طلب علم کے لیے سفر اور ہدایت کی دعوت دینے کی فضیلت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

کتاب العلم

① سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بلغوا عني ولو آية، وحدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج، ومن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
”میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو، بنی اسرائیل سے بیان کرو کوئی حرج نہیں، اور جس نے میرے متعلق جھوٹی بات بیان کی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔“
(بخاری، کتاب احادیث الأنبياء، حدیث: 3461)
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
نضر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه، فرب مبلغ أوعىٰ من سامع
”اللہ اس شخص کو ترو تازہ رکھے جس نے مجھ سے کوئی چیز سنی پھر اسے جس طرح سنا تھا ویسے پہنچا دیا، کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ جسے بات پہنچائی جا رہی ہے وہ سامع سے زیادہ حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔“
(الترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2657)

طلب علم کے لیے سفر کی فضیلت

① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خرج فى طلب العلم فهو فى سبيل الله حتىٰ يرجع
”جو شخص طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک اللہ کی راہ میں ہوتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2647۔ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں ابو جعفر رازی سوءِ حفظ کی وجہ سے ضعیف ہے)

ہدایت کی (حق کی طرف) دعوت دینا

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من دعا إلى هدى كان له من الأجر مثل أجور من تبعه لا ينقص ذٰلك من أجورهم شيئا، ومن دعا إلى ضلالة كان عليه من الإثم مثل آثام من تبعه لا ينقص ذٰلك من أوزارهم شيئا
”جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اسے بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا اس دعوت کو قبول کر کے عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔ یہ چیز ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرتی اور جس شخص نے گمراہی کی طرف دعوت دی تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملتا ہے جتنا اس دعوتِ گناہ کو قبول کر کے گناہ کرنے والوں کو گناہ ملتا ہے، اور یہ چیز ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں کرتی۔“
(مسلم، کتاب العلم، حدیث: 2674. ابوداؤد، کتاب السنة، حدیث: 4609. ترمذی، کتاب العلم، حدیث: 2674)

طلب علم کے لیے سفر

① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث لینے کے لیے مہینے بھر کی مسافت طے کی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے صیغہ جزم کے ساتھ معلق روایت کیا ہے (1/ 208)، نیز دیکھیں فتح الباری(209/1-210)