صفوں کو درست کرنے کا ثواب
نماز میں صفوں کو درست کرنا نماز کے قائم کرنے سے ہے، نماز کے تمام ہونے میں سے ہے، اور دلوں میں محبت کا باعث ہے۔
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾
”اور نماز قائم کرو، زکاۃ دو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“
(2-البقرة:43)
عن أنس رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : سووا صفوفكم؛ فإن تسوية الصف من تمام الصلاة.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں درست کیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستی کمال نماز میں سے ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الأذان، باب اقامة الصف من تمام الصلوة ، رقم: 722 ۔ صحیح مسلم، كتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف و اقامتها رقم : 433
صحیح البخاری کی حدیث کے الفاظ ہیں:
فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة.
”صفوں کو درست سیدھا کرنا نماز کو قائم کرنے کا حصہ ہے۔“
عن النعمان بن بشير رضي الله عنهما، يقول: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا، حتى كأنما يسوي بها القداح، حتى رأى أنا قد عقلنا عنه ثم خرج يوما فقام حتى كاد يكبر، فرأى رجلا باديا صدره من الصف، فقال: عباد الله لتسون صفوفكم، أو ليخالفن الله بين وجوهكم.
”سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے، گویا آپ ان کے ذریعے سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہیں حتی کہ آپ نے سمجھ لیا کہ ہم آپ کی بات سمجھ گئے ہیں۔ پھر آپ ایک روز تشریف لائے اور کھڑے ہو گئے، حتی کہ تکبیر کہنے کو تھے کہ آپ نے ایک شخص کو اپنا سینہ صف سے باہر نکالے ہوئے دیکھا، تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بندو! یا تو تم ضرور اپنی صفیں سیدھی کر لو، ورنہ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔“
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها، رقم: 436 .
عن ابن عمر رضي الله عنه ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أقيموا الصفوف، وحاذوا بين المناكب، وسدوا الخلل: ولينوا بأيدي إخوانكم، ولا تذروا فرجات للشيطان، ومن وصل صفا وصله الله، ومن قطع صفا قطعه الله.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر رکھو صفوں کے درمیان خلا کو بند کرو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہو جاؤ اور شیطان کے لیے درمیان میں جگہ مت چھوڑو اور جو صف کو ملائے گا، اسے اللہ ملائے۔ اور جو صف کو توڑے گا، اللہ تعالیٰ اسے توڑ دے گا۔“
سنن ابی داؤد، باب تسوية الصفوف، رقم: 666۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر بڑے اہتمام سے عمل کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا، اور پاؤں سے پاؤں ملا لیا کرتے تھے۔
صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب الزاق المنكب بالمنكب، رقم: 725۔ سنن ابی داؤد، باب تسوية الصفوف، رقم: 668.
آج موجودہ دور میں مسلمان آپس میں عدم اتفاق اور اختلاف کا شکار ہیں۔ ان وجوہات میں سے ایک وجہ نماز میں صفوں کا درست قائم نہ کرنا ہے۔ کیونکہ اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اگر صفیں درست نہیں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ دلوں میں اختلاف ڈال دے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان محبت و بھائی چارے کی ایک وجہ صفوں کی درستگی بھی تھی۔ جبکہ آج ہماری حالت یہ ہے کہ نماز میں مل کر کھڑے ہونے سے چڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائے۔
؎ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے