قربانی کا مقصد
قربانی کا پہلا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ، اس کا قرب تلاش کرنا اور تقویٰ کا حصول ہونا چاہیے، قربانی میں کسی مخلوق کی رضا تلاش کرنا یا اللہ کے سوا کسی اور کی خوشنودی چاہنا ناجائز اور روحِ قربانی کے متضاد ہے، اس کے دلائل حسب ذیل ہیں :
ارشاد باری تعالی ہے :
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
”کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے ۔“
الأنعام : 162
فوائد :
① حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
اللہ تعالیٰ اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دے رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین جو غیر اللہ کی عبادت کرتے اور غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں کو آگاہ کیجیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت اور قربانی کا طریقہ مشرکین سے مختلف ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز محض رضائے الہی کے لیے اور قربانی فقط ایک اللہ کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، نیز مذکورہ آیت کا حکم ، اس آیت : ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔“ کی مثل ہے، اس آیت میں بھی حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز اور قربانی خالص اللہ کے لیے انجام دیں۔ چونکہ مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے اور غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے سو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی پر زور مخالفت کرنے اور ان کے باطل عقائد سے یکسر انحراف کا حکم دیا ہے اور عبادت و قربانی میں اخلاص پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔
تفسير ابن كثير، سورة الأنعام : 162۔
② قربانی کا دوسرا اہم مقصد نفس کی تطہیر اور تقویٰ کا حصول ہے، قربانی سے دلوں کا تقویٰ ہی اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :
﴿لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ﴾
”اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچیں گے اور نہ ان کے خون اور لیکن اسے تمھاری طرف سے تقویٰ پہنچے گا ۔“
الحج : 37
لہذا قربانی میں ذاتی تشہیر اور ریا کاری کا عمل دخل نہ ہو اور اسی طرح قربانی میں خلافِ شرعی امور اور رب تعالیٰ کو ناراض کرنے والے برے افعال سے اجتناب کیا جائے ، تاکہ قربانی شرفِ قبولیت حاصل کر سکے۔