بسم الله الرحمن الرحيم
كِتَابُ التَّوْحِيدِ
[2] باب: قول الله تبارك وتعالى:[قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى] (الإسراء:110)
7376: حدثنا محمد، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن زيد بن وهب وأبي ظبيان، عن جرير بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرحم الله من لا يرحم الناس.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔
سبب نزول:
باب میں موجود آیت کے کچھ اسباب بیان ہوئے ہیں۔
◈ ایک تو مشرکینِ مکہ کا ایک اعتراض و اشکال: رسول اللہ ﷺ ایک موقع پراللہ کو پکار رہے تھے۔ (یا اللہ، یا رحمن) تو مشرکین نے سن لیا: انہوں نے کہا کہ تم ہمیں کہتے ہو کہ اللہ کے سواء کسی کو نہ پوجو۔ اور خود پوج رہے ہو رحمن کو۔ (مشرکین سمجھے یہ دو ذاتیں ہیں ایک اللہ کی ذات اور رحمن کی ذات)۔ (تفسير الطبري، تفسير القرطبي، تفسير ابن كثير تحت سورة الإسراء:110)
◈ اور یہی چیز یہود نے بھی سنی اور انہوں نے کہا: کہ تورات میں زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفت الرحمن کا استعمال ہوا ہے۔ اور آپ زیادہ استعمال اللہ کے نام کا کرتے ہیں۔ (قرآن میں زیادہ اللہ کا ذکر ہے رحمن کا ذکر کم ہے)۔ (تفسير القرطبي، سورة الإسراء:110)
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اور وہ سارے نام ایک ہی ذات کے ہیں۔
◈ امام بخاری رحمہ اللہ کا ایک مقصود یہ تھا کہ شانِ نزول کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت۔
◈ اور دوسرا اللہ تعالیٰ کے دو ناموں کا اثبات، اور ہمارا اس پر ایمان ہے: [لفظ اللہ عَلَمُ الأَعْلَامِ ہے]۔
یہ کسی اور مخلوق کا نام نہیں ہو سکتا، یہ مختص ہے اللہ کے ساتھ اور رحمن بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔
[اللہ تعالیٰ کے ناموں کی دو اقسام ہیں]۔
① وہ جو نام جو خاص ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ، اسمائے مختصہ جو کسی اور کا نہیں رکھ سکتے۔(مثلا) الرَّحْمٰن، الصمد، عالم الغیب ۔
② وہ نام جو مشترک ہیں: مخلوق پر بھی بولے جا سکتے ہیں۔ یا بولے گئے ہیں۔ (جیسے) اللہ تعالیٰ الحی (زندہ) ہے۔ اور حیات مخلوق کے پاس بھی ہے۔ مگر یہ اشتراک لفظی ہے، معنوی اشتراک نہیں۔
◈ اللہ تعالیٰ الحی ہے: بغیر کسی نقص کے، وہ زندہ تھا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ کمال کے ساتھ۔
◈ اور مخلوق ایسی الحی ہے کہ پہلے معدوم تھی، پھر جب وجود میں آئی تو ایک مقرر وقت کے لیے۔ اور زندگی بھی مختلف احوال کے ساتھ۔ پھر اس کے بعد موت۔
اللہ تعالیٰ کے لیے وہ معنی ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہیں اور کمال کا معنی ہے۔
اور مخلوق کے لیے وہ معنی ہوگا جو مخلوق کی شان کے لائق ہے۔
جہمیہ: رحمن کو مانتے ہی نہیں۔
معتزلہ: رحمن کو مانتے ہیں لیکن رحمت سے خالی قرار دیتے ہیں۔
یہ ترجمۃ الباب رد ہے جہمیہ کا، اور حدیث میں رد ہے معتزلہ کا۔
اللہ تعالیٰ کی ہر صفت تشبیہ سے پاک ہے۔ [لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ] (سورۃ الشوریٰ:11)
اشاعرہ اور ماتریدیہ: رحمن مانتے ہیں لیکن معنی کو نہیں مانتے، تاویل کرتے ہیں۔ یہ دونوں (معنیٰ ،،ارادہ یا انعام،، یا احسان کرتے ہیں) تو یہ تاویل باطل ہے۔ یہ معنیٰ صفت کی حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
سوال: یہ تاویل کیوں کرتے ہیں کہتے ہیں؟
جواب: کہتے ہیں اس میں دو معذور ہیں۔
[1] رحمت کا جذبہ مخلوق کے اندر بھی ہے۔ (تو تشبیہ لازم آئے گی)۔
[2] رحمت کی صفت جو ہے۔ وہ تغیُّر کو مستلزم ہے: رحم کسی پر کرو گے تو آپ کے اندر جذبات تبديل ہونگے۔
ان دو امور کی بنیاد پر وہ صفتِ رحمت میں تاویل کرتے ہیں: کہ ارادہ یا انعام۔ یہ صفت کی حقیقت کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ حالانکہ رحمن کا رحم کرنا حق ہے، صفتِ رحمت اس کے حق پر ثابت ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے۔
رحم کیسے کرتا ہے وہ معلوم نہیں: (جیسے اس کی شان کے لائق ہے ۔ اسکا رحم کرنا مخلوق جیسا نہیں ہے: کیوں؟ [لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ]
تشبیہ تب لازم آتی ہے کہ جب ہم کہیں کے اسکی رحمت مخلوق کی رحمت جیسی ہے۔
ہم [الرحمن] کو اللہ تعالیٰ کا حقیقی نام مانتے ہیں، اور یہ نام صفتِ رحمت پر دلالت کرتا ہے، اس لیے ہم صفتِ رحمت کو بغیر کسی تاویل کے اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ثابت مانتے ہیں۔