صدقہ کی ہوئی چیز کو خریدنے کی ممانعت
① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا۔ پس جس شخص کے پاس وہ تھا اس نے اسے ضائع (کمزور) کر دیا تو میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا میرا خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تشتريه ولا تعد فى صدقتك و إن أعطاكه بدرهم فإن العائد فى صدقته كالعائد فى قيئه
”اسے مت خرید اور اپنا صدقہ واپس نہ لے خواہ وہ تمہیں اسے ایک درہم میں دے دے کیونکہ اپنے صدقے کو واپس لینے والا قے کر کے چاٹنے والے کی طرح ہے“۔
بخارى، كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها 2623۔ مسلم، كتاب الهبات 1620/1۔
شدید حرص کی بنا پر سوال کرنے کی ممانعت
① سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إنما أنا خازن فمن أعطيته عن طيب نفس فيبارك له فيه ومن أعطيته عن مسألة وشره كان كالذي يأكل ولا يشبع
”میں تو خزانچی ہوں، پس جس شخص کو میں خوش دلی اور اپنی مرضی سے دوں تو اس کے لیے اس میں برکت ہو جاتی ہے اور جس شخص کو میں اس کے سوال کرنے اور اس کی شدید حرص کی وجہ سے دوں تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا“۔
مسلم، كتاب الزكاة 1037/98۔ مسند احمد، مسند الشاميين 123/4، حدیث 16915۔
تنگ دست کو مہلت دینے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أنظر معسرا أو وضع له أظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه يوم لا ظل إلا ظله
”جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے نیچے سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔“
ترمذى، كتاب البيوع، حدیث 1306۔