انبیاء و اولیاء کا کام اور ذمہ داری
انبیاء و اولیاء کا کام اللہ کی عبادت اور دعوت دین ہے نہ کہ اللہ کے کاموں میں دخل اندازی چہ جائیکہ بعد از وفات ہو۔ انبیاء علیہم السلام وفات پا چکے ہیں اور ان کا مشن یہ تھا کہ وہ دین اسلام اور احکام ربانی لوگوں تک پہنچا دیں، انہوں نے اپنے اس فریضے میں کوتاہی نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی ہدف تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہے:
إِنْ عَلَيْكَ إِلَّا الْبَلَاغُ
تم پر صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔
(42-الشورى:48)
”وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ“
رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔
(24-النور:54)
اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی مدد و نصرت کی ضمانت دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اور شریعت کی مخالفت کرے گا وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ اور پھر اسے اللہ کے عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا:
”يا عباس يا عم رسول الله لا أغني عنك من الله شيئا يا صفية عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أغني عنك من الله شيئا يا فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أغني عنك من الله شيئا“
”اے میرے چچا عباس! میں اللہ کے ہاں تمہاری کسی قسم کی کفایت نہ کر سکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ میں اللہ کے ہاں تمہاری کسی قسم کی کفایت نہ کر سکوں گا۔ اے میری لخت جگر فاطمہ! میں اللہ کے ہاں تمہاری کسی قسم کی کفایت نہ کر سکوں گا۔“ “
(صحیح بخاری کتاب التفسير: سورة الشعراء حديث: 4772 صحیح مسلم کتاب الایمان: باب قوله تعالى (وأنذر عشيرتك الأقربين) (حديث: 204-206)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی صحابی کو کوئی عہدہ اور منصب عطا کرتے تو اسے یوں نصیحت فرماتے کہ دیکھو!
”لا ألفين أحدكم يأتى يوم القيامة على رقبته بعير له رغاء يقول: يا رسول الله أغثني فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغتك“
”میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حالت میں نہ دیکھوں کہ اس کی گردن پر (مال زکوۃ یا چوری کا) اونٹ چیخ و پکار کر رہا ہو اور انسان یہ دہائی دے کہ یا رسول اللہ! میری مدد فرمائیے۔ اور میں یہ جواب دوں کہ میں نے تم کو دنیا میں (لین دین کا تمام معاملہ شرعی بنیادوں پر) سمجھا دیا تھا۔ اب اللہ کے حضور میں تیری مدد نہیں کر سکتا۔“
صحیح بخاری کتاب الجهاد: باب الغلول (حديث: 3073) صحیح مسلم کتاب الإمارة: باب غلظ تحريم الغلول (حديث: 1831)
سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی خلافت میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دور میں اہل مدینہ کا یہ حال تھا کہ دنیا و آخرت کے امور میں یہ لوگ افضل ترین اور دنیا کے رہبر تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے اطاعت رسول کو اپنا نصب العین بنا لیا تھا۔ لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ایسی تبدیلیاں ہوئیں کہ خلافت ان کے ہاتھوں سے نکل گئی اور یہ لوگ رعایا بن کر رہ گئے۔ اس کے بعد بھی حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قتل و غارت اور مصائب و آلام نے مدینہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور ایسے ایسے سنگین واقعات پیش آئے کہ اہل مدینہ ان کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔
اہل مدینہ کے ساتھ جس شخص نے جو سلوک روا رکھا، اگرچہ وہ ظالم اور سرکش تھا لیکن ان لوگوں (کفار قریش) سے زیادہ شقی القلب نہ تھا جنہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو تکلیفیں دی تھیں۔ رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے:
أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١٦٥﴾
”اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آ پڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہو: یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے۔“
(3-آل عمران:165)
اہل مدینہ پر مذکورہ مصائب اس حالت میں پیش آئے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور السابقون الأولون مدینہ میں موجود تھے۔