جرابوں اور موزوں پر مسح اور باوضو سونے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

جرابوں/موزوں پر مسح کرنے کے احکامات

① سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریکِ سفر تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے لگے) تو میں آپ کے موزے یا جرابیں اتارنے کے لیے جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دعهما، فإني أدخلتهما طاهرتين
”انہیں رہنے دو (نہ اتارو)، اس لیے کہ میں نے انہیں وضو کرنے کے بعد پہنا تھا۔“
بخاری، کتاب الوضوء، 206۔ مسلم، کتاب الطهارة، 274۔ ابو داؤد، کتاب الطهارة، 5151۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔
② سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
مسلم کتاب الطهارة، 273۔ ابو داؤد، کتاب الطهارة، حدیث 23۔
③ سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہم مسافر ہوتے یا حالتِ سفر میں ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم بول و براز اور نیند کی وجہ سے تین دن اور تین راتیں اپنی جرابیں نہ اتاریں (بلکہ انہی پر مسح کر لیا کریں)۔ لیکن اگر جنابت ہو تو پھر انہیں اتاریں (اور غسل کریں)۔
ترمذى، کتاب الطهارة، 96۔ نسائي، کتاب الطهارة، 127۔ روایت حسن ہے۔ اس کی سند میں عاصم بن ابی نجود حسن الحدیث ہے ۔

با وضو سونے کے احکامات

① سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من مسلم يبيت على طهر ذاكرا لله، فيتعار من الليل يسأل الله خيرا من الدنيا والآخرة إلا أعطاه الله إياه
”جو مسلمان باوضو اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سوتا ہے اور پھر رات کو کسی وجہ سے جاگ کر اللہ سے دنیا و آخرت کی خیر طلب کرتا ہے تو اللہ اسے وہی کچھ عطا کر دیتا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث 5042۔ مسند احمد، مسند الانصار، 278/5۔