اخلاص نیت کا ثواب اور اس کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

كتاب الاخلاص

◈اخلاص نیت کا ثواب:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ﴾
”اے میرے نبی! پس آپ اللہ کی بندگی اس کے لیے دین کو خالص کر کے کرتے رہیے۔“
(39-الزمر:2)
عن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الأعمال بالنية ولكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال نیت ہی سے صحیح ہوتے ہیں (یا نیت ہی کے مطابق ان کا بدلہ ملتا ہے) اور ہر شخص کو وہی ملے گا جو نیت کرے گا۔ پس جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کرے اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہوگی اور جو کوئی دنیا کمانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کرے گا تو اس کی ہجرت ان ہی کاموں کے لیے ہو گی۔
صحيح البخاری، کتاب الایمان، رقم: 54
عن سعد بن أبى وقاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا أجرت عليها حتى ما تجعل فى فم امرأتك.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یقیناً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: بے شک تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں (لقمہ) ڈالے۔
صحیح بخاری، کتاب الایمان، رقم: 56

◈ اخلاص نیت جہنم کی آگ سے بچاتا ہے:

عن عمرو بن دينار قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: إنا من شهد معاذا حين حضرته الوفاة يقول: اكشفوا عني سحيف القبة أحدثكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال مرة أخبركم بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يمنعني أن أحدثكموه إلا أن تتكلوا سمعته يقول: من شهد أن لا إله إلا الله مخلصا من قلبه أو يقينا من قلبه لم يدخل النار أو دخل الجنة وقال مرة: دخل الجنة ولم تمسه النار.
عمر و بن دینار سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے پاس موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے خیمے کا پردہ ہٹا دو کیونکہ میں تمہیں وہ حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ مجھے صرف اس بات نے روکے رکھا کہ کہیں تم اس پر بھروسہ نہ کر لو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے بھی صدق دل اور یقین قلب کے ساتھ یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی اور وہ جنت میں داخل ہوگا۔
مسند احمد : 236/5 ـ مسند حمیدی ، رقم: 369 ابن حبان نے اس کو صحیح کہا ہے۔ صحیح ابن حبان، رقم: 200

◈ اخلاص نیت کے متعلق اقوال سلف:

➊ امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جب جمعہ کے دن ممبر پر تشریف فرما ہوئے تو بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے مجھے اپنا غلام بنانے کے لیے آزاد کیا تھا یا رضائے الہی کے حصول کی خاطر؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کی رضا کی خاطر تو بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر مجھے غزوہ میں جانے کی اجازت دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی۔ پس وہ ملک شام کو روانہ ہو گئے اور وہیں آپ کی وفات ہوئی۔
سیر اعلام النبلاء: 357/1
➋ امام ابو حازم رحمہ اللہ فرمایا کرتے کہ تم جس طرح اپنی برائیوں کو چھپاتے ہو اسی طرح اپنی نیکیوں کو بھی چھپا کر رکھا کرو۔
سیر اعلام النبلاء : 100/6
➌ امام ربیع بن خثیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو کام رضائے الہی کی خاطر نہ کیا جائے بلکہ ریا کاری کی خاطر کیا جائے تو وہ نا پید ہو جاتا ہے۔
سير أعلام النبلاء : 259/4
➍ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو علم خلوص نیت کے ساتھ حاصل کیا جائے اس سے افضل اور اعلیٰ عمل کوئی نہیں ہے۔
سير أعلام النبلاء: 244/7
➎ امام معمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انسان غیر اللہ کی خاطر علم حاصل کرنا چاہے تو علم انکار کر دیتا ہے اور علم تب حاصل ہوتا ہے جب رضائے الہی کی خاطر حاصل کیا جائے۔
سير أعلام النبلاء: 17/7
➏ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کتنے ہی اعمال بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن( اخلاص) نیت ان کو بڑا کر دیتا ہے اور کتنے ہی اعمال بڑے ہوتے ہیں لیکن نیت (میں عدم اخلاص) ان کو حقیر بنا دیتا ہے۔
سير أعلام النبلاء: 400/8