اصرار اور پیچھے پڑ کر مانگنے کی ممانعت
① سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تلحفوا فى المسألة فو الله لا يسألني أحد منكم شيئا فتخرج له مسألته مني شيئا و أنا له كاره ، فيبارك له فيما أعطيته
”اصرار کر کے اور پیچھے پڑ کر سوال نہ کیا کرو پس اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے اور میری ناگواری کے باوجود اس کا سوال مجھ سے کچھ نکلوا لے تو ایسا نہیں ہو گا کہ میری طرف سے اس کو دی گئی چیز میں برکت دی جائے۔“
مسلم، كتاب الزكاة 1038/99۔ نسائی، کتاب الزكاة 5/73۔
لوگوں سے سوال کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سأل الناس أموالهم تكثيرا فإنما يسأل جمرا فليستقل أو ليستكثر
”جو شخص مال میں اضافہ کرنے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا (مانگتا) ہے تو وہ انگارے مانگ رہا ہے خواہ وہ کم کر لے یا زیادہ ۔“
مسلم، کتاب الزكاة 1041/105۔ ابن ماجه، کتاب الزكاة 1838۔ مسند أحمد، باقی مسند المکثرین 310/2۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تزال المسألة بأحدكم حتى يلقى الله وما على وجهه مزعة لحم
”تم میں سے کوئی شخص لوگوں سے مسلسل سوال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کی بوٹی تک نہیں ہوگی۔“
بخارى، كتاب الزكاة 1474۔ مسلم، كتاب الزكاة 1040/103۔
③ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سأل الناس وله ما يغنيه جاء يوم القيامة ومسألته فى وجهه خموش أو خدوش أو كدوح
”جو شخص بقدر ضرورت چیز ہونے کے باوجود لوگوں سے سوال کرتا ہے تو قیامت کے دن اس کا سوال اس کے چہرے پر خراش یا رگڑ یا بد نما داغ کی صورت میں ہوگا۔“
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کتنی مقدار اس کی ضرورت پوری کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خمسون درهما أو قيمتها من الذهب
”پچاس درہم یا اتنی مالیت کا سونا۔“
ابوداؤد، کتاب الزكاة 1626۔ ترمذى، كتاب الزكاة 650۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس المسكين الذى ترده الأكلة والأكلتان ولكن المسكين المتعفف
”مسکین وہ نہیں جسے ایک لقمہ / ایک وقت کا کھانا یا دو لقمے دو وقت کا کھانا واپس کر دے۔ بلکہ مسکین تو وہ ہے جو (سوال کرنے سے) بچتا ہے۔“
بخاري، كتاب التفسير 4539۔ مسلم ، كتاب الزكاة 1039۔ ابو داؤد، کتاب الزكاة 1632، 1631۔
⑤ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول و خير الصدقة عن ظهر غنى و من يستعفف يعفه الله
”اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اور جن کی کفالت تیرے ذمے ہے خرچ کرنے کی ابتدا ان سے کر اور بہترین صدقہ وہ ہے جو ضروریات پوری کرنے کے بعد کیا جائے ۔ اور جو شخص سوال کرنے سے بچنا چاہے تو اللہ اسے بچا لیتا ہے۔“
بخاري، كتاب الزكاة 1427۔ مسلم ، كتاب الزكاة 1034۔ النسائي، كتاب الزكاة 69/5۔ الدارمي، كتاب الزكاة 1660۔
بغیر حاجت کے سوال کرنے کی ممانعت
① سیدنا سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من سأل و عنده ما يغنيه فإنما يستكثر من النار
”جو شخص بقدر ضرورت چیز ہونے کے باوجو د سوال کرتا ہے تو وہ آگ کا اضافہ کر رہا ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الزكاة 1629۔ مسند احمد، مسند الشاميين 222/4، حدیث 17643۔
② سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا وأتكفل له بالجنة
”جو شخص مجھے یہ ضمانت دے دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں“۔
تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ پس وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
ابوداؤد، کتاب الزكاة 1643۔ مسند احمد 325/5، حديث 22429۔
③ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأن يأخذ أحدكم حبله ثم يأتى الجبل فيأتي بحزمة من حطب على ظهره فيبيعها خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه
”تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر پہاڑ پر جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا گٹھا اپنی پشت پر اٹھا کر لائے اور اسے فروخت کرے تو یہ لوگوں سے سوال کرنے سے بہتر ہے ہو سکتا ہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔“
بخاری، کتاب الزكاة 1471۔