اسلام میں حلال و حرام کتاب کی افادیت، خصوصیات اور قرآنی رہنمائی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

یہ کتاب ہر طالب علم اور مرد و زن کے پاس ہونی چاہیے (از ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ)

نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم أما بعد !
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور انبیاء ورسل علیہم السلام کے ذریعے اپنے احکامات ان تک پہنچائے۔ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے۔ منہیات سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کے اختیار کرنے سے عبادات ضائع ہو جاتی ہیں اور ایک شخص کو مومن و متقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سے بچنا ضروری ہوتا ہے اور اسلام نے بہت سی اشیاء کو حرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن و حدیث کے صفحات پر بکھری پڑی ہے۔ علامہ یوسف قرضاوی رحمہ اللہ نے بھی اس کتاب میں حلال و حرام پر مفصل بحث کی ہے لیکن چند مقامات پر ٹھوکر کھائی ہے جس پر علامہ البانی رحمہ اللہ اور دیگر عرب علماء نے ان کا خوب محاکمہ کیا ہے اور راقم نے بھی بعض مقامات پر تعلیق لگا دی ہے۔ البتہ مجموعی لحاظ سے کتاب کافی مفید ہے۔ اللہ رب العزت سب مسلمانوں کو حلال کھانے اور حرام سے اجتناب کرنے کی توفیق بخشے۔ آمين
یہ کتاب ”اسلام میں حلال و حرام“ ایک عرصہ قبل الحلال والحرام فى الاسلام کے نام سے طبع ہو کر منظر عام پر آئی۔ اس کی افادیت کی بنا پر بہت کم مدت میں اس کی مقبولیت کا ریکارڈ قائم ہوا، جہاں عالم عرب میں اس کی خوب شہرت و مقبولیت ہوئی وہاں ہی دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو کر شائع ہوا۔ برصغیر میں یہ کتاب تقریباً 33 سال سے شائع ہورہی ہے۔ یہ سب سے پہلے ہندوستان سے شائع ہوئی اور اس کے بعد پاکستان کے چند اداروں نے اسے بطور فوٹو شائع کیا اور بعض نے کمپیوٹر کمپوزنگ میں بھی طبع کیا۔ اس کتاب میں اعراب کی غلطیاں، بعض ترجمے کے سقم، تفہیم مضامین قرآنی و حدیثی میں ٹھوکر وغیرہ۔ پاکستان میں کمپیوٹر کمپوزنگ اور تعلیقات کے ساتھ شائع ہونے والے نسخوں میں بعض مقامات پر اصل کتاب کی عبارتیں ہی چھوٹ گئی ہیں یعنی اصل عربی نسخے کے مطابق بالکل کتاب نامکمل ہے۔ بلکہ بعض جگہ تو پورا ایک ایک صفحہ کا مواد ہی اردو ایڈیشن سے غائب ہے لیکن نہ تو شائع کرنے والوں کو اس کا علم ہے اور نہ ہی پڑھنے پڑھانے والوں کو شاید۔ والله اعلم بالصواب
محترم برادرم محمد طاہر نقاش صاحب جو کئی کتب کے مصنف بھی ہیں، صاحب ذوق اور تحقیق و جستجو رکھنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی کتاب کو خوب سے خوب تر انداز میں مکمل تحقیق و ریسرچ کے ساتھ منظر عام پر لانے کے شائق و فائق ہیں۔ انہوں نے مجھے یہ کتاب نظر ثانی کے لیے آج سے تقریباً 11 سال قبل دی لیکن ریسرچ کے دوران مسودہ کہیں گم ہو گیا۔ چند ماہ قبل میری لائبریری کی ترتیب نو کے درمیان یہ کہیں سے مل گیا تو میں نے طاہر صاحب سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ آج بھی میری نظر ثانی والے مسودے کے منتظر ہیں اور انہوں نے ابھی تک اس کتاب کو شائع نہیں کیا۔ لہذا میں نے اس پر اپنی تعلیقات و حواشی مکمل کر کے ان کے سپرد کر دی۔ اب یہ تمام تحقیق کے مراحل طے کرنے کے بعد آپ کے ہاتھ میں ہے۔

دار الابلاغ کے تحت شائع ہونے والی اس کتاب کی انفرادیت و خصوصیت

جیسا کہ میں نے اس سے قبل بھی عرض کیا کہ علامہ یوسف قرضاوی رحمہ اللہ نے جہاں حلال و حرام کے متعلق بہت مفید رہنمائی فراہم کی وہاں ہی کئی مقامات پر منہج نبوی کے حوالے سے ٹھوکر بھی کھائی۔ ان کی بعض وقوع پذیر ہونے والی لغزشوں کی گرفت فوری طور پر علمائے اسلام نے کی اور عامۃ المسلمین کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کیا۔ ان علمائے اسلام میں محدث العصر الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”غایۃ المرام فی تخریج احادیث الحلال والحرام“ لکھ کر اور فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان بن عبد اللہ الفوزان نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب ”اعلام بنقد الحلال والحرام“ لکھ کر حق کو واضح کرنے کا حق ادا کیا۔
◈ محترم طاہر نقاش صاحب نے ان کی تعلیقات و تحقیقات کو اردو قالب میں ڈھال کر اس کتاب کا فٹ نوٹ میں حصہ بنا دیا ہے۔
◈ محدث العصر فضیلۃ الشیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ صالح الفوزان کی تعلیقات و حواشی کے ساتھ ساتھ راقم نے بھی کتاب میں جہاں ضرورت محسوس کی اپنے حواشی دے دیے ہیں۔ اسی طرح :
◈ بعض جگہ کتاب کا ترجمہ بہت مشکل تھا اس کو آسان پیرائے میں کر دیا گیا ہے۔
◈ بعض جگہ قد آور اور دقیق الفاظ کو بدل کر رائج الوقت اصطلاحات کو شامل کیا گیا ہے۔
◈ کتاب کی زبان کو جدید اردو قالب میں ڈھال کر کافی حد تک سہل و سلیس کر دیا گیا ہے، یعنی ترجمہ کو عام فہم و آسان بنانے کا خاص طور پر اہتمام کیا گیا ہے۔
◈ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے علاوہ باقی تمام عربی عبارات پر نہ صرف اعراب کو درست کیا گیا بلکہ تمام عربی عبارتوں پر اعراب کو مکمل کر دیا گیا ہے، تاکہ نصاب اور کورس کی شکل میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کو اصل عربی عبارت کی روشنی میں ترجمہ و تفہیم کو جاننے اور مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔
◈ مختلف مہم اور وضاحت طلب مقامات کو نشان زدہ کر کے ان پر تفصیلی و تشریحی حواشی درج کر دیے گئے ہیں۔
◈ اس کتاب کو عربی نسخے کے مطابق مکمل کیا گیا ہے، اب اس میں کوئی مقام شامل ہونے سے رہ نہیں گیا۔ ان شاء الله
◈ کتاب میں مذکورہ احادیث وغیرہ کی مکمل تحقیق و تخریج شامل کر دی ہے تا کہ آسانی سے مراجع و مصادر تک رسائی حاصل ہو سکے۔
◈ بعض بظاہر تشنہ مقامات پر وضاحت کے لیے فٹ نوٹ میں تشریح اور بعض جگہ متن میں بریکٹوں میں اضافہ و شرح توضیح کر دی گئی ہے۔
◈ اس کے علاوہ اس موضوع پر رہنمائی کو مزید مفید اور مؤثر بنانے کے لیے کئی اور طرح کا تحقیقی کام بھی شامل کتاب کیا گیا ہے۔ فلله الحمد
یوں یہ نسخہ مروجہ مختلف نسخوں سے اپنی صحت، تحقیق تخریج و ریسرچ، مفید حواشی و تعلیقات کے اعتبار سے جامع و صحیح ترین ہونے کی بنا پر پاک و ہند کے مختلف اشاعتی اداروں کی طرف سے وقوع پذیر ہونے والی تمام اشاعتوں پر فوقیت لے گیا ہے۔ یہ نسخہ ہر لائبریری میں اور ہر طالبہ و طالب علم دین کے پاس ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ یہ کتاب انسانی زندگی سے متعلق ان تمام امور پر مشتمل و حاوی ہے اور انسانی زندگی میں مختلف مواقع پر پیش آنے والے مسائل کو حل کرنے سے متعلق رہنمائی کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یوں یہ کتاب روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل خواہ وہ اسلامی ممالک میں رہنے والوں کے ہوں یا مغربی یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے ہوں، تمام کے متعلق شافی و کافی راہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اللہ احکم الحاکمین سے دعا ہے کہ وہ ہر مسلمان مرد و زن کو اس کتاب میں بیان کی گئیں حلال و حرام سے متعلق تحقیقات و علمی تشریحات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کتاب کے مصنف، مترجم، محقق، مخرج، ناشر اور راقم سمیت کسی بھی طرح اس کتاب پر کام کرنے والے اپنے بندوں کی کوششوں کو اپنی جناب میں قبول فرمائے اور بلندی درجات کا باعث بنائے۔ آمين يا رب العالمين

دستور الہی سے :

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ 32 قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اے رسول ! ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے اللہ کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہیں کے لیے ہوں گی۔ اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔ اے رسول ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہوا کہ وہ حقیقت میں اس نے فرمائی ہے۔
(سورۃ الاعراف : 32-33)