مخلوق سے مشکل کشائی اور دیو بندی:
دیو بندیوں کے نزدیک خالق کے بجائے مخلوق بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتی ہے، جیسا کہ انکشاف کے دیو بندی مصنف اصطلاحات صوفیه نامی کتاب کے حوالے سے لکھتے ہیں: یہی لوگ مسند ارشاد کے وارث ہوتے ہیں، ان سے مخلوق کی حاجت روائی ہوتی ہے۔ (انکشاف:250)
[1] اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں:
میں قسم کھاتا ہوں کہ آپ کے پاس (مزار شریف پر) کوئی شکستہ حال دعا کے لیے عرض کرنے کو نہیں پہنچا مگر یہ کہ اس کی شکستگی کی اصلاح ہوگئی (اس طرح سے کہ حیات برزخیہ کے سبب آپ نے سن کر دعا کی اور وہ کامیاب ہو گیا)۔
[2] اور نہ کسی پناہ لینے والے نے گھبرا کر آپ کے دربار پر پناہ لی مگر یہ امن وامان کے ساتھ واپس ہوا۔ اس کی حالت سے اس کو (اپنی حاضری پر) شرمندگی نہیں ہوئی (جیسا نا کام ہو جانے میں ہوتی ہے)۔
[3] اور نہ آپ کے پاس (مزار شریف پر) کوئی فقیر حال امیدوار (دعا کے لیے عرض کرنے کو) حاضر ہوا مگر یہ کہ اس کے نشان قدم ہی سے اس کے لیے نہر (حوائج کی) جاری ہو گئی (اس طرح سے کہ حیات برزخیہ کے سبب آپ نے سن کر دعا فرمائی اور وہ کامیاب ہو گیا)۔
[4] اور نہ کسی مغموم نے کسی حادثہ کے وقت آپ کو (مزار پر حاضر ہو کر دعا کے لیے) پکارا مگر آپ کی جانب سے عون اور آسانی نے جواب دیا اس کو (اس طرح سے کہ حیات برزخیہ کے سبب آپ نے سن کر دعا فرمائی اور وہ کامیاب ہو گیا)۔
دیو بندیوں کے غیر اللہ سے مشکل حل کروانے والے عقیدہ کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل واقعہ پڑھیے۔ لیجے دیو بندیوں کے پیرو مرشد حاجی امداد اللہ صاحب کا عقیدہ مشکل کشائی، سینے اور دربار خداوندی میں حاجی امداد اللہ صاحب کے پیرو مرشد کے اثر ورسوخ کی شان ملاحظہ فرمائیے:
تم ہو اے نور محمد ! خاص محبوب خدا
ہند میں ہو نائب محمد مصطفی (ﷺ)
تم مددگار مدد امداد کو پھر خوف کیا
عشق کی پرسن کے باتیں کانپتے ہیں دست و پا
اے شاہ نور محمد ! وقت ہے امداد کا
آسرا دنیا میں ہے از بس تمھاری ذات کا
تم سوا اوروں سے ہرگز نہیں ہے التجا
بلکہ دن محشر کے جس وقت قاضی ہو خدا
آپ کا دامن پکڑ کر یہ کہوں گا برملا
اے شاہ نور محمد! وقت ہے امداد کا
یہ حاجی صاحب کو کیسے علم ہو گیا کہ ان کے پیر خاص محبوب خدا ہیں، جب کہ اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: [والله ما أدرى و أنا رسول الله ما يفعل بي …. و في رواية : ما يفعل به ولا بكم]
میں نہیں جانتا کہ اللہ میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا، حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور تمھارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب الدخول على الميت بعد الموت إذا أدرج في أكفانه: 1243 وكتاب التعبير ، باب العين الجارية في المنام:7018]
اور پھر جس دن یہ حالت ہوگی کہ فرشتے اور جبرائیل صف باندھے کھڑے ہوں گے اور:
[لَّا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا]
رب جسے اجازت دے گا وہی کلام کرے گا اور وہ بھی صحیح صحیح۔ (النبا:38)
کیا اس وقت نور محمد صاحب مدد کریں گے جس کی وجہ سے حاجی صاحب بے خوف ہو رہے ہیں، جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[اِذۡ تَبَرَّاَ الَّذِیۡنَ اتُّبِعُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡا وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتۡ بِہِمُ الۡاَسۡبَابُ]
جب براءت کا اظہار کریں گے وہ لوگ جن کی پیروی کی جاتی ہے ان لوگوں سے جو پیروی کرتے ہیں اور وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ان کے اسباب منقطع کر دیے جائیں گے۔ (البقرة:166)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ لَقَدۡ جِئۡتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقۡنٰکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ تَرَکۡتُمۡ مَّا خَوَّلۡنٰکُمۡ وَرَآءَ ظُہُوۡرِکُمۡ ۚ وَ مَا نَرٰی مَعَکُمۡ شُفَعَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ اَنَّہُمۡ فِیۡکُمۡ شُرَکٰٓؤُا]
تم البتہ تحقیق میرے پاس اکیلے آگئے ہو جیسا کہ میں نے تمھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تمھیں دیا اس کو اپنی پیٹھوں پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمھارے ساتھ وہ سفارشی نہیں دیکھتے جن کے بارے میں تمھیں یقین تھا کہ وہ تمھارے
بارے میں اللہ کے شریک ہیں۔ (الأنعام:94)
عام انسان تو کجا اللہ پاک فرشتوں کے بارے میں فرماتا ہے:
[وَ کَمۡ مِّنۡ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغۡنِیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ یَّاۡذَنَ اللّٰہُ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرۡضٰی]
اور آسمان میں کتنے فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور وہ راضی ہو جائے۔(النجم:26)
ایک جگہ فرمان باری تعالی ہے: [یَوۡمَئِذٍ لَّا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنۡ اَذِنَ لَہُ الرَّحۡمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوۡلًا]
جس دن کوئی سفارش فائدہ نہیں دے گی مگر اس کی جسے رحمن اجازت دے اور اس کی بات سے راضی ہو جائے۔ (طه:109)
حاجی صاحب کے پاس اپنے پیر نور محمد صاحب کے بارے میں کیا سند ہے کہ اللہ ان کو اجازت دے گا اور ان سے راضی ہو گا ، حاجی صاحب تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اے شاہ نور محمد ! وقت ہے امداد کا اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا]
اے نبی ! ان سے کہہ دیجیے جن کو تم اللہ کے علاوہ ( کچھ ) سمجھتے ہو، ان کو پکارو، وہ (کچھ) تکلیف کو ہٹانے اور دور کرنے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (بني إسرائيل:56)
اور حاجی امداد اللہ صاحب کا یہ کہنا ہے : تم مددگار مدد امداد کو پھر خوف کیا اور قرآن میں ہے کہ رسولﷺ فرماتے ہیں:
[قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ]
میں اپنی جان کے لیے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الأعراف:188)
اسی طرح اللہ نے اپنے نبیﷺ سے کہلوایا: [قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا]
اے نبی ! کہہ دیجیے کہ میں تمھارے لیے کسی بھی دکھ سکھ کا مالک نہیں۔ (الجن:21)
جب اللہ کے رسول ﷺ نے جنگ احد میں زخمی ہونے کے بعد بددعا دی:
[كيف يفلح قوم شجوا نبيهم] وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کو زخمی کر دیا۔ [مسلم، كتاب الجهاد، باب أحد:1791]
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں: [لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ] اے نبی! تقدیر کے معاملے میں تیرا کوئی اختیار نہیں۔ (آل عمران:128)
نبی ﷺنے اپنے رشتہ داروں کو اکٹھا کر کے کہا تھا: [لا أغني عنكم من الله شيئا] میں اللہ کی پکڑ سے تمھیں نہیں بچا سکتا۔ [مسلم، كتاب الإيمان، باب في قوله تعالى:وأنذر عشيرتك الأقربين:206]
تم عمل کرنا، کیونکہ: [فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ]،[فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ] [تو لیکن وہ شخص جس کے پلڑے بھاری ہو گئے]،[ تو وہ خوشی کی زندگی میں ہو گا]۔ (القارعة:7،6)
کسی انسان کے سہارے بے خوف ہو جانا عقلمندی کی دلیل کہاں، حاجی صاحب کی ایک ایک بات شرک میں ڈوبی ہوئی ہے۔ لکھتے ہیں:
آسرا دنیا میں ہے از بس تمھاری ذات کا
اور مسلمانوں کا قول کیا ہے:
[قَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ] انھوں نے کہا اللہ ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ (آل عمران:173)
[فَنِعۡمَ الۡمَوۡلٰی وَ نِعۡمَ النَّصِیۡرُ] اچھا دوست اور اچھا مددگار ہے۔ (الحج:78)
اور:
[وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ] جو اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرے اللہ اسے کافی ہے۔ (الطلاق:3)
ایک جگہ اللہ فرماتا ہے: [وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ] اللہ کے سوا تمھارا کوئی دوست اور مددگار نہیں۔ (التوبة:116)
ایک جگہ اللہ یوں فرماتا ہے:
[وَ تَوَکَّلۡ عَلَی الۡحَیِّ الَّذِیۡ لَا یَمُوۡتُ] اور تو کل اس ذات پر کر جس کو موت نہیں آئے گی۔ (الفرقان:58)
یعنی آسرا صرف اللہ ہی بن سکتا ہے،
حاجی صاحب تو التجائیں بھی غیر اللہ سے کرتےہیں۔ لکھتے ہیں :
تم سوا اوروں سے ہرگز کچھ نہیں ہے التجا
اور اللہ فرماتا ہے:
[اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکۡشِفُ السُّوۡٓءَ] کون ہے جو بے چین کی پکار کو سنتا ہے، جب وہ اسے پکارتا ہے اور اسے تکلیف سے نجات دیتا ہے۔ (النمل:62)
مسلمان تو ہر نماز میں یہ دعا کرتا ہے:
[وَاِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ] اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔ (الفاتحة:4)
اللہ غیر اللہ سے التجا کرنے سے منع کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: [وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ]
اللہ کے علاوہ ان کو نہ پکا رو جو نہ تجھے نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان، اگر تو نے یہ کیا تو ظالموں میں سے ہوگا۔ (يونس:106)
اور یہاں التجائیں ہی غیر اللہ سے۔ حالانکہ ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں: [وَ اَعۡتَزِلُکُمۡ وَ مَا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ]
میں تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو دور ہوتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں۔ (مريم:48)
اسی طرح جب زکریا علیم نے اولاد مانگی تو اپنے رب کے سامنے یوں التجائیں کیں: [قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ وَہَنَ الۡعَظۡمُ مِنِّیۡ وَ اشۡتَعَلَ الرَّاۡسُ شَیۡبًا وَّ لَمۡ اَکُنۡۢ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا]
اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہو گئیں اور بڑھاپے سے میرا سر سفید ہو گیا اور میں اے رب! نا امید بھی نہیں۔ (مريم:4)
سوال و التجارب ہی سے کرنی چاہیے جیسا کہ رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں: [سلوا الله من فضله فإن الله عز وجل يحب أن يسأل]
اللہ سے اس کا فضل مانگو، بے شک اللہ سوال کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ [ترمذی، کتاب الدعوات، باب في انتظار الفرج وغير ذلك:3571]
اسی طرح نبیﷺ نے اپنے چچا زاد بھائی سے کہا تھا: [إذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله]
جب تو سوال کرے تو اللہ سے کر اور مدد مانگے تو اللہ سے مانگ۔ [ترمذى، كتاب صفة القيامة، باب(حديث حنظلة):2516]
اسی طرح آپ ﷺکی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہمابیان فرماتی ہیں:
[سلوا الله كل شئ حتى الشسع] ہر چیز اللہ سے مانگو یہاں تک کہ تسمہ بھی جب وہ ٹوٹ جائے۔ [مسند أبي يعلى:4560]
کیا اب بھی آپ اس عقیدے کو درست مانیں گے کہ تم سوا اوروں سے ہرگز کچھ نہیں ہے التجا۔
حالانکہ ابن کثیر اللہ فرماتے ہیں: [الإستعاذة هي الإلتجاء إلى الله] استعاذة دراصل اللہ سے التجا ہے۔ [تيسير العزيز الحميد:1/78]
اور شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [أو قد نص الأئمة كأحمد وغيره على أنه لا يجوز الإستعاذة بمخلوق] امام احمد اور دوسرے ائمہ کے نزدیک مخلوق سے التجا کرنا جائز نہیں۔ [تيسير العزيز الحميد:1/78]
مسلمانوں کے لیے حکم ہے: [اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً] گڑ گڑا کر اور آہستہ سے اپنے رب کو پکارو۔ (الأعراف:55)
اور یہ کہنا بھی بڑی جسارت ہے۔
بلکہ دن محشر کے بھی جس وقت قاضی ہو خدا
آپ کا دامن پکڑ کر یہ کہوں گا بر ملا
اے شاہ نور محمد! وقت ہے امداد کا
جس دن کے بارے اللہ یوں فرماتا ہے:
[اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ] کیا ہیں جس پر اللہ کا عذاب ثابت ہو گیا پس تو (اے نبی!) ان کو جو آگ میں ہیں نکال سکتا ہے؟ (الزمر:19)
جہاں نبی کچھ نہیں کر سکتے وہاں نور محمد صاحب کیا کر سکتے ہیں؟ اور حاجی صاحب کا نور محمد سے امداد طلب کرنا صریح شرک ہے، کیونکہ بغیر اسباب کے مدد اللہ ہی کی طرف سے آسکتی ہے: [وَمَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ] مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ (الأنفال:10)
اور استغاثہ صرف اللہ ہی سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ استغاثہ:
[ھی طلب الغوث هو إزالة الشدة كالإستنصار طلب النصر والإستعانة طلب العون الإستغاثة هي الإستعانة] استعانہ اور استغاثہ مدد طلب کرنا اور مشکل حل کروانا ہے، دونوں ہم معنی ہیں۔ (تيسير العزيز الحميد:180)
اور مسلمان مدد اللہ سے طلب کرتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے:
[اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ] جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے اللہ نے قبول کیا۔ (الأنفال:9)
اب مدد کے معاملے میں پیر کو رب کا شریک کرنا کیا شرک نہیں۔ جب پیر صاحب اور حاجی امداد اللہ صاحب خود غیراللہ سے فریادیں کر رہے ہیں تو مرید بے چارہ کیا کرے، فرماتے ہیں۔
یا محمد مصطفے ! فریادہے
اےحبیب کبریا ! فریادہے
سخت مشکل میں پھنسا ہوں آج کل
اے میرے مشکل کشا فریاد ہے
(ناله امداد غریب:22)
مولانا قاسم ناناتوی فرماتے ہیں۔
مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سوا
نہیں ہے قاسم بے کس کا کوئی حامی کار
(قصائد قاسمی:6)
حالانکہ ہر نبی نے مدد کے لیے التجا مخلوق کی بجائے رب سے کی ہے جیسا کہ سید نا یونس علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ جب یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیے گئے تو انھوں نے بھی غیر اللہ کی بجائے اللہ سے التجائیں کیں، جیسا کہ قرآن میں ہے:
[فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ] یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں پکارا، یہ کہ تیرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو پاک ہے۔ (الأنبياء:87)
مخلوق سے التجا اس لیے نہیں کی جاسکتی کہ وہ تو مجبور انسان ہیں، مختار کل تو اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ اللہ فرماتا ہے:
[اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ] جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تمھاری طرح انسان تھے۔ (الأعراف:194)
اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایسے انسان سے کچھ مانگا جائے ، التجائیں کی جائیں، دنیا میں اسے سہارا بنایا جائے جس کی ملکیت میں کچھ نہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمانہے: [قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۚ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ]
اے نبی! ان سے کہہ دیجیے جن کو تم اللہ کے علاوہ سمجھتے ہو ان کو پکارو وہ زمین و آسمان میں ایک ذرے کے بھی مالک نہیں ہیں۔ (سبا:22)
فریاد کے لائق اللہ ہی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں آپ ﷺاور آپ ﷺکے ساتھیوں کےبارے میں آتا ہے: [اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ] (وہ وقت یاد کرو) جب آپ اپنے رب سے طلب کر رہے تھے، سو اس نے تمھاری دعا قبول کی۔ (الأنفال:9)
یعنی ظاہری اسباب نہ ہونے کی وجہ سے مدد اللہ ہی سے طلب کی جاتی ہے، اسی طرح آپ دعا کرتے ہیں:
[اللهم إني أنشدك عهدك ووعدك] اے اللہ! میں تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر فریاد کرتا ہوں۔ [صحیح البخاری:2915]
جنگ بدر کے موقع پر نبی ﷺیوں دعائیں کرتے ہیں:
[اللهم إنك إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام ، فلا تعبد في الأرض أبدا، قال: فما زال يستغيث ربه عز وجل، ويدعوه]
اے اللہ! اگر تو نے مسلمانوں کی اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو زمین پر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ مسلسل اپنے رب سے ایسے ہی دعا مانگتے اور اسے پکارتے رہے۔ [مسند أحمد:208]
اسی طرح آپ ﷺ نے دجال کے فتنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
[إن من فتنته أن معه جنة ونارا, فناره جنة وجنته نار, فمن ابتلي بناره فليستغث بالله وليقرأ فواتح الكهف, فتكون عليه بردا وسلاما, كما كانت النار على إبراهيم]
اس کے فتنہ میں سے ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہو گی ، اس کی دوزخ در اصل جنت اور جنت در اصل دوزخ ہو گی ۔ پس جو کوئی اس کی آگ سے آزمایا جائے وہ اللہ سے مدد مانگے اور سورۂ کہف کی شروع کی آیات تلاوت کرے تو وہ آگ اس پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی جیسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر ہوئی تھی۔ [ابن ماجه، أبواب الفتن، باب فتنة الدجال و خروج عیسی ابن مریم و خروج یا جوج ومأجوج:4077]
ان تمام دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا و آخرت میں التجا ئیں صرف اللہ سے کرنی چاہیں۔