عام مسلمانوں کے لیے سلام
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ ہر مومن دوسرے پر سلام کہے تو اب جو شخص اس کو ممنوع کہے اور عقیدہ رکھے کہ رسول اللہ کے سوا کسی پر بھی درود و سلام نہ کیا جائے جیسے ابو محمد الجوینی وغیرہ کا مسلک ہے تو یہ بات علمائے متقدمین میں معروف نہ تھی بلکہ اکثر علمائے متاخرین نے بھی اس کی تردید کی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ کے علاوہ عام مومنوں کو حکم ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کہیں۔
عام مومنوں کا آپس میں سلام کہنا واجب ہے یا مستحب مؤکد؟ اس میں دو قول ہیں اور یہ دونوں قول امام احمد کے مسلک کے مطابق درست ہیں البتہ سلام کا جواب دینا بالاجماع واجب ہے۔ سب لوگ جواب دیں یا ایک شخص جواب دے دے تو بھی کافی ہے۔ جب کوئی مسلمان نماز سے فارغ ہو تو کہے کہ السلام عليكم السلام عليكم۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو زیارت قبور کے وقت مندرجہ ذیل دعاء سکھلایا کرتے تھے۔
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ
”اے مومن اور مسلمان اہل دار! تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔“
(صحيح مسلم كتاب الجنائز : باب ما يقال عند دخول القبور حديث : 974)
دور سے سلام وصلوۃ بھیجنا رسول اللہ کے لیے مخصوص ہے
جو علماء کرام کہتے ہیں کہ سلام رسول اللہ کا خاصہ ہے وہ حاضر و موجود شخص کو سلام کہنے سے نہیں روکتے۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر حاضر کو سلام نہیں کہا جا سکتا دور سے سلام کہنا صرف رسول اللہ کا ہی خاصہ ہے۔ ان کا یہ موقف کمزور ہے۔ اس لیے کہ اس کا حکم اور وجوب رسول اللہ کا خاصہ ہے۔ جیسے تشہد میں۔ تشہد میں آپ کے سوا کسی خاص اور معین شخص کو سلام نہیں کہا جاتا۔ یہی صورت مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کہنے کی ہے۔ اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ سلام صلوۃ ہی کی طرح ہے اور یہ دونوں نماز اور غیر نماز میں واجب ہیں۔ البتہ رسول اللہ کے سوا عام افراد کو ملاقات کے وقت سلام تحیہ کہنا بالاتفاق واجب ہے۔
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق
سلام تحیہ واجب ہے یا مستحب؟ اس میں امام احمد سے دو قول مروی ہیں۔ دلائل اور نصوص کی روشنی میں اسے واجب ہی سمجھا جائے گا۔ ہمارے اس مسلک کی تائید صحیح مسلم کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں رحمت دو عالم نے فرمایا ہے کہ:
خمس تجب للمسلم على المسلم
”ایک مسلمان کے دوسرے پر پانچ حقوق واجب ہیں:
يسلم عليه إذا لقيه
جب ملاقات ہو تو سلام کہے۔
ويعوده إذا مرض
جب بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرے۔
ويشيعه إذا مات
جب فوت ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے۔
ويجيبه إذا دعاه
جب دعوت دے تو قبول کرے۔
ويشمته إذا عطس
جب چھینک آئے تو جواب دے۔“
(صحيح بخاري كتاب الجنائز : باب الأمر باتباع الجنائز حديث : 1240 ، صحيح مسلم كتاب السلام باب حق المسلم للمسلم رد السلام حديث : 2162)
اکثر فقہاء نے دعوت قبول کرنے کو واجب قرار دیا ہے اور نماز جنازہ بالاتفاق فرض کفایہ ہے۔ ملاقات کے وقت سلام کہنا اور بیمار کی عیادت دعوت قبول کرنے سے زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ ملاقات کے وقت سلام نہ کہنے اور مریض کی عیادت نہ کرنے کے نقصانات دعوت قبول نہ کرنے کے نقصانات سے زیادہ سنگین ہیں۔ دعوت قبول کرنے اور مریض کی عیادت کرنے سے سلام کہنا زیادہ آسان ہے۔ ان مسائل کی مزید تشریح کا یہ موقع نہیں۔
زندگی میں ملاقات اور قبر پر زیارت کے وقت سلام مسلمان کا حق ہے
ہماری گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ زندگی میں ملاقات اور مرنے کے بعد قبر کی زیارت کے وقت سلام کہنا ہر مسلمان کا دوسرے پر حق ہے۔
مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس بات کا علم تھا کہ قبر مکرم کے پاس آپ کو سلام کرنے میں آپ کی کوئی خصوصیت نہیں۔ بلکہ یہ تو ہر مسلمان کے حق میں ضروری ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ۔ کیونکہ ہر مؤمن سلام کا جواب دیتا ہے۔
یہاں سلام کا جواب مقصود بالذات نہیں بلکہ حکم تو یہ ہے کہ جب بھی ایک مؤمن دوسرے سے ملے تو سلام کہے اور جب کسی مومن کی قبر پر جائے تو سلام کہے۔ دور دراز کا تکلفاً سفر کرنا مناسب نہیں۔