کیا سیدنا حسنؓ کو سیدنا معاویہؓ نے زہر دیا؟ شہادت کا قصہ اور ائمہ اہل سنت کے اقوال

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مرزا محمد علی انجینئر کے اعتراضات و اشکالات کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے جسے ہارون بن شبیر احمد حفظہ اللہ نے تالیف کیا ہے اور نظرِ ثانی فضیلۃ الشیخ مولانا محمد رفیق طاہر حفظہ اللہ نے کی ہے۔

جناب حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کا قصہ اور مرزا صاحب کی دھوکے بازی:

جب مرزا صاحب کے پاس کوئی دلیل تو ہے نہیں پھر آپ ایک روایت یہاں کی اور ایک وہاں سے اٹھاتے ہیں اور اپنے منطق لڑا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت حسن کو زہر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ اور اس کے لیے آپ سنن ابو داؤد کی روایت کے ساتھ یہ روایت ملا کر بیان کیا کرتے ہیں:
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَرَجُلٌ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ نَعُودُهُ فَجَعَلَ يَقُولُ لِذَلِكَ الرَّجُلِ: سَلْنِي قَبْلَ أَنْ لَا تَسْأَلَنِي، قَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ شَيْئًا يُعَافِيكَ اللهُ قَالَ فَقَامَ فَدَخَلَ الْكَنِيفَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: مَا خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ حَتَّى لَفَظْتُ طَائِفَةً مِنْ كَبِدِي أُقَلِّبُهَا بِهَذَا الْعُودِ وَلَقَدْ سُقِيتُ السُّمَّ مِرَارًا مَا شَيْءٌ أَشَدُّ مِنْ هَذِهِ الْمَرَّةِ، قَالَ: فَغَدَوْنَا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ فَإِذَا هُوَ فِي السُّوقِ، قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ يَا أَخِي مَنْ صَاحِبُكَ؟ قَالَ تُرِيدُ قَتْلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: لَئِنْ كَانَ الَّذِي أَظُنُّ لَلَّهُ أَشَدُّ نِقْمَةً، وَإِنْ كَانَ بَرِيئًا فَمَا أُحِبُّ أَنْ يُقْتَلَ بَرِيءٌ۔
”عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک آدمی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے، تو آپ رضی اللہ عنہ اس آدمی سے فرمانے لگے کہ اس سے پہلے کہ موقع ہی نہ رہے کوئی سوال کر لو۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا، اللہ آپ کو عافیت بخشے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ اٹھے اور بیت الخلا چلے گئے، پھر جب ہمارے پاس واپس لوٹے تو فرمایا: میں تمہارے پاس اپنے جگر کا ایک ٹکڑا پھینک کر آ رہا ہوں، میں اسے اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ رہا تھا۔ مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ہے لیکن اس دفعہ سے زیادہ سخت پہلے کبھی نہیں پلایا گیا۔ (عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں) ہم اگلے دن پھر جب ان کے پاس آئے تو آپ رضی اللہ عنہ حالت نزع میں تھے۔ اور سیدنا جناب حسین رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: اے میرے بھائی! آپ کو زہر کس نے پلایا ہے؟ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو وہ وہی ہے جسے میں سمجھتا ہوں (کہ اسی نے زہر پلایا ہے) تو اللہ سخت انتقام لینے والا ہے، اور اگر وہ بری ہے تو میں نہیں چاہتا کہ کوئی بے قصور مارا جائے۔“ (مصنف ابن ابی شیبہ:37359)
حالانکہ اس روایت میں واضح ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو بھی قاتل کے متعلق خبر نہیں بس ایک گمان ہے، اور جناب حسین رضی اللہ عنہ کو بھی قاتل کا علم نہیں، نہ ہی انہوں نے مرزا صاحب کی طرح investigation کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شہادت پر خوش کون ہوا ہے، یا اس کا beneficial کون ہے کہہ کر کسی صحابی رسول پر الزام لگایا ہو، نہ ہی کسی اور صحابی سے ایسا کچھ منقول ہے، یہ خیال آیا تو آج آ کر مرزا انجینئر صاحب کو آیا ہے، لہٰذا مرزا صاحب کے یہ الٹے سیدھے منطق مردود اور بے بنیاد ہیں۔
مصنف ابن ابی شیبہ کی یہ روایت نقل کرنے کے بعد مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے جہلم شہر کے بہت بڑے محدث شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر صاحب نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا۔ لیکن مرزا صاحب اگر انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے تو اسی بہت بڑے محدث نے آپ کی پیش کردہ ابو داؤد اور مسند احمد والی روایت کو ضعیف قرار دیا ہے جس کی بنا پر آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی توہین کی یا وہ جناب حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت پر خوش ہوئے۔ اور اسی بہت بڑے محدث نے مصنف ابن ابی شیبہ کی اس روایت کے تحت اس جھوٹ کا دلائل کے ساتھ جواب لکھا ہے کہ جناب حسن رضی اللہ عنہ کو زہر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا، اور تفصیل کے ساتھ ان جھوٹی روایات کا رد کیا ہے جو اس سلسلے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش کی جاتی ہیں۔ پھر فرمایا:

”یہ اتہام کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے زہر دیا، بے حقیقت اور بے ثبوت ہے“۔

پھر آپ حفظہ اللہ اس پر اقوال ائمہ و محدثین نقل فرماتے ہیں:

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شہادت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بالکل بری ہیں (اقوال سلف):

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا:
وَعِنْدِي أَنَّ هَذَا لَيْسَ بِصَحِيحٍ، وَعَدَمُ صِحَّتِهِ عَنْ أَبِيهِ مُعَاوِيَةَ بِطَرِيقِ الْأَوْلَى وَالْأَحْرَى۔
”جب یہ واقعہ یزید کے متعلق ثابت نہیں، تو یزید کے والد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں تو بطریق اولی ثابت نہیں ہو سکتا (کہ انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا)۔“ (البدایۃ والنھایۃ:43/8)
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قلنا: هذا محال من وجهين: أحدهما أنه ما كان ليتقى من الحسن بأسًا وقد سلم الأمر، الثانى أنه أمر مغيب لا يعلمه إلا الله فكيف تحملونه – بغير بينة- على أحد من خلقه فى زمان متباعد لم نثق فيه بنقل ناقل، بين أيدى قوم ذوى أهواء، وفى حال فتنة وعصبية، ينسب كل واحد إلى صاحبه ما لا ينبغي، فلا يقبل منها إلا الصافى، ولا يسمع فيها إلا من العدل المصمم۔
”ہمارا جواب ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دینا دو وجہ سے محال ہے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کوئی خطرہ نہیں تھا، کیوں کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پہلے ہی انہیں امارت سونپ چکے تھے۔ (دوسرا یہ کہ) یہ غیبی معاملہ ہے آپ بغیر دلیل کے اسے کسی پر کیسے ٹھونس سکتے ہیں؟ ایسے دگرگوں حالات میں کہ ہم ہر ناقل پر اعتبار بھی نہیں کر سکتے، کیوں کہ لوگوں میں کئی خواہشات کے پجاری ہیں۔ فتنہ و فساد اور عصبیت کے عالم میں ہر کوئی اپنے مخالف کے ذمہ ناجائز باتیں لگاتا رہتا ہے، لہٰذا ان میں سے صرف صحیح بات قبول ہو گی اور پختہ اور عادل راوی پر بھروسہ کیا جائے گا۔“ (العواصم من القواصم:ص 214)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَأَمَّا قَوْلُهُ: "إِنَّ مُعَاوِيَةَ سَمَّ الْحَسَنَ”. فَهَذَا مِمَّا ذَكَرَهُ بَعْضُ النَّاسِ، وَلَمْ يَثْبُتْ ذَلِكَ بِبَيِّنَةٍ شَرْعِيَّةٍ، أَوْ إِقْرَارٍ مُعْتَبَرٍ، وَلَا نَقْلٍ يُجْزَمُ بِهِ. وَهَذَا مِمَّا لَا يُمْكِنُ الْعِلْمُ بِهِ، فَالْقَوْلُ بِهِ قَوْلٌ بِلَا عِلْمٍ۔
”یہ کہنا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا، اس بارے میں کوئی واضح شرعی دلیل یا اقرار معتبر یا قابل اعتماد روایت موجود نہیں ہے، اس بارے میں علم ممکن نہیں ہے، لہٰذا یہ قول بلا علم ہے۔“ (منہاج السنۃ:469/4)
نیز فرماتے ہیں:
وَبِالْجُمْلَةِ فَمِثْلُ هَذَا لَا يُحْكَمُ بِهِ فِي الشَّرْعِ بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِينَ، فَلَا يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ أَمْرٌ ظَاهِرٌ لَا مَدْحٌ وَلَا ذَمٌّ۔
”خلاصہ کلام یہ ہے کہ باتفاق مسلمین شریعت میں اس طرح کے (ظنی و بلا دلیل) معاملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، مدح یا ذم کا کوئی ظاہری حکم بھی لاگو نہیں ہو گا۔“ (منہاج السنۃ:471،470/4)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ لَا يَصِحُّ فَمَنِ الَّذِي اطَّلَعَ عَلَيْهِ؟
”میں کہتا ہوں: اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے، پس کس کے پاس اس کا ثبوت ہے؟ (کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا یا دلوایا تھا)۔“ (تاریخ الاسلام:40/4)
مؤرخ ابن خلدون رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ما ينقل من أنّ معاوية دس إليهم السمّ مع زوجه جعدة بنت الأشعث فهو من أحاديث الشيعة وحاشا لمعاوية من ذلك۔
”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کا زہر کی سازش میں شامل ہونا، یہ تو شیعہ کے قصے کہانیاں ہیں، اللہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایسی تہمت سے پاک رکھے۔“ (تاریخ ابن خلدون:527/2)
تو آخر مرزا صاحب اہلسنت کا نام لے کر عوام کو کن کا سلیبس پڑھا رہے ہیں؟
ان اقوال کے بعد مولانا غلام مصطفیٰ حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

”الحاصل: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو زہر دینا ثابت نہیں، یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بہت بڑا جھوٹ اور اتہام ہے، کیوں کہ اس سلسلہ میں جمیع روایات من گھڑت اور خود ساختہ ہیں۔“

(مقالات السنۃ:ص 12 تا 31)
لہٰذا ائمہ اہل سنت کے اقوال کی روشنی میں مرزا صاحب کی تمام فضول باتوں کی اصلیت واضح ہو جاتی ہے، اب آپ لاکھ کوششیں کرتے رہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت پر کون خوش ہوا، یا ان کی شہادت کس کے لیے فائدہ مند تھی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب آپ کی دھوکے بازیاں ہیں نہ کہ علمی دلائل۔ لہٰذا جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا کچھ بھی صحیح سند سے ثابت ہی نہیں تو ان کی طرف ایسی بات منسوب کرنا یا ان کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنا بالکل ناجائز ہے، مرزا صاحب کوئی حق گوئی کا فریضہ سرانجام نہیں دے رہے بلکہ رافضیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی ترجمانی کر رہے ہیں، ائمہ اہل سنت تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جناب حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت سے بالکل بری قرار دیتے ہیں اور امام ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ نے تو آپ کے خود ساختہ beneficiary والے اصول کو بھی بالکل باطل قرار دے رکھا ہے۔
رہا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے پر تیروں کا چلنا تو یہ بھی غیر ثابت اور جھوٹے قصہ کہانیوں میں سے ایک ہے، اور اس قسم کے جھوٹ بیان کرنا مرزا صاحب کی مجبوری ہے، کیوں کہ بغیر جھوٹوں کا سہارا لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق منفی تاثر عام کرنا ممکن نہیں، ورنہ تو کل تک مرزا صاحب خود اس بات کا اقرار کرتے آئے ہیں کہ یہ جنازے پر تیر چلنا وغیرہ سب جھوٹ ہے، پتہ نہیں کب یہ باتیں جھوٹی ہوتی ہیں اور کب کو یہ صحیح ہو جاتی ہیں؟
لیجیے ڈیڑھ گھنٹے کی ویڈیو ہے، اور موضوع کلام یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو کس نے شہید کیا؟ دلائل آپ کے سامنے ہیں اب خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ مرزا صاحب کا مقصد حق گوئی ہے یا صحابہ پر الزام تراشی؟ اور کیا اسی کو اصول و انصاف پسندی کہا جاتا ہے؟

❀❀❀