سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علمی، عملی اور جہادی فضائل، احادیث و آثار کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

دعائیں، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سکھائیں

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے وقت یہ دعا سکھلائی :
لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله، وتبارك الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين .
”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بردبار اور عزت والا ہے، پاک ہے۔ بڑی برکت والا ہے، اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لئے ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 94،91/1 وسنده حسن)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن فاطمة عليها السلام، شكت ما تلقى من أثر الرحا، فأتى النبى صلى الله عليه وسلم سبي، فانطلقت فلم تجده، فوجدت عائشة فأخبرتها، فلما جاء النبى صلى الله عليه وسلم أخبرته عائشة بمجيء فاطمة، فجاء النبى صلى الله عليه وسلم إلينا وقد أخذنا مضاجعنا، فذهبت لأقوم، فقال : على مكانكما، فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه على صدري، وقال : ألا أعلمكما خيرا مما سألتماني، إذا أخذتما مضاجعكما تكبرا أربعا وثلاثين، وتسبحا ثلاثا وثلاثين، وتحمدا ثلاثا وثلاثين فهو خير لكما من خادم .
”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی کی مشقت زیادہ محسوس ہوتی تھی، اسی سلسلے میں آپ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گئیں کہ مجھے ایک غلام دے دیا جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہیں تھے، آپ رضی اللہ عنہا نے مدعا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے رکھ دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ پیغام ان کے گوش گزار کر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر ہمارے ہاں چلے آئے ، ہم استقبال کو اٹھے، تو فرمایا: بیٹھ جائیے ، آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے ، میں نے اپنے سینے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک کو محسوس کیا۔ فرمایا : میں آپ کو اس غلام سے بہتر چیز نہ دوں؟ جب آپ بستر پر لیٹیں ، تو 34 مرتبہ اللہ اکبر ، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھ لیا کریں، یہ خادم سے کہیں بہتر ہے۔“
(صحيح البخاري : 3705 ، صحیح مسلم : 2727)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا جو انہیں روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب تھی :

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنه جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن عمك الشيخ الضال قد مات، فمن يواريه؟ قال : اذهب فوار أباك، ولا تحدث حدثا حتى تأتيني ففعلت، ثم أتيته ، فامرني ! أغتسل، فاغتسلت، ودعا لي بدعوات ما يسرني ما على الأرض بشيء منهن .
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : آپ کا گمراہ چچا دم توڑ گیا ہے، اسے کون دفن کرے گا؟ فرمایا: جائیے ، اپنے باپ کو دفن کیجئے اور سنئے ! اس وقت تک کچھ نہیں کرنا ، جب تک کہ میرے پاس واپس نہ آجاؤ! میں نے ایسا ہی کیا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے غسل کا کہا، جب میں غسل کر چکا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے واسطے کئی دعائیں کیں، وہ دعائیں مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔“
(مسند أحمد : 131،97/1 ، سنن أبي داود : 3214 ، سنن النسائي : 2008، 190 ، وصححه ابن خزيمة : كما في الإصابة لابن حجر : 114/7 وابن الجارود : 550 ، وأخرجه أبو داود الطيالسي : ص 19 ، ح : 120 ، وسنده حسن متصل ، وسنده صحيح)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ حق کے زیادہ قریب گروہ ہے :

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تمرق مارقة عند فرقة من الناس تقتلها أولى الطائفتين بالحق .
”لوگ جب تفریق ہو چکے ہوں گے ، تو خوارج کا گروہ اسلام سے نکل جائے گا، ان سے وہی قتال کرے گا، جو گروہ حق سے زیادہ قریب ہوگا۔“
(صحیح مسلم : 1064 /150 ، خصائص علي للنسائي : 172)

خوارج سے جہاد کا اعزاز :

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تمرق مارقة عند فرقة من الناس تقتلها أولى الطائفتين بالحق .
”لوگ جب تفریق ہو چکے ہوں گے تو خوارج کا گروہ جنم لے گا ، ان سے وہی قتال کرے گا، جو گروہ حق سے زیادہ قریب ہوگا۔“
(صحیح مسلم : 1064 /150 ، خصائص علي للنسائي : 172)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كنا جلوسا ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج علينا من بعض بيوت نسائه، قال : فقمنا معه، فانقطعت نعله، فتخلف عليها على يحصفها، فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ومضينا معه، ثم قام ينتظره وقمنا معه، فقال : إن منكم من يقاتل على تأويل هذا القرآن، كما قاتلت على تنزيله، فاستشرفنا وفينا أبو بكر وعمر فقال : لا ، ولكنه خاصف النعل ، قال : فجئنا نبشره، قال : وكأنه قد سمعه .
”ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں بیٹھے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ کے گھر سے تشریف لائے ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل دیئے، راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا ٹوٹ گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رک کر جوتا گانٹھنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے چل پڑے، ہم بھی چلتے رہے۔ ایک جگہ پہنچ کر کھڑے ہو گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگے، ہم بھی کھڑے ہو گئے ، اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ میں ایک ایسا آدمی ہوگا ، جو قرآن کریم کی تاویل و تفسیر پر اسی طرح قتال کرے گا ، جیسے میں نے اس کی تنزیل پر قتال کیا تھا۔ یہ سن کر ہم جھانک جھانک کر دیکھنے لگے، اس وقت ہمارے درمیان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ خاصف النعل (جوتا گانٹھنے والا) ہے۔ اس پر ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے آئے ، تو ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے بھی یہ سن لی ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 82/3 ، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6937) اور امام حاکم رحمہ اللہ (3/ 122) نے ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
یہ حدیث اعلام نبوت میں سے ہے۔ جس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی منقبت وفضیلت ثابت ہوتی ہے کہ فتنہ خوارج کے خلاف برسر پیکار ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مدح و تعریف فرمائی ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حديث فى مدح على رضى الله عنه على قتال الحوارح قبحهم الله.
”اس حدیث میں خوارج کے خلاف قتال کرنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف ہے، اللہ خوارج کو تباہ و برباد کرے۔“
(البداية والنهاية : 305/7)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم ذكر قوما يكونون فى أمته، يخرجون فى فرقة من الناس، سيماهم التحالق قال : هم شر الخلق أو من أشر الخلق يقتلهم أدنى الطائفتين إلى الحق قال : فضرب النبى صلى الله عليه وسلم لهم مثلا، أو قال قولا : الرجل يرمي الرمية أو قال العرض فينظر فى النصل فلا يرى بصيرة، وينظر فى النضي فلا يرى بصيرة، وينظر فى الفوق فلا يرى بصيرة قال : قال أبو سعيد : وأنتم قتلتموهم، يا أهل العراق .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا ذکر کیا، جو تفریق کے دنوں میں نکلیں گے، منڈے ہوئے سر ان کی نشانی ہے مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے، انہیں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے کوئی آدمی کسی شکار کو تیر کے ذریعے نشانہ لگاتا ہے، پھر غور سے تیر کی انی ( اگلے حصے ) کو دیکھتا ہے، اسے شکار ہونے کی کوئی علامت (خون) نظر نہیں آتا۔ پھر تیر کے پرکان اور پُر کے درمیانی حصے کو دیکھتا ہے، تو کوئی نشان نہیں ملتا۔ پھر تیر کے سوفار (وہ چٹکی ، جہاں کمان کا تانت ٹکتا ہے) کو دیکھتا ہے، اس میں بھی کوئی نشان نظر نہیں آتا۔
راوی حدیث (ابو نضرہ رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل عراق ! انہیں قتل آپ کریں گے۔“
(صحیح مسلم : 149/1064)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قوم يخرجون من هذه الأمة، فذكر من صلاتهم، وزكاتهم، وصومهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية، لا يجاوز القرآن تراقيهم يخرجون فى فرقة من الناس، يقاتلهم أقرب الناس إلى الحق .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کی نماز، زکوۃ اور روزوں کا ذکر کیا، فرمایا : وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اختلاف کے دنوں میں ان کا خروج ہو گا۔ حق کے زیادہ قریب گروہ ان سے قتال کرے گا۔“
(صحیح مسلم : 153/1064)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم ذات يوم قسما فقال ذو الخويصرة التميمي : يا رسول الله اعدل قال : ويحك ومن يعدل إذا لم أعدل؟ فقام عمر فقال : يا رسول الله انذد لي حتى أضرب عنقه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا ، إن له أصحابا يحتقر أحدكم صلاته مع صلاته، وصيامه مع صيامه، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية، حتى إن أحدهم لينظر إلى نصله، فلا يجد فيه شيئا، ثم ينظر إلى رصافه، فلا يجد فيه شيئا، ثم ينظر إلى نضيه، فلا يجد فيه شيئا، ثم ينظر إلى قذذه، فلا يجد فيه شيئا سبق الفرث والدم، يخرجون على خير فرقة من الناس، آيتهم رجل أدعج إحدى يديه مثل ثدي المرأة، أو كالبضعة تدردر قال أبو سعيد : أشهد لسمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأشهد أني كنت مع على بن أبى طالب حين قاتلهم، فأرسل إلى القتلى، فأتي به على النعت الذى نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم .
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے، اتنے میں قبیلہ بنو تمیم سے ذوالخویصرہ نامی شخص آیا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! انصاف کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : افسوس ! اگر میں عدل نہیں کروں گا، تو کون عدل کرے گا ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اجازت دیں، اس کی گردن اُڑا دوں، فرمایا نہیں ، چھوڑیئے ، اس کے کچھ ساتھی ہوں گے، آپ اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں، اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے معمولی سمجھیں گے، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہاں تک کہ تیر کے پھل کی جڑ میں دیکھا جائے گا، اس میں کوئی نشان نظر نہیں آئے گا، پھر تیر کے پر کو دیکھا جائے گا، اس میں کوئی نشان نہیں ہوگا ، پھر تیر کے پرکان کو دیکھا جائے ، تو اس پر بھی کوئی نشان نظر نہیں آئے گا اور تیر کے اس حصے کو جو پر اور پرکان کے درمیان ہوتا ہے، کو دیکھا جائے ، تو اس پر کوئی نشان نظر نہیں آئے گا، حالانکہ وہ (تیر) گوبر اور خون میں سے گزرا ہو گا اور وہ لوگوں کے بہترین گروہ کے خلاف بغاوت کرے گا۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ایک سیاہ فام جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہوگا یا ہلتے ہوئے گوشت کی طرح ہوگا۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑائی کی تو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اس شخص کو تلاش کیا گیا ، تو اس کا پورا حلیہ ویسا تھا، جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا۔“
(صحيح البخاري : 6163)
عبید اللہ بن ابورافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن الحرورية ، لما خرجت مع على بن أبى طالب فقالوا : لا حكم إلا لله قال على : كلمة حق أريد بها باطل، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وصف ناسا، إني لأعرف صفتهم فى هؤلاء الذين يقولون الحق بألسنتهم لا يجوز هذا منهم، وأشار إلى حلقه من أبغض خلق الله إليه، منهم أسود إحدى يديه طبي شاة أو حلمة ثدي، فلما قاتلهم على قال : انظروا فنظروا، فلم يجدوا شيئا فقال : ارجعوا والله ما كذبت، ولا كذبت، مرتين أو ثلاثا، ثم وجدوه فى خربة، فأتوا به حتى وضعوه بين يديه، قال عبيد الله : أنا حاضر ذلك من أمرهم، وقول على فيهم .
”حروریہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغاوت کی ، کہنے لگے : لا حكم الا لله (اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حق بات کی آڑ لے کر باطل کا ارادہ کیا جا رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بابت فرمایا تھا ، میں ان کو بخوبی جانتا ہوں، وہ نشانیاں ان میں پائی جاتی ہیں ، حق زبان سے کہتے ہیں، مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ اللہ کی مبغوض ترین مخلوق ہیں یہ لوگ، ان میں ایک اسود نامی شخص ہے، جس کا ہاتھ بکری کی پشت یا عورت کی پستان کے سرے جیسا ہوگا، قتال کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ، (ذوالثدیہ) کو تلاش کرو! تلاش کرنے پر نہ ملا، تو فرمایا : بخدا! میں نے آپ سے جھوٹ نہیں کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جھوٹ نہیں کہا، دو یا تین مرتبہ کہا تھا کہ لوگ ایک کھنڈر سے اس کی لاش نکال لائے۔ راوی عبید اللہ بن ابو رافع رحمہ اللہ کہتے ہیں : جب یہ سارا واقعہ پیش آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی ، میں وہیں موجود تھا۔“
(صحیح مسلم : 157/1066 ، خصائص علي للنسائي : 177)
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا :
إذا حدثتكم عن نفسي فإن الحرب خدعة، وإذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلأن أخر من السماء أحب إلى من أن أكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يخرج قوم أحدات الأسنان، سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول البرية ، لا يجاوز إيمانهم حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، فإن أدركتهم فاقتلهم، فإن فى قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة .
”میں خود سے کوئی بات کہوں تو سنو! جنگ دھوکہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ منسوب کروں، تو میں چاہوں گا آسمان سے گر جاؤں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ بولوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : کچھ ایسے نوجوان پیدا ہوں گے، جو عقل کے کمزور اور قرآن کو پڑھنے والے ہوں گے، ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ یہ لوگ جہاں بھی ملیں ، انہیں قتل کر دو۔ ان کے قاتلین کے لئے روز قیامت بہت بڑا اجر ہے۔“
(صحيح البخاري : 6930 ، صحیح مسلم : 154/1066)
کلیب بن شہاب جرمی کوفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنت عند على جالسا إذ دخل رجل عليه ثياب السفر قال : وعلي يكلم الناس ، ويكلمونه فقال : يا أمير المؤمنين أتأذن أن أتكلم؟ فلم يلتفت إليه، وشغله ما هو فيه، فجلست إلى الرجل، فسألته ما خبرك؟ قال : كنت معتمرا، فلقيت عائشة فقالت لي : هؤلاء القوم الذين خرجوا فى أرضكم يسمون حرورية قلت : خرجوا فى موضع يسمى حروراء، فسموا بذلك، فقالت : طوبى لمن شهد هلكتهم، لو شاء ابن أبى طالب لأخبركم خبرهم، فجئت أسأله عن خبرهم، فلما فرغ على قال : أين المستأذن؟ فقص عليه كما قص علينا قال : إني دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس عنده أحد غير عائشة أم المؤمنين فقال لي : كيف أنت يا علي، وقوم كذا وكذا؟ قلت : الله ورسوله أعلم، وقال : ثم أشار بيده فقال : قوم يخرجون من المشرق يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، فيهم رجل مخدج كأن يده ثدي أنشدكم بالله أخبرتكم بهم؟ قالوا : نعم قال : أنا شدكم بالله أخبرتكم أنه فيهم؟ قالوا : نعم قال : فأتيتموني، فأخبرتموني أنه ليس فيهم، فحلفت لكم بالله أنه فيهم، فأتيتموني به تسحبونه كما نعت لكم؟ قالوا : نعم قال : صدق الله ورسوله .
”میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا، اس نے سفر کا لباس پہنا ہوا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے گفتگو فرمارہے تھے، اس نے بات کرنے کی اجازت چاہی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ گفتگو میں مصروف رہے، اس کی طرف التفات نہیں کیا۔
میں اس آدمی کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، پوچھا : کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ کہا: میں عمرہ کے لیے مکہ گیا تھا، وہاں میری ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ انہوں نے فرمایا : جنہوں نے آپ کے علاقے میں خروج کیا ہے، انہیں حروریہ کیوں کہا جاتا ہے؟ عرض کیا : انہوں نے حروراء نامی جگہ سے خروج کیا ہے، اسی باعث۔ فرمایا : ان کے قتل میں جو شریک ہوگا ، اس کے لئے خوش خبری ہے۔ ابن ابی طالب اگر چاہیں تو مزید بتلا سکتے ہیں ، میں اسی متعلق پوچھنے آیا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا : اجازت طلب کرنے والا کہاں ہے؟ اس آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گوش گزار کی ، تو فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن ابی طالب ! تب کیا ہوگا، جب لوگوں کی ایسی ایسی کیفیت ہوگی ؟ عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں، فرمایا: مشرق سے ایک قوم آپ کی مخالفت کو نکلے گی، ہاتھ سے اشارہ کیا، فرمایا: قرآن کو پڑھیں گے، مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ایک شخص ان میں ناقص ہاتھوں والا ہوگا ، اس کا ایک ہاتھ عورتوں کے پستان جیسا ہوگا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے : قسم دیجئے ، کیا میں نے ان کے متعلق بتا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ! میں نے بتایا تھا کہ وہ ان لوگوں میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، کہا: پھر آپ نے بتایا کہ وہ ان میں نہیں ہے، میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ وہ ان میں ہے، پھر آپ اس کی لاش کو میرے پاس گھسیٹ لائے ۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں ! تو کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا۔“
(زوائد مسند الإمام أحمد : 160/1 ، خصائص علي بن أبي طالب للنسائي : 183 ، السنة لابن أبي عاصم : 913 ، وسنده حسن)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (البداية والنهاية : 293/7) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے۔
زید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
خطبنا على بقنطرة الديز جان فقال : إنه قد ذكر لي خارجة تخرج من قبل المشرق، وفيهم ذو التدية، فقاتلهم، فقالت الحرورية بعضهم لبعض : لا تكلموه، فيردكم كما ردكم يوم حروراء ، فشجر بعضهم بعضا بالرماح، فقال رجل من أصحاب على : اقطعوا العوالي، والعوالي الرماح، فداروا واستداروا، وقتل من أصحاب على اثنا عشر رجلا، أو ثلاثة عشر رجلا فقال على : التمسوا المخدج، وذلك فى يوم شات فقالوا : ما نقدر عليه، فركب على بغلة النبى صلى الله عليه وسلم الشهباء، فأتى وهدة من الأرض فقال : التمسوه فى هؤلاء، فأخرج فقال : ما كذبت، ولا كذبت فقال : اعملوا ولا تتكلوا، لولا أني أخاف أن تتكلوا لأخبرتكم بما قضى الله لكم على لسانه، يعني النبى صلى الله عليه وسلم، ولقد شهدنا أناس باليمن قالوا : كيف يا أمير المؤمنين؟ قال : كان هداهم معنا .
”دیز جان کے پل پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، فرمایا : مجھے ایک قوم کے متعلق بتایا گیا تھا، جن میں ذوالثدیہ بھی ہو گا مشرق کی طرف سے وہ قوم آپ پر خروج کرے گی ،آپ ان سے قتال کیجئے گا! خوارج ایک دوسرے سے کہنے لگے : ان سے گفتگو نہ کرنا! یہ آپ کا رد کریں گے، جس طرح حروریہ کے دن کیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف تیر پھینکنے لگے ، ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گروہ سے کہنے لگا، ان کے نیزوں کو روکو ! ان کو گھیر لیا گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارہ یا تیرہ ساتھی شہید ہوئے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : ناقص ہاتھوں والے کو ڈھونڈیں ، اس دن سردی بہت شدید تھی ، لوگوں نے عرض کیا: ہم نہیں ڈھونڈ پائے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء نامی خچر پر سوار ہوئے ، ایک گڑھے کے قریب پہنچ کر فرمایا : یہاں ڈھونڈیں! اس کی لاش وہاں سے مل گئی ، فرمایا : میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولا ۔ فرمایا: عمل کرتے رہیں، (صرف) توکل پر ہی نہ رہیں، مجھے یہ خدشہ اگر نہ ہوتا کہ آپ توکل کر لیں گے، میں آپ کو اُس الہی فیصلے سے آگاہ کرتا ، جو اللہ نے آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بیان کیا تھا۔ ( نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) : یمنی لوگ ہمارے ساتھ شریک ہیں ۔ لوگوں نے عرض کیا : امیر المومنین ! وہ کیسے؟ فرمایا : انہیں بھی ہمارے ساتھ ہی ہدایت نصیب ہوئی ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة : 311/15 ، مسند البزار : 580 ، وسنده حسن)
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ نے بتایا :
أنه كان فى الجيش الذين كانوا مع على الذين ساروا إلى الخوارج، فقال على : أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : سيخرج قوم من أمتي يفرؤون القرآن، ليس قراوتكم إلى قراوتهم شيئا، ولا صلاتكم إلى صلاتهم شيئا، ولا صيامكم إلى صيامهم شيئا، يقرؤون القرآن يحسبون أنه لهم، وهو عليهم، لا تجاوز صلاتهم تراقيهم، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية، لو تعلمون الجيش الذى يصيبونهم ما قضي لهم على لسان نبيهم صلى الله عليه وسلم لا تكلوا على العمل، وآية ذلك أن فيهم رجلا له عضد، وليست له ذراع، على رأس عضده مثل حلمة ثدي المرأة عليه شعرات بيض ، قال سلمة : فنزلني زيد منزلا منزلا حتى مررنا على قنطرة، على الخوارج عبد الله بن وهب الراسي فقال لهم : ألقوا الرماح، وسلوا سيوفكم من جفونها، فإني أخاف أن يناشدوكم قال : فسلوا السيوف، وألقوا جفونها، وشجرهم الناس يعني برماحهم فقتل بعضهم على بعض، وما أصيب من الناس يومئذ إلا رجلان قال على : التمسوا فيهم المخدج، فلم يجدوه ، فقام على بنفسه حتى أتى ناسا قتلى بعضهم على بعض قال : جردوهم، فوجدوه مما يلي الأرض ، فكبر على وقال : صدق الله، وبلغ رسوله صلى الله عليه وسلم، فقام إليه عبيدة السلماني فقال : يا أمير المؤمنين الله الذى لا إله إلا هو سمعت هذا الحديث من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال : إي والله الذى لا إله إلا هو لسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى استحلفه ثلاثا وهو يحلف له .
”وہ اس لشکر میں شامل تھے، جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں خوارج (کی سرکوبی) کے لیے کوچ کیا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے ، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے، آپ کی قرأت ان کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی ، آپ کی نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی اور آپ کے روزے ان کے روزوں کے مقابلے کچھ نہیں ہوں گے۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے اور یہ سمجھیں گے یہ ان کے حق میں ہے (یعنی ان کے حق میں دلیل بنے گا) حالانکہ وہ ان کے خلاف حجت بنے گا۔ ان کی نمازیں ان کے حلق سے نیچے نہیں اتریں گی ، وہ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے،اگر اس لشکر کو، جو ان سے لڑنے جا رہا ہے پتہ چل جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے حق میں کیا فضائل بیان ہوئے ہیں، تو وہ ( دیگر نیک) اعمال پر بھروسہ چھوڑ دیں ، علامت یہ ہے کہ ان (خارجیوں) میں ایک آدمی ہے، اس کا کہنی سے کندھے تک بازو ہوگا لیکن کہنی سے نیچے والا حصہ نہیں ہو گا ، اس کے بازو کا اوپر والا حصہ پستان کی طرح ہوگا اور اس پر سفید بال ہوں گے۔ سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ نے مجھے ایک ایک منزل پر اتارا حتی کہ ہم ایک پل پر سے گزرے۔ ( راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم ان کے مد مقابل ہوئے) عبد اللہ بن وہب راسبی ان (خوارج) کا امیر تھا، اس نے انہیں کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تم سے مطالبہ کریں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نیزے پھینک دیئے اور تلواریں سونت لیں، میانیں بھی وہیں پھینک دیں ۔لوگوں نے ان سے نیزوں سے لڑائی کی۔ خوارج کے کشتوں کے پشتے لگ گئے ۔ اس روز (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) ساتھیوں میں سے صرف دو آدمی شہید ہوئے ،سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مخدج (ناقص ہاتھ والے) کو تلاش کرو، انہیں نہ ملا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے، ان لوگوں کے پاس آئے ، جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا ، فرمایا: ان نعشوں کو نکالو، دیکھا گیا کہ مخدج زمین سے چمٹا پڑا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا، فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے پہنچا دیا۔ عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ پوچھنے لگے : امیر المومنین ! آپ اللہ معبود برحق کی قسم اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا : جی ہاں ! اللہ معبود برحق کی قسم ! میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے، انہوں نے تین مرتبہ قسم مانگی اور آپ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) قسم اٹھاتے رہے۔“
(صحیح مسلم : 156/1066 ، خصائص علي بن أبى طالب للنسائي : 196)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لما خرجت الحرورية اعتزلوا فى دار، وكانوا ستة آلاف فقلت لعلي : يا أمير المؤمنين أبرد بالصلاة، لعلي أكلم هؤلاء القوم قال : إني أخافهم عليك قلت : كلا، فلبست، وترجلت، ودخلت عليهم فى دار نصف النهار، وهم يأكلون فقالوا : مرحبا بك يا ابن عباس، فما جاء بك؟ قلت لهم : أتيتكم من عند أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم المهاجرين، والأنصار، ومن عند ابن عم النبى صلى الله عليه وسلم وصهره، وعليهم نزل القرآن، فهم أعلم بتأويله منكم، وليس فيكم منهم أحد، لأبلغكم ما يقولون، وأبلغهم ما تقولون، فانتحى لي نفر منهم قلت : هاتوا ما نقمتم على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وابن عمه قالوا : ثلاث قلت : ما هن؟ قال : أما إحداهن، فإنه حكم الرجال فى أمر الله وقال الله : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ما شأن الرجال والحكم؟ قلت : هذه واحدة قالوا : وأما الثانية، فإنه قاتل، ولم يسب، ولم يغنم، إن كانوا كفارا لقد حل سباهم، ولئن كانوا مؤمنين ما حل سباهم ولا قتالهم قلت : هذه ثنتان، فما الثالثة؟ وذكر كلمة معناها قالوا : محى نفسه من أمير المؤمنين، فإن لم يكن أمير المؤمنين، فهو أمير الكافرين قلت : هل عندكم شيء غير هذا؟ قالوا : حسبنا هذا قلت : لهم أرأيتكم إن قرأت عليكم من كتاب الله جل ثناؤه وسنة نبيه ما يرد قولكم أترجعون؟ قالوا : نعم، قلت : أما قولكم : حكم الرجال فى أمر الله، فإني أقرأ عليكم فى كتاب الله أن قد صير الله حكمه إلى الرجال فى ثمن ربع درهم، فأمر الله تبارك وتعالى أن يحكموا فيه أرأيت قول الله تبارك وتعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ وكان من حكم الله أنه صيره إلى الرجال يحكمون فيه، ولو شاء لحكم فيه، فجاز من حكم الرجال، أنشدكم بالله أحكم الرجال فى صلاح ذات البين، وحقن دمائهم أفضل أو فى أرنب؟ قالوا : بلى، هذا أفضل وفي المرأة وزوجها : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا فنشدتكم بالله حكم الرجال فى صلاح ذات بينهم، وحقن دمائهم أفضل من حكمهم فى بضع امرأة؟ خرجت من هذه؟ قالوا : نعم قلت : وأما قولكم قاتل ولم يسب، ولم يغنم، أفتسبون أمكم عائشة، تستحلون منها ما تستحلون من غيرها وهى أمكم؟ فإن قلتم : إنا نستحل منها ما نستحل من غيرها فقد كفرتم، وإن قلتم : ليست بأمنا فقد كفرتم : النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ فأنتم بين ضلالتين، فأتوا منها بمخرج، أفخرجت من هذه؟ قالوا : نعم، وأما محي نفسه من أمير المؤمنين، فأنا آتيكم بما ترضون، إن نبي الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية صالح المشركين فقال لعلي : اكتب يا على هذا ما صالح عليه محمد رسول الله قالوا : لو نعلم أنك رسول الله ما قاتلناك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : امح يا على ، اللهم إنك تعلم أني رسول الله، امح يا علي، واكتب هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله والله لرسول الله صلى الله عليه وسلم خير من علي، وقد محى نفسه، ولم يكن محوه نفسه ذلك محاه من النبوة، أخرجت من هذه؟ قالوا : نعم، فرجع منهم ألفان، وخرج سائرهم، فقتلوا على ضلالتهم، فقتلهم المهاجرون والأنصار .
”اہل حرورہ نے جب خروج کیا، وہ چھ ہزار کی بڑی تعداد میں ایک گھر میں جمع تھے، میں نے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: امیر المومنین! آپ ذرا نماز کو ٹھنڈا کیجیے تاکہ میں خوارج سے گفتگو کرلوں۔ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے خدشہ ہے کہ وہ کہیں آپ کو اذیت نہ دیں، عرض کیا: ایسا نہیں ہوگا، چنانچہ میں نے ایک خوب صورت حلہ (جوڑا) زیب تن کیا، کنگھی کی اور ٹھیک دوپہر کے وقت ان کے پاس پہنچا، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ (واضح رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ایک خوب رو اور بلند آواز والے انسان تھے)، انہوں نے مجھ کو دیکھ کر مرحبا مرحبا کہا اور کہنے لگے ابن عباس! کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا: میں مہاجرین و انصار صحابہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد کے پاس سے آرہا ہوں، انہی کے دور میں قرآن نازل ہوا، وہ قرآن کی تفسیر اور اس کا معنی ومفہوم آپ سے زیادہ جانتے ہیں، ان کا کوئی شخص آپ کے ساتھ نہیں، میں آپ کو ان کے خیال سے اور ان کو آپ کے خیال سے متعارف کراؤں گا، چنانچہ کچھ لوگ الگ ہو کر میرے پاس آئے۔ میں نے کہا: اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کیا شکایات ہیں؟ انھوں نے کہا: تین شکائیتیں ہیں۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: پہلی شکایت تو یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے معاملہ میں انسانوں کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم کر لیا، حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ حکم صرف اللہ کے لیے ہے۔ انسانوں کا حکم سے کیا تعلق؟ میں نے کہا: ایک ہوئی۔ دوسری شکایت کیا ہے؟ کہا: دوسری شکایت یہ ہے کہ انہوں نے (سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے) قتال کیا لیکن نہ انھیں قیدی بنایا اور نہ ان کا مال لوٹا، اگر وہ کافر تھے، تو انھیں قیدی بنانا جائز تھا اور اگر مومن تھے، تو نہ انھیں قید کیا جا سکتا تھا اور نہ ان سے قتال جائز تھا، میں نے کہا: یہ دوسری ہوئی۔ تیسری شکایت کیا ہے؟ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور بات کہی، انہوں نے کہا: انہوں نے عہد نامہ تحکیم سے خود امیر المومنین کا لقب مٹادیا، اگر وہ امیر المومنین نہیں، تو کیا (معاذ اللہ) امیر الکافرین ہیں؟ پھر میں نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی کوئی شکایت ہے؟ کہا: نہیں، بس اتنا ہی ہے۔ میں نے کہا: میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں آپ کی باتوں کو غلط ثابت کروں، تو لوٹ آؤ گے؟ (یعنی خروج سے تائب ہو کر مسلمانوں کے ساتھ مل جاؤ گے) انہوں نے کہا: ہاں! میں نے کہا کہ یہ شکایت کہ انھوں نے اللہ کے معاملہ میں انسانوں کو حکم بنایا، اس کے جواب میں قرآن کی ایک آیت سناتا ہوں، جس میں اللہ نے ربع درہم جیسی معمولی چیز کے بارے میں انسانوں کو حکم ٹھہرایا ہے اور انھیں حکم دیا ہے کہ اس میں فیصلہ کریں، اللہ کے اس کلام کے بارے میں کیا خیال ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ لوگو! احرام کی حالت میں شکار نہ کرو، اگر جان بوجھ کرلیا، تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل ایک جانور دینا ہوگا۔ اس مثل کا فیصلہ آپ میں سے دو انصاف والے کریں گے۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس نے اپنا حکم لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، تاکہ وہ اس کا فیصلہ کریں، اگر اللہ چاہتا، تو اس بات کا خود فیصلہ فرما دیتا، اس کے باوجود اللہ نے اس مسئلہ میں لوگوں کے فیصلے کو جائز قرار دیا، میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: لوگوں کے اختلاف کو مٹا کر صلح پیدا کرنے اور انہیں خون ریزی سے بچانے کے لیے حکم مقرر کرنا بہتر ہے، یا ایک خرگوش کے بارے میں (جس کی قیمت ربع درہم ہے) انھوں نے کہا: ہاں! یہ افضل و بہتر ہے۔ مزید سنو! اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کے بارے میں فرمایا : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا اگر ڈر ہو کہ ان میں مخالفت ہو جائے گی، تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے حکم مقرر کر لیجئے۔ میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسلمانوں کے درمیان مصالحت کروانے اور ان کی باہمی خون ریزی کو روکنے میں حکم مقرر کرنا اس عورت کے سامان لذت سے بہتر ہے؟ کیا پہلے اعتراض کا جواب ہو گیا، انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر میں نے کہا: یہ شکایت کہ انہوں نے قتال کیا، لیکن مد مقابل کو قیدی نہیں بنایا، ان کا مال نہیں لوٹا، تو اس سلسلے میں میں پوچھتا ہوں کہ اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قید کرنا پسند کریں گے؟ ان کے بارے میں بھی ان امور کو حلال جانو گے، جو ان کے علاوہ دوسروں (لونڈیوں) کے لیے حلال جانتے ہو؟ حالانکہ وہ آپ کی ماں ہیں۔ اگر آپ یہ کہو: ان کے ساتھ وہ سب کچھ حلال ہے، جو لونڈیوں کے لئے حلال ہوتا ہے، تو آپ نے کفر کیا اور اگر یہ کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں ہیں تو بھی آپ کافر، اللہ کا ارشاد ہے : النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ آپ دو گمراہیوں کے درمیان پھنسے ہو، اس سے نکلنے کا راستہ آپ ہی بتائیں۔ کیا یہ اعتراض بھی کافور ہوا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر میں نے کہا: یہ شکایت کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لقب کیوں مٹا دیا، تو میں اس کی دلیل دیتا ہوں، جو آپ کو پسند آئے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین سے جب مصالحت کی تھی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! لکھیں، یہ معاہدہ ہے، جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح کر رہے ہیں۔ یہ سن کر مشرکین کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے، تو پھر آپ سے جنگ کیوں لڑتے، تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی! اسے مٹادیجئے، اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں علی! مٹادیجئے اور لکھئے: یہ معاہدہ ہے، جس پر محمد بن عبد اللہ صلح کر رہے ہیں۔ یہ دلیل بیان کرنے کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے خوارج سے فرمایا اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہتر ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ کو) مٹا دیا پس اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو نبوت سے مٹا دیا ہے۔ کیا آخری شکایت کا جواب بھی مکمل ہوا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر ان میں سے دو ہزار لوگ دوبارہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جماعت میں لوٹ آئے، بقیہ نے انکار کر دیا، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا اور اپنی اسی گمراہی پر مہاجرین وانصار کے ہاتھوں قتل ہوئے۔“
(مسند الإمام أحمد : 342/1 ، سنن أبي داود : 4037 مختصرًا ، خصائص علي للنسائي : 190 ، واللفظ له ، المعرفة والتاريخ للفسوي : 2/1 52 ، المعجم الكبير للطبراني : 312/10 ، المستدرك للحاكم : 150/2 ، وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔

نام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم :

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لما صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الحديبية وقال ابن بشار : أهل مكة كتب على كتابا بينهم قال : فكتب محمد رسول الله فقال المشركون : لا تكتب محمد رسول الله، لو كنت رسول الله لم نقاتلك قال : على امحه قال : ما أنا بالذي أمحاه، فمحاه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده، فصالحهم على أن يدخل هو وأصحابه ثلاثة أيام ولا يدخلها إلا بجليان السلاح فسألته قال ابن بشار : فسألوه ما جلبان السلاح؟ قال : القراب بما فيه .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ (ابن بشار رحمہ اللہ نے کہا: یعنی اہل مکہ) سے صلح کی، تو اس کی دستاویز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔ انہوں نے اس میں لکھا، یہ معاہدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو، اگر آپ رسول ہوتے، تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹادیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ (آئندہ سال) تین دن کے لئے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں، امام ابن بشار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شاگردوں نے امام شعبہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ جلبان السلاح (جس کا ذکر ہے) کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے اس کا نام جلبان ہے۔“
(صحيح البخاري : 2698 ، صحیح مسلم : 1783)

شہادت کی پیشین گوئی اور حدیث پر ایمان کی ایک مثال :

ابو سنان یزید بن امیہ دولی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک بیماری سے صحت یاب ہوئے تو ہم نے عرض کیا :
الحمد لله الذى أصحك يا أمير المؤمنين قد كنا خفنا عليك فى مرضك هذا، فقال : لكني لم أخف على نفسي، حدثني الصادق المصدوق، قال : لا تموت حتى يضرب هذا منك يعني رأسه وتخضب هذه دما يعني لحيته، ويقتلك أشفاها كما عقر ناقة الله أشقى بني فلان، خصه إلى فخذه الدنيا دون ثمود .
”امیر المومنین! اللہ رب العزت کا شکر ہے، جس نے آپ کو صحت دی ہمیں تو آپ کی اس بیماری پر ڈر تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کوئی ڈر نہ تھا کہ صادق و مصدوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: آپ کو اس وقت تک موت نہیں آئے گی، جب تک کہ آپ کا سر زخمی نہ ہو، داڑھی خون آلود نہ ہو جائے اور ایک بد بخت آپ کو شہید نہ کر دے۔ جس طرح کہ بد بخت قوم ثمود نے اللہ رب العزت کی اونٹنی کو مارا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بد بخت کو ثمود سے نیچے کسی قریبی قبیلہ کی طرف منسوب کیا۔“
(مسند عبد بن حمید : 92 وسنده حسن)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ (113/3) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے۔

حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت :

مروان بن حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں :
شهدت عثمان، وعليا رضي الله عنهما وعثمان ينهى عن المتعة، وأن يجمع بينهما، فلما رأى على أهل بهما، لبيك بعمرة وحجة، قال : ما كنت لادع سنة النبى صلى الله عليه وسلم لقول أحد .
”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ و علی رضی اللہ عنہ ہر دو سے مل چکا ہوں، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فرمایا: لبيك بعمرة وحج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی کے کہے پر نہیں چھوڑ سکتا۔“
(صحيح البخاري : 1563 ، صحیح مسلم : 1223)

حدیث سن کر تسلیم کر لینا :

عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إن عليا حرق قوما ارتدوا عن الإسلام، فبلغ ذلك ابن عباس، فقال : لو كنت أنا لقتلتهم بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم : من بلل دينه فاقتلوه، ولم أكن لأحرقهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تعذبوا بعذاب الله، فبلغ ذلك عليا، فقال : صدق ابن عباس .
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتدین اسلام کو آگ میں جلا دیا ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اسلام سے پھر جائے اسے قتل کر دیں۔“ اگر فیصلہ میرے اختیار میں ہوتا، تو انہیں قتل کر دیتا، جلاتا نہیں، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ کا عذاب نہ دیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ خبر پہنچی تو فرمایا : عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں۔“
(سنن الترمذي : 1458 وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے راضی تھے :

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فسمى عليا، وعثمان، والزبير ، وطلحة ، وسعدا ، وعبد الرحمن .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے، تو ان لوگوں سے راضی تھے، علی رضی اللہ عنہ سے، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہم سے۔“
(صحيح البخاري : 3700)
نیز سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
إني لا أعلم أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فمن استخلفوا بعدي فهو الخليفة فاسمعوا له وأطيعوا، فسمى عثمان ، وعليا، وطلحة ، والزبير، وعبد الرحمن بن عوف، وسعد بن أبى وقاص .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے، تو ان لوگوں سے راضی تھے، میں سمجھتا ہوں کہ ان سے زیادہ خلافت کا حق دار بھی کوئی نہیں۔ میرے بعد ان میں سے جسے آپ خلیفہ بنالیں، اس کی اطاعت وفرمانبرداری کیجئے گا۔ وہ لوگ یہ ہیں۔ سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبد الرحمان بن عوف اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔“
(صحيح البخاري : 1392)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی نماز :

مطرف بن عبد اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
صليت أنا وعمران بن حصين خلف على بن أبى طالب، فكان إذا سجد كبر، وإذا رفع رأسه من السجود كبر، وإذا نهض من الركعتين كبر ، فلما قضى أخذ عمران بيدي، فقال : لقد ذكرني هذا، قال كلمة يعني صلاة محمد صلى الله عليه وسلم .
”میں اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ سجدے میں جاتے، سجدے سے سراٹھاتے اور دو رکعت سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے، نماز جب مکمل ہو چکی، تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، فرمایا: انہوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔“
(سنن النسائي : 1082 ، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (581) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنتی ہیں :

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم بما سمعته أذناي ووعاه قلبي، وإني لم أكن لأروي عليه كذبا يسألني عنه إذا لقيته أنه قال : أبو بكر فى الجنة، وعمر فى الجنة، وعلي فى الجنة، وعثمان فى الجنة، وطلحة فى الجنة والزبير فى الجنة، وعبد الرحمن بن عوف فى الجنة، وسعد بن مالك فى الجنة وتاسع المؤمنين لو شئت أن أسميه لسميته فرج أهل المسجد يناشدونه يا صاحب رسول الله، صلى الله عليه وسلم، من التاسع؟ قال : ناشدتموني بالله العظيم، أنا تاسع المؤمنين ورسول الله صلى الله عليه وسلم العاشر .
”میرے ان کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے دل نے محفوظ کر لیا ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوتی، تو میں اس بابت پوچھا کرتا تھا، آپ فرماتے: ابوبکر رضی اللہ عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ عنہ جنتی ہیں، علی، عثمان، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہم جنتی ہیں، میں اگر نویں کا چاہوں نام بتا سکتا ہوں، مسجد میں شور ہوا کہ اے صحابی رسول! نویں کا نام بتلائیے؟ فرمایا: اللہ کی قسم! نواں میں ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد : 187/1 ، سنن أبي داود : 4650 ، سنن ابن ماجه : 133 ، فضائل الصحابة للنسائي : 90 ، وسنده صحيح)

سب سے پہلے اللہ کے حضور جھکنے والے :

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنا أول من يجلو بين يدي الرحمن للخصومة يوم القيامة وقال قيس بن عباد : وفيهم أنزلت : هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ قال : هم الذين تبارزوا يوم بدر حمزة، وعلي ، وعبيدة، أو أبو عبيدة بن الحارث، وشيبة بن ربيعة، وعتبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة .
”وہ میں ہوں، جو سب سے پہلے قیامت کے روز اللہ کے سامنے گھٹنوں کے بل جھکوں گا اور جھگڑا کروں گا، قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس آیت : هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ”یہ دو گروہ اپنے رب کے بارے جھگڑے تھے۔“ سے مراد، وہ لوگ ہیں، جو بدر کے روز مقابلہ میں تھے، ایک فریق حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابو عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ہیں، دوسرا فریق شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔“
(صحيح البخاري : 3965 ، صحیح مسلم : 3033)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گھر :

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
جاء رجل إلى ابن عمر فسأله عن عثمان، فذكر عن محاسن عمله، قال : لعل ذاك يسوؤك؟ قال : نعم، قال : فأرغم الله بأنفك، ثم سأله عن على فذكر محاسن عمله ، قال : هو ذاك بيته، أوسط بيوت النبى صلى الله عليه وسلم، ثم قال : لعل ذاك يسوؤك؟ قال : أجل، قال : فأرغم الله بأنفك انطلق فاجهد على جهدك.
”کسی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا، تو آپ رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاسن بیان کر دیئے، پھر فرمایا: شاید یہ برا لگا ہو تمہیں؟ کہنے لگا: جی ہاں، فرمایا: اللہ تیرا ناک خاک آلود کرے، پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا، تو کہا: ان کا گھر وہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے درمیان۔ شاید یہ بھی برا لگا ہو؟ کہنے لگا: جی ہاں! فرمایا: اللہ تیرا ناک خاک آلود کرے، جائیے اور جو جی چاہے مجھ پہ فتوی لگا دیجئے۔“
(صحيح البخاري : 3704)

فہم قرآن وسنت :

ابو جحیفہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
هل عندكم كتاب؟ قال : لا ، إلا كتاب الله، أو فهم أعطيه رجل مسلم، أو ما فى هذه الصحيفة، قال : قلت : فما فى هذه الصحيفة؟ قال : العقل، وفكاك الأسير، ولا يقتل مسلم بكافر .
”کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ فرمایا نہیں، سوائے کتاب اللہ کے اور اس فہم کے جو مسلمان کو دیا جاتا ہے یا اس صحیفہ کے، عرض کیا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: مسائل دیت، غلام آزاد کروانا اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
(صحیح البخاري : 111)

سورت برات کے پیغام رساں :

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
بعثني أبو بكر فى تلك الحجة فى مؤذنين يوم النحر ، نؤذن بمنى أن لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان، قال حميد بن عبد الرحمن : ثم أردف رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، فأمره أن يؤذن ببراء ة، قال أبو هريرة : فأذن معنا على فى أهل منى يوم النحر : لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان .
”نحر کے دن مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان موذنین کے ساتھ بھیجا، جو منی میں اعلان کر رہے تھے کہ آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، نہ بیت اللہ میں عریاں طواف کرے گا۔ حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو موذن بنا بھیجا، تو ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اعلان کرنے لگے: لوگو! آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، آج کے بعد کوئی عریاں طواف نہیں کرے گا۔“
(صحيح البخاري : 369)

عجز وانکسار :

محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
أى الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال : أبو بكر، قلت : ثم من؟ قال : ثم عمر، وخشيت أن يقول: عثمان، قلت : ثم أنت؟ قال : ما أنا إلا رجل من المسلمين .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین شخصیت کون ہے؟ فرمایا : ابوبکر رضی اللہ عنہ، عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ، پھر خدشہ ہوا کہ اب پوچھا، تو عثمان کا نام لیں گے، کہا: ابا جان! پھر تو آپ ہیں نا؟ فرمایا: میں تو عام مسلمان ہوں۔“
(صحيح البخاري : 3671)

خلفائے ثلاثہ کے جیسی موت کی خواہش :

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
اقضوا كما كنتم تقضون، فإني أكره الاختلاف، حتى يكون للناس جماعة، أو أموت كما مات أصحابي .
”(اہل عراق! امہات الاولاد کی آزادی کے بارے میں) آپ جو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کیجئے، میں اس مسئلہ میں سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ چاہتا ہوں کہ وحدت امت قائم رہے اور میں خلفائے ثلاثہ کے طریقے پر فوت ہو جاؤں۔“
(صحيح البخاري : 3707 ، وسنده صحيح)

عقل وحی پر حاکم اگر ہوتی :

عبد خیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
رأيت على بن أبى طالب، يمسح ظهور قدميه، ويقول : لولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على ظهورهما ، لظننت أن بطونهما أحق .
”میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو (موزوں میں) پاؤں کے اوپر والی جانب مسح کرتے دیکھا۔ وہ فرمارہے تھے: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کے اوپر مسح کرتے نہ دیکھتا، تو کہتا کہ پاؤں کی نچلی جانب مسح زیادہ بہتر ہے۔“
(مسند الحميدي : 26/1 ح : 47 وسنده صحيح)