نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے، آسمان کی طرف نظر اٹھانے اور ترکِ نماز کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنے کی ممانعت

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد
”یہ جھپٹا ہے جو شیطان بندے کی نماز سے غبن کرتا ہے“۔
بخاری، کتاب الاذان 751۔ابوداؤد، كتاب الصلوة 910۔
② سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياك والالتفات فى الصلاة، فإن الالتفات فى الصلاة هلكة، وإن كان ولا بد ففي التطوع لا فى الفريضة
”نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے اجتناب کرو کیونکہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت ہے، اگر دیکھنا ضروری ہی ہے تو پھر نفل نماز میں، فرض میں نہیں“۔
ترمذى كتاب الصلوة 589، عن انس رضي الله عنه۔

دوران نماز آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی ممانعت

① سیدنا جابر بن سمرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء فى الصلاة أو لا ترجع إليهم
”لوگ دورانِ نماز آسمان کی طرف اپنی نظریں اٹھانے سے باز آ جائیں ورنہ وہ ان کی طرف واپس نہیں آئیں گی“۔
مسلم، كتاب الصلوة 428/117۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1045۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما بال أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء فى صلاتهم
”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنی نماز میں آسمان کی طرف اپنی نظریں اٹھاتے ہیں“۔
اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات شدت اختیار کر گئی، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لينتهين أقوام عن ذلك أو لتخطفن أبصارهم
”لوگ اس سے باز آ جائیں یا پھر ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی“۔
بخاری، کتاب الاذان 750۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1044۔
③ سیدنا ابو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لينتهين أقوام عن رفعهم أبصارهم عند الدعاء فى الصلاة إلى السماء أو لتخطفن أبصارهم
”لوگ نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف اپنی نظریں اٹھانے سے باز آ جائیں وگرنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی“۔
مسلم كتاب الصلوة 429/118۔ النسائي في السهو 34/3۔

ترک نماز کی ممانعت

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة
”بے شک آدمی اور شرک و کفر کے مابین فرق ترکِ نماز ہے“۔
مسلم كتاب الایمان 82/134۔ ابوداؤد، كتاب السنة 4678۔ ترمذی، کتاب الایمان 2619 ، 2619۔
اور ایک دوسری روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے:
بين الكفر والإيمان ترك الصلاة
”کفر و ایمان کے مابین فرق ترکِ نماز ہے“۔
ترمذی، کتاب الايمان 2618۔
② سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العهد الذى بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر
”ہمارے اور ان کے مابین جو عہد ہے وہ نماز ہے، پس جس نے اسے ترک کر دیا اس نے کفر کیا“۔
ترمذی، کتاب الایمان 2621۔ ابن ماجه، اقامة الصلوة والسنة فيها 1079۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز کا ذکر کیا تو فرمایا:
من حافظ عليها كانت له نورا وبرهانا ونجاة يوم القيامة، ومن لم يحافظ عليها لم يكن له نور ولا برهان ولا نجاة يوم القيامة وكان مع قارون وفرعون وهامان وأبي بن خلف
”جس نے اس کی حفاظت کی تو روزِ قیامت اس کے لیے نور، برہان اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی حفاظت نہ کی تو اس کے لیے روزِ قیامت نہ نور ہو گا، نہ برہان ہو گی اور نہ ہی نجات، بلکہ وہ قارون, فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا“۔
مسند احمد، 2/ 169۔ روایت حسن ہے۔
④ سیدنا عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنهم ترکِ نماز کے علاوہ کسی اور عمل کے ترک کرنے کو کفر تصور نہیں کرتے تھے ۔
ترمذی، کتاب الایمان 2622۔
⑤ سیدنا ابو ملیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک ابر آلود دن کسی غزوہ میں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا: نمازِ عصر جلدی پڑھ لو اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ترك صلاة العصر فقد حبط عمله
”جس شخص نے نمازِ عصر ترک کر دی تو اس کے اعمال ضائع ہو گئے“۔
بخاری، کتاب مواقيت الصلوة 553۔ ابن ماجه، كتاب الصلوة 694۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 422/5 ، حديث 23109۔
⑥ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة صلاته، فإن صلحت فقد أفلح وأنجح، وإن فسدت فقد خاب وخسر
”روزِ قیامت بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر وہ درست ہوئی تو وہ کامیاب و کامران ہو جائے گا اور اگر وہ درست نہ ہوئی تو وہ ناکام و نامراد ہو گا“۔
ترمذی، کتاب الصلوة 413۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 864۔
⑦ مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں، ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ہم نے کہا: نماز۔ انہوں نے کہا: ”جس شخص نے نماز ضائع کر دی، اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں“۔ آپ نے نماز پڑھی جبکہ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔
موطا 1/ 39 حديث 51۔
⑧ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الذي تفوته صلاة العصر كأنما وتر أهله وماله
”جس شخص سے نمازِ عصر فوت ہو گئی تو گویا اس کا گھر بار لٹ گیا“۔
بخارى، كتاب مواقيت الصلوة 552۔ مسلم، المساجد و مواضع الصلوة 62/200۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة 414۔
⑨ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، بے شک نمازی وقت پر نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے وقت سے فوت نہیں کرتا اور جب اسے اس کے وقت سے فوت کر دیتا ہے تو وہ اس کے لیے اس کے اہل و مال سے اعظم یا افضل ہوتا ہے۔
موطا، كتاب الصلوة 12/1، حديث 23۔