زائد مال دوسرے بھائیوں کو دینے کے احکامات
① سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم ایک سفر میں تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر آیا اور دائیں بائیں چکر لگانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان معه فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ، و من كان له فضل زاد فليعد به على من لا زاد له فذكر من أصناف المال ما ذكر، حتي رأينا أنه لا حق لأحد منا فى فضل.
”جس کسی کے پاس زائد سواری ہو وہ اپنے اس بھائی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں۔ اسی طرح جس شخص کے پاس زائد زاد راہ ہو وہ اسے اس شخص کو دے دے جس کے پاس زاد راہ نہیں۔ آپ نے مال کی بہت سی اصناف کا ذکر کیا حتی کہ ہم نے سمجھا کہ ہم میں سے کسی بھی شخص کو اپنی زائد چیز میں کوئی حق حاصل نہیں“۔
مسلم ، كتاب اللقطة 1728۔ ابوداؤد، کتاب الزكاة 1663۔
دودھ دینے والے جانور صدقہ کرنا
① سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من منح منيحة لبن أو ورق أو أهدى زقاقا كان له مثل عتق رقبة
”جس شخص نے کسی کو دودھ پینے کے لیے دودھ کا جانور دیا یا (اس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے) چاندی دی، یا کسی بھولے بھٹکے اندھے کو راستہ بتایا تو اسے غلام آزاد کرنے کی مثل اجر و ثواب ملے گا۔“
ترمذی، كتاب الاطعمة 1957۔ مسند احمد، اوّل مسند المدنيين اجمعين 286۔
② سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفضل الصدقات ظل فسطاط فى سبيل الله ، ومنحة خادم فى سبيل الله ، و طروقة فحل فى سبيل الله
”بہتر صدقہ اللہ کی راہ میں خیمہ دینا، اللہ کی راہ میں خادم دینا اور اللہ کی راہ میں اونٹ دینا ہے“۔
ترمذی، کتاب فضائل الجهاد 1626۔
صدقہ کو گننے کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا:
أنفقي ولا تصحي فيحصي الله عليك ولا توعي فيوعي الله عليك
”خرچ کیا کرو گنا نہ کرو ورنہ اللہ تمہیں بھی گن کر دے گا اور اپنے مال کو سینت سینت کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے اپنی رحمت روک لے گا“۔
بخاري، كتاب الزكاة 2591۔ مسلم ، كتاب الزكاة 1029/88۔
اور ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
لا توكي فيوكي الله عليك
”اپنے مال کو روک کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تمہارے حق میں بندش اور روک کا فیصلہ فرما دے گا۔“
بخاری، کتاب الزكاة 1433۔