دجال سے بچاؤ کے طریقے
عن عمران بن حصين رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من سمع بالدجال فلينأ منه فإن الرجل يأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فلا يزال به لما معه من الشبهات حتى يتبعه
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دجال کے خروج کے متعلق سنے وہ اس سے دور رہے بلاشبہ آدمی اپنے ایمان پر وثوق کامل کے ساتھ اس کے پاس جائے گا تو اس کے عجیب و غریب شعبدے دیکھتے دیکھتے اس کا پیروکار بن جائے گا۔
احمد 577/4 ابو داود : کتاب الملاحم : باب خروج الدجال 4319 حاكم 576/4 كنز العمال 204/14
ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی قسم کھا کر مذکورہ حدیث بیان فرمائی۔
ابو داود : كتاب الملاحم : باب خروج الدجال 4319
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : فلينأ منه دجال سے دور رہنا کیونکہ جب آدمی اس کے پاس آئے گا تو اس کے شعبدے دیکھ کر اس کی تصدیق کر دے گا۔
احمد 589/4
عن أبى الدرداء رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لیں تاکہ ان کی تلاوت کرے تو وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا گیا۔
مسلم : کتاب صلاة المسافرين : باب فضل سورة الكهف 809 احمد 250/6 ابو داود 4323
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة إنه شاب قطط عينه طافئة كأني أشبهه بعبد العزى فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف إنه خارج خلة بين الشام والعراق
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا وہ گھنگھریالے بالوں والا نوجوان شخص ہے گویا میں اسے عبد العزی بن قطن کافر سے مشابہت دے سکتا ہوں اور جو شخص تم میں سے دجال کا سامنا کرے وہ سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔
مسلم کتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 احمد 248/4 حاکم 537/4 طبری 95/9
عن أبى الدرداء رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال : من قرأ عشر آيات من آخر الكهف عصم من فتنة الدجال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے سورۃ الکہف کی آخری دس آیات کی تلاوت کی وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا گیا۔
ابو داؤد : كتاب الملاحم : باب خروج دجال 4323 احمد 496/6 عمل اليوم والليلة 676
عن أبى الدرداء رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال : من حفظ عشر آيات من سورة الكهف عصم من فتنة الدجال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے سورۃ الکہف کی کوئی بھی دس آیات یاد کر لیں وہ فتنہ دجال سے محفوظ کر لیا گیا۔
احمد 499/6
(مذکورہ روایات باہم متعارض معلوم ہوتی ہیں کہ پہلی دس آیات پڑھی یا حفظ کی جائیں یا آخری یا کوئی بھی دس آیات۔ اس کا جواب فوائد میں ملاحظہ کریں۔)
عن هشام بن عامر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : … فمن قال : أنت ربي افتتن ومن قال : كذبت ، ربي الله عليه توكلت ، فلا يضره أو قال فلا فتنة عليه
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے دجال سے کہا، تو میرا رب ہے وہ تو فتنے سے دو چار ہوا اور جس شخص نے کہا : تو جھوٹا ہے میرا رب تو اللہ ہے اور میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں تو دجال اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے فتنہ نقصان نہیں دے گا۔
احمد 28/4 حاكم : كتاب الفتن والملاحم : 554/4 8551 عبد الرزاق 395/11 المعجم الكبير 175/22
ایک روایت میں ہے کہ دجال کہے گا میں تمہارا رب ہوں۔ جس شخص نے یہ کہا کہ تو ہمارا رب نہیں ہمارا رب تو اللہ وحدہ لاشریک ہے اور اسی پر ہم توکل اور بھروسہ کرتے ہیں اور تیرے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، اس شخص پر دجال کا زور نہیں چل سکتا۔
حاکم : كتاب الفتن و الملاحم 554/4 احمد 461/5 – 509 مجمع الزوائد 658/7 مصنف عبد الرزاق 395/11 المعجم الكبير 175/22