: اس برکت و تعظیم کی کیا دلیل ہے؟ میں نے کہا: مجھے میرے والد محمد بن علی نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کا کوئی حمل ہو اور اس کے لیے محمد نام کی نیت کرے، تو ان شاء اللہ وہ جنت میں داخل کیا جائے گا۔ [فضائل التسمیۃ لابن بکیر:13]
جھوٹی روایت ہے۔ نصر بن ابی الفتح خراسانی اور محمد بن عبد اللہ بن رزیق دونوں نامعلوم اور مجہول ہیں۔

دلیل نمبر 16:

عطا خراسانی رحمہ اللہ سے مروی ہے: [ما سمی مولود فی بطن أمہ محمدا؛ إلا أذکر]
جس بچے کا نام اس کی ماں کے پیٹ میں محمد رکھا گیا، وہ بیٹا ہی ہوگا۔
[الأجوبۃ المرضیۃ للسخاوی:381/1، 989/3]
روایت بے سند ہے۔

دلیل نمبر 17:

وہب بن وہب کہتا ہے: میں نے اپنے سات بچوں کا نام دورانِ حمل ہی محمد رکھنے کی نیت کر لی تھی، جس کی برکت سے سب لڑکے پیدا ہوئے۔
[اللآلي المصنوعۃ في الأحاديث الموضوعۃ للسیوطی:95/1]
وہب بن وہب خود بہت بڑا جھوٹا ہے، اس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔

اہلِ علم کی تصریحات:

محمد نام کی فضیلت اور فوائد و برکات کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہوئی ہیں، وہ ساری کی ساری جھوٹی اور باطل ہیں۔

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قد روی فی ھذا الباب أحادیث، لیس فیھا ما یصح]
اس باب میں بیان کی جانے والی کوئی روایت ثابت نہیں۔ [الموضوعات:158/1]

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ھذہ أحادیث مکذوبۃ]
یہ ساری روایتیں جھوٹی ہیں۔ (میزان الاعتدال:129/1)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[فی ذلک جزء، کلہ کذب]
اس بارے میں پورا ایک کتابچہ ہے جو کہ سارا جھوٹ کا پلندہ ہے۔ (المنار المنیف، ص 52)

علامہ ابوالطاہر محمد بن یعقوب فیروز آبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[لم یصح فیہ شیء]
اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔
(رسالۃ فی بیان ما لم یثبت فیہ حدیث من الأبواب:ص9)

علامہ حلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قال بعضھم: ولم یصح فی فضل التسمیۃ بمحمد حدیث، وکل ما ورد فیہ؛ فھو موضوع]
بعض علماء کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں، اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری روایات من گھڑت ہیں۔ (السیرۃ الحلبیۃ:121/1)

علامہ زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[ذکر بعض الحفاظ أنہ لم یصح فی فضل التسمیۃ بمحمد حدیث]
بعض حفاظ کا کہنا ہے کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں۔
[شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ:307/7]

ابن عراق کنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[قال الأبی: لم یصح فی فضل التسمیۃ بمحمد حدیث، بل قال الحافظ أبو العباس تقی الدین الحرانی: کل ما ورد فیہ؛ فھو موضوع]
علامہ أبی فرماتے ہیں کہ محمد نام کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں، بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بقول اس بارے میں بیان کی جانے والی ساری روایات من گھڑت ہیں۔
[تنزیہ الشریعۃ:174/1]

الحاصل:

اسم محمد سے حصولِ تبرک کے لیے پیش کی جانے والی تمام دلیلیں قیل و قال پر مبنی ہیں، اس بارے میں کوئی ٹھوس دلیل موجود نہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ اسم محمد سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے، بے دلیل بات ہے۔