کیا امیر معاویہؓ کے حکم پر حضرت علیؓ کو منبر پر گالیاں دی جاتی تھیں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر حافظ محمد زبیر کی کتاب "انجینئیر محمد علی مرزا: افکار و نظریات” سے ماخوذ ہے۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر گالیاں دی جاتی تھیں؟

مرزا صاحب نے اپنے کتابچے ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ کے چوتھے باب بعنوان ”چوتھے خلیفہ راشد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان اور ان پر منبروں سے لعنت کرنے کی بدعت کب اور کس نے ایجاد کی؟“ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ان کے حکم پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبروں پر گالیاں دی جاتی تھیں۔ (محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 19 – 23) مرزا صاحب کا یہ کتابچہ چھ ابواب پر مشتمل ہے کہ جس کا دوسرا بڑا باب یہ ہے جبکہ اس کتابچے کے سب سے بڑے باب میں مرزا صاحب نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی اور بدعتی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
اور دونوں ابواب مل کر نصف سے زیادہ کتابچے کے مواد پر مشتمل ہیں، کہ کتابچہ 32 صفحات کا ہے اور دونوں ابواب 17 صفحات کے ہیں اور بقیہ ابواب میں بھی روایات کی بڑی تعداد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے کہ جنہیں مرزا صاحب نے کھینچ تان کر، کبھی بریکٹس کی صورت ترجمے میں مذموم اضافے کر کے اور کبھی گھٹیا قسم کے فٹ نوٹس لگا کر، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہر مثبت بات کو بھی منفی بنا دیا ہے۔ کتابچہ واقعہ کربلا کا پس منظر کم اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ زیادہ معلوم ہوتا ہے بلکہ اس کتابچے کا صحیح عنوان ”امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف چارج شیٹ“ ہی بنتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے تئیں، اس امت میں پیدا ہونے والے ہر فساد کی جڑ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ تو واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر بیان کرتے کرتے چھ میں سے پانچ ابواب تو مرزا صاحب نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگا دیے اور آخر ایک باب میں یزید کا تذکرہ کر دیا، تو گویا واقعہ کربلا کا یہ طویل پس منظر ذکر کر کے مرزا صاحب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کربلا میں ہونے والے ظلم عظیم کے اصل ذمہ دار یزید کم اور ان کے والد محترم زیادہ ہیں جو اس وقت دنیا میں تھے ہی نہیں، معاذ اللہ، ثم معاذ اللہ۔ اور یہ سارا کتابچہ آپ پڑھ لیں تو اسے پڑھ کر یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ لوگ کربلا کا الزام یزید کو دیتے ہیں حالانکہ اصلاً تو اس الزام کے حقدار ان کے والد محترم تھے کہ جنہوں نے وہ ساری بیک گراؤنڈ بنائی تھی کہ جس کی وجہ سے کربلا کا سانحہ ہوا۔ اور اگر ذرا زیادہ غور سے دیکھیں تو اس کتابچے میں مرزا صاحب کا یزید کے بارے میں لب و لہجہ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت نرم نظر آتا ہے، بھلے وہ ان کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لکھتے رہے ہوں لیکن ان کی عبارتیں ان کے جذبات کی صراحتاً چغلی کھا رہی ہیں، لیکن فی الحال یہ میرا موضوع نہیں ہے۔
تو اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں مرزا صاحب نے جن روایات کو نقل کیا ہے، انہیں ہم راویوں کے اعتبار سے پانچ قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلی قسم کی روایات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
أمر معاوية بن أبى سفيان سعدا فقال: ما منعك أن تسب أبا التراب؟
(صحيح مسلم، كتاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، 1870/4)
اس روایت کا غلط ترجمہ مرزا صاحب یوں کرتے ہیں کہ امیر معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کو حکم دیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو گالی دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا، (محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص19) حالانکہ روایت میں یہ کہیں موجود نہیں ہے۔ أمر معاوية بن أبى سفيان سعدا کا معنی یہ ہے کہ امیر معاویہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو امير حج مقرر کیا۔ تو عربی زبان میں أمر کا معنی حکم دینا بھی ہے اور امیر بنانا بھی، اور یہاں اس کا معنی امیر بنانا ہے کیونکہ یہ واقعہ حج کے موقع کا ہے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنایا بھی تھا۔ تو اس مادے کا یہ معنی ثلاثی مجرد سے بھی منقول ہے اور باب تفعیل سے بھی، اور باب تفعیل میں تو یہ معنی بالکل واضح ہے۔ اور اگر اس لفظ کا معنی حکم دینا بھی لے لیا جائے تو روایت میں موجود الفاظ کا معنی بنتا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ اب حکم کیا دیا؟ اس بارے میں روایت میں کچھ موجود نہیں ہے۔ لہذا حکم دینا اس کا معنی بنتا نہیں ہے بلکہ صحیح معنی یہی ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا ہے۔ اور امیر بنانے سے مراد امیرِ حج ہے کہ اس کی تفصیل کتبِ تاریخ میں موجود ہے۔
یہ بات تو اس روایت کے پہلے جملے کے بارے میں ہو گئی جبکہ دوسرے جملے میں یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ما منعك أن تسب أبا التراب؟ کہ آپ کو ابوتراب کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے روک رکھا ہے؟ تو یہ ایک سوال ہے نہ کہ کوئی حکم جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے بھی وضاحت کی ہے۔ (النووي، يحيى بن شرف المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة الثانية، 1392هـ، 175/15) دوسرا یہ کہ سوال یہ واضح کر رہا ہے کہ پہلے جملے میں بھی گالی دینے کا حکم مراد نہیں تھا بلکہ مراد امیر بنانا تھا۔ تیسرا یہ کہ ”سب“ کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ جس کا معنی نامناسب الفاظ میں تذکرہ کرنا ہے جیسا کہ ”سبابة“ شہادت کی انگلی کو کہتے ہیں اور عرب کسی کو عار دلانے کے لیے اس انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔
(الزَّبيدي، محمد بن محمد بن عبد الرزاق الحسيني، تاج العروس من جواهر القاموس، دار الہداية، بيروت، 35/3)
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:
أى عبد من المسلمين سببته أو شتمته أن يكون ذلك له زكاة وأجرا
”اے اللہ! جس مسلمان کو بھی میں نے سب و شتم کیا یعنی اس پر تنقید کی، تو میرے اس عمل کو اس کے لیے گناہوں کی معافی اور اجر کا ذریعہ بنا دے۔“
( صحيح المسلم، كتاب البِرِّ وَالصَّلَةِ وَالْآدَابِ بَابُ مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَبَّهُ، أَوْ دَعَا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ هُوَ أَهْلًا لِذَلِكَ، كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً، 2009/4)
تو سب و شتم کا معنی تنقید بھی ہے۔ اب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیوں پوچھا کہ آپ ان پر تنقید کیوں نہیں کرتے ہیں؟ تو اس کی توجیہات مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وہ کیا خواص ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ ان پر نقد نہیں کرتے جبکہ کچھ اور لوگ کر رہے ہیں، جیسا کہ سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے تھے تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان کے پاس حاضر ہوئے۔ مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر چھڑ گیا تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قاتلینِ عثمان سے قصاص نہ لینے کے حوالے سے ان پر نقد کی تو اس سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اتنے سخت غصے ہو گئے اور جواب میں انہوں نے یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تین فضائل بیان فرمائے کہ جن کی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نقد کو کسی بھی صورت جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ( ابن ماجة، محمد بن يزيد القزويني، سنن ابن ماجة، باب فِي فَضَائِلِ أَصَحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضْلِ عَلِيَ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، دار الرسالة العالمية، بيروت، 2009 م، 88/1) تو اہم بات یہ بھی ہے کہ خود امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں ایسے صحابہ موجود تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نقد برداشت نہیں کرتے تھے اور ان کا دفاع کرتے تھے۔ تو ثابت شدہ بات یہی ہے کہ کسی بھی صحیح حدیث سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دینے یا ان پر تنقید کرنے کا حکم جاری کیا ہو۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر یہ نقد ضرور کرتے تھے کہ انہوں نے قاتلینِ عثمان سے قصاص نہیں لیا اور یہی اس حدیث میں بھی مراد ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ سب و شتم تھا کیا جو کبھی منبر پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کسی ساتھی کی طرف سے ہو گیا، تو یہ دوسری قسم کی روایات سے واضح ہوتا ہے جو سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آکر کہنے لگا کہ مدینے کا گورنر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر برا بھلا کہتا ہے تو سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا:
فيقول : ماذا ؟ قال : يقول له أبو تراب فضحك ، قال : ” والله ما سماه إلا النبى صلى الله عليه وسلم وما كان له اسم أحب إليه منه ”
”وہ کیا برا بھلا کہتا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب کہتا ہے۔ تو سہل بن سعد رضی اللہ عنہ یہ سن کر مسکرا پڑے۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ نام تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اور یہ انہیں محبوب بھی بہت تھا۔ “
(صحیح البخاری 3703)
تو یہ بات درست ہے کہ امیرِ مدینہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے یہ الفاظ بطور نقد استعمال کیے تھے لہذا اس کا یہ عمل بالکل غیر مناسب تھا۔ لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مرزا صاحب جو یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برسرِ منبر گالیاں دی جاتی تھیں اور لوگوں کے ذہنوں میں پنجابی کی گالیاں آ جاتی ہیں تو یہ تاثر دینا لوگوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ تو ایسے واقعات ضرور ہوئے ہیں کہ کسی مجلس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر نقد ہوئی ہے لیکن برسرِ منبر گالیاں دینے کا کوئی اسٹیٹ آرڈر (State order) جاری ہوا تھا تو یہ بہتانِ عظیم ہے۔ اور اسی طرح جو نقد ہوئی بھی تو اس میں بھی الفاظ غیر مناسب نہیں تھے بلکہ انداز غیر مناسب تھا جیسا کہ ابوتراب کہہ کر مخاطب کیا۔
تیسری قسم کی روایات کا مرکزی راوی عبد اللہ بن ظالم ہے جو سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے، رضی اللہ عنہ ۔ عبد اللہ بن ظالم کی روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خطباء مقرر کیے ہوئے تھے جو لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے کا حکم کرتے تھے۔ (محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 22) لیکن اس معاملے میں عبد اللہ بن ظالم کی روایات قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ کا کہنا ہے:
عبد الله بن ظالم، عن سعيد بن زيد، عن النبى صلى الله عليه وسلم، ولا يصح
”عبد اللہ بن ظالم کی سعید بن زید سے روایات صحیح نہیں ہیں۔“
(العقيلي، محمد بن عمرو بن موسى الضعفاء الكبير، دار المكتبة العلمية، بيروت، الطبعة الأولى، 267/2.1984)
چوتھی قسم کی روایات کا مرکزی راوی ابو عبد اللہ الجدلی ہے۔ (محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 23) اس کی روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا عام فعل تھا۔ ابو عبد اللہ الجدلی کے بارے میں ابن سعد رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وكان شديد التشيع
”یعنی وہ کٹر شیعہ ہے۔ “
(ابن سعد، أبو عبد الله محمد الهاشمي، الطبقات الكبرى، دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة الأولى، 1990 م، 248/6)
امام ذہبی رحمہ اللہ اس کے بارے میں کہتے ہیں:
شيعي بغيض
” بغض رکھنے والا شیعہ ہے۔“
(الذهبي، محمد بن أحمد بن عثمان ميزان الاعتدال في نقد الرجال، دار المعرفة، بيروت، الطبعة الأولى، 1963 م، 544/4)
اور راوی اگر بدعتی ہو اور اس کی روایت اس کی بدعت کے حق میں ہو تو اس کی ایسی روایت قابل قبول نہیں ہوتی، یہ محدثین کا معروف اصول ہے لہذا اس مسئلے میں اس راوی کی روایات مردود ہیں (الخطيب البغدادي، أحمد بن علي الكفاية في علم الرواية المكتبة العلمية، المدينة المنورة، ص 121) کیونکہ وہ شیعہ راوی ہے بلکہ متعصب شیعہ ہے اور روایت بھی ایسی نقل کر رہا ہے جو اس کے عقیدے کو سپورٹ کرتی ہے۔
پانچویں قسم کی روایات قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کی ہیں جو خود مرزا صاحب کے موقف کے خلاف دلیل بن رہی ہیں۔ اس روایت کے مطابق ایک گھڑ سوار مدینہ منورہ کے ایک بازار میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لعن طعن کر رہا تھا تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا تو انہوں نے اس کے خلاف بد دعا کی، تو اس کے گھوڑے نے اسے زمین کے بل پٹخ دیا اور اس کی وفات ہو گئی۔ (محمد علی مرزا، واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر : 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں، ص 20) تو یہ روایت تو یہ بتلاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لعن طعن کرنے کا انجام موت کے عذاب کی صورت نکلتا تھا تو پھر کسی کو کیسے جرات ہو سکتی تھی کہ وہ انہیں برسرِ منبر لعن طعن کرے! رہی یہ منطقی دلیل کہ انہوں نے آپس میں جنگ و جدال کر لیا تو گالم گلوچ کیوں نہ کی ہو گی؟ تو اس سے فضول کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیا دنیا میں ہر قتل کرنے والا اپنے مقتول کو پہلے گالی دیتا ہے؟ تو ایسا نہیں ہے۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر جو بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ وہ شراب پیتے تھے یا ریشم، سونے اور درندوں کی کھال کو بطور لباس اور قالین استعمال کرتے تھے یا وہ سنت کو چھوڑ کر اس کی جگہ اپنی رائے کو جاری کرتے تھے یا انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برسرِ منبر لعن طعن کرنے کا ریاستی حکم نامہ جاری کیا ہوا تھا، تو ان میں سے کوئی بھی الزام پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا ہے۔ اور اس موضوع میں جن روایتوں کو مدارِ استدلال بنایا گیا ہے، وہ ضعیف اور غیر ثابت شدہ روایات ہیں۔ دوسرا جو روایات صحیح بھی ہیں تو ان کی شرح و وضاحت میں ڈنڈی ماری گئی ہے کہ ان روایات سے ایسا کچھ مفہوم نہیں نکلتا جو ان کے ناقدین نکالنا چاہ رہے ہیں۔