اصل گستاخ کون؟ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کے بارے میں انجینئر مرزا کے الفاظ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

اصل گستاخ مرزا صاحب خود ہیں نا کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ:

انجینئر صاحب کبھی کسی صحابی پر اعتراض کرتے ہیں، کبھی کسی پر فتویٰ تو کبھی کسی پر تنقید، اور گستاخ گستاخ کی تو انہوں نے رٹ لگا رکھی ہوتی ہے۔ یہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا جھوٹا الزام لگایا، لیکن درحقیقت سب سے بڑے گستاخ یہ خود ہیں، ان کی بدزبانیاں اور گستاخیاں تو ایک الگ مضمون ہے، چونکہ یہاں بات خلیفہ راشد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور خلافت راشدہ کی توہین کی ہو رہی ہے تو اسی مناسبت سے صرف ایک نمونہ پیش کیے دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک ویڈیو میں ان سے سوال کیا گیا:
”کیا کسی بھی انصاری صحابی کو خلافت راشدہ میں کوئی بڑا عہدہ ملا تھا؟“
جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں: ”ہاں جی! حضرت علی کی خلافت میں، سر!!! یہی تو فرق ہے! بخاری مسلم میں حدیث ہے: اے انصار! میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو اس طرح اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطرے ہیں، میرے بعد تم پر دوسرے لوگوں پر ترجیح دی جائے گی، صبر کرنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھے آ کے ملنا! (پھر انجینئر صاحب کہتے ہیں:) حوض کوثر پر کیا ملنا ہے؟ وہاں مٹھائی ملے گی؟ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي، ان پر پھٹکار ہو جنہوں نے میرے بعد دین کو بدل دیا (یہ ہونا ہے وہاں پر)“۔
ilm o tahqeeqi majlis no. 28 – 3:49:12
یہ اس حدیث کی طرف اشارہ ہے کہ: قیامت کے دن میرے بعض صحابہ کو میرے سامنے پیش کیا جائے گا………… تو میں کہوں گا کہ انہیں مجھ سے دور کر دو جنہوں نے میرے بعد دین بدل دیا! (صحیح بخاری:6526،7051)۔ اب یہ حدیث یہاں بیان کرنے کا کیا مقصد ہے؟ انصار کی مذمت میں بیان کی گئی یا ان کے حق میں؟ جی ان کے حق میں! اور یہ کن کے خلاف پیش کی گئی؟ جنہوں نے انصار پر دوسروں کو ترجیح دی، ان کو محروم رکھا! کس خلافت راشدہ میں انصار کو حق ملا؟ جی علی رضی اللہ عنہ کے دور میں۔ اور مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ ”یہی تو فرق ہے“ دلالت کرتا ہے کہ پچھلے ادوار کے متعلق نفی کی گئی ہے، یعنی ان پر ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں دوسروں کو ترجیح دی گئی اور انہیں حق نہیں دیا گیا۔ اب یہ حدیث کس پر فٹ کی گئی ہے؟ سوال تو خلافت راشدہ کا ہوا تھا، اور وہ ہے ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کا دور۔
یاد رہے یہ حدیث رافضی حضرات خصوصی طور پر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فٹ کیا کرتے ہیں کہ یہ ان کے متعلق کہا جانا ہے کہ انہیں دور کرو، انہوں نے میرے بعد دین کو بدل دیا۔ خود مرزا صاحب کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس حدیث کو رافضی خلفائے راشدین پر فِٹ کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے بیان کر رکھا ہے (مسئلہ 157 پارٹ B، دورانیہ- 26:12)۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ رافضیوں کی ہمنوائی میں انجینئر صاحب نے بھی یہ حدیث دبے لفظوں میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہی پر فِٹ کی ہے، نعوذ باللہ من ذلک!
مرزا صاحب کی یہ سوال و جواب والی ویڈیو 10 محرم الحرام کی خصوصی نشست پر ”محرم و کربلا“ کے ٹائٹل اور نسبت سے نشر کی گئی تھی، ذہن پر زور ڈالیں! بھلا کچھ یاد آتا ہے؟
اور خلیفہ راشد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تو بات ہی نا کریں، ان کے متعلق مرزا صاحب کے محبت بھرے جملوں پر ان شاء اللہ پورا ایک باب قائم کیا جائے گا۔
زیر بحث روایت (صحیح بخاری: 4108) کے حوالے سے یہ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بھی ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی گستاخی کی۔ تو جاتے جاتے ایک اور تحفہ لیتے چلیں! مرزا صاحب حج تمتع پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”صحیح حدیث ہے جامع ترمذی میں 824 نمبر، اہل شام میں سے حضرت معاویہ کے دور میں آ کے ایک بندہ عبداللہ ابن عمر سے پوچھتا ہے،- اور بڑا کوئی میرے نال دا ہوشیار جیا بندا ہی لگدا سی- اس نے کہا: اچھا یہ بتائیں کہ حج تمتع جائز ہے یا ناجائز؟ تو سیدنا ابن عمر نے کہا: جائز کیا یہ تو سنت ہے! نبی علیہ السلام حکم دیتے تھے۔ اس نے کہا اچھا ہون آئے او نا قابو!- یہ بریکٹ میں ہے- اس نے کہا آپ کے ابا جی تو حج تمتع پہ پوری زندگی پابندی لگاتے رہے ہیں! تو ان (سائل) کا یہ خیال تھا کہ اب یہ back foot پہ بھی نہیں جا سکتے، اور آئیں بائیں شائیں کریں گے۔ تو عبداللہ بن عمر نے وہ جواب دیا جو انجینئر صاحب دیتے ہیں…………“

ilmi o tahqeeqi majlis no. 15 – 1:18:33
سنن ترمذی کا حوالہ ہمارے ہوشیار صاحب نے دے رکھا ہے، اب اٹھائیے سنن ترمذی، اس میں کہاں لکھا ہے کہ اس شخص نے یہ کہا ہو کہ اب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئیں بائیں شائیں کریں گے؟ یا اس کا ایسا کوئی تاثر ہی ہو جس سے ایسی کوئی بات کہی جا سکے؟ یہ مرزا صاحب کا اپنا مخصوص انداز اور گستاخانہ زبان ہے۔ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ لگتا ہے وہ سوال کرنے والا کوئی میرے جیسا ہی ہوشیار آدمی تھا، اور پھر بعد میں اس کا نام لے کر ایسے الفاظ کہہ دیے کہ واقعی کوئی بے چارا سمجھنے لگے کہ ہاں بھئی آدمی تو کوئی انجینئر جیسا ہی با اخلاق تھا۔ بہرحال یہ ”آئیں بائیں شائیں“ جیسے الفاظ چاہے بریکٹ میں بولے جائیں یا بریکٹ کے بغیر بولے جائیں، کسی صحابی کے لیے ان کا استعمال سراسر گستاخی ہے، بلکہ کیا ایسے الفاظ انجینئر صاحب اپنے والد گرامی کے متعلق ادا کر سکتے ہیں؟
لہٰذا انجینئر صاحب اور ان کے اندھے مقلدین سے عرض ہے کہ صحابہ پر کیچڑ اچھالنا چھوڑ دو اور اپنے گریبانوں میں جھانکو اور پہلے اپنے اندر کا گند صاف کرو۔ آسمان پر تھوکا اپنے منہ پر ہی آتا ہے!
صحابہ آسمان ہیں اور تم لوگ کیا ہو یہ بتانے کے لائق نہیں ہے۔

❀❀❀