عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں کس لیے پیدا کیا؟
جواب:اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ]
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ (الذاریات:56)
اور یہ بھی فرمایا: [وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ] تمہارے رب نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ [بنی اسرائیل:23]
سوال: توحید کو قبول کرنے کا کیا فائدہ ہے؟
جواب: جو شخص سچے دل سے ،،لا الہ الا اللہ،، کہتا ہے اور اپنے ایمان میں شرک کی ملاوٹ نہیں کرتا اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے اور اس کا مقام جنت ہے: [اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡاَمۡنُ وَ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ] جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی آمیزش نہیں کی تو ایسے لوگوں کے لیے امن ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔ (الأنعام:82)
رسول اللہﷺنے فرمایا: کہ اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے۔ [بخاری، كتاب الإيمان، باب ظلم دون ظلم:32]،[مسلم، كتاب الإيمان، باب صدق الإيمان و إخلاصه: 124]
① رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام کر دی جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ،،لا الہ الا اللہ،، کہا۔
[بخاری، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قوله تعالى ﴿يأهل الكتاب لا تغلوا﴾ : 3435]،[مسلم، كتاب الإيمان، باب الدليل على أن من مات على التوحيد دخل الجنة:29]
سوال:اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں کیوں بھیجا؟
جواب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ] اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے ان کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو۔ (الأنبياء:25)
معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو توحید کی دعوت دی جائے اور لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں۔
سوال: کیا مسلم بننے کے لیے ،،لا الہ الا اللہ،، کے معنی جاننا ضروری ہیں؟
جواب: مسلم بننے کے لیے شرطِ اول یہ ہے کہ اسے ،،لا الہ الا اللہ،، کے معنی معلوم ہوں، اسے پتا ہو کہ کلمہ پڑھنے سے اسے کن کن باتوں کو ماننا پڑے گا اور کن کن باتوں کا انکار کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری نبی محمدﷺ کو فرماتا ہے: [فَاعۡلَمۡ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ] پس جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں۔ (محمد:19)
معلوم ہوا کہ کفر سے نکل آنے اور ایمان میں داخل ہو کر اپنے درجات بلند کرنے کے لیے علم شرطِ اول ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اس حال میں مر جائے کہ وہ اس بات کا علم رکھتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، جنت میں داخل ہو گا۔اس علم سے مراد دل کی تصدیق اور زبان کا اقرار ہے۔
[مسلم، كتاب الإيمان، باب الدليل على أن من مات على التوحيد دخل الجنة قطعا: 26]