موجودہ منسوب آثارِ نبویہ کی حقیقت اور صحتِ انتساب کی شرعی دلیل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

منسوب آثار کی حقیقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار مبارکہ سے تبرک صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب زمانے والے لوگوں، یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام رحمہ اللہ اور تبع تابعین رحمہ اللہ کے حصے میں آیا۔ چودہ سو سال گزر جانے کے بعد ان آثار سے تبرک کا حصول ممکن نہیں، کیونکہ یہ تمام آثار مفقود ہو چکے ہیں، بعض لوگوں نے خود تراشیدہ آثار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر رکھے ہیں، ان کے پاس اپنے بیان کردہ آثار کے اثبات کی سند تک نہیں ہے، بلکہ وہ لوگ محض دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں۔
جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قول، فعل یا سکوت منسوب کرنا بہت احتیاط طلب ہے کہ جھوٹ منسوب کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث صادق آتی ہے :
من كذب علي، فليتبوأ مقعده من النار .
”جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سمجھے۔“
(صحيح البخاري : 107 ، صحیح مسلم : 3)
اسی طرح کسی ایسے اثر، مثلاً نعلین، بال، جبہ یا پگڑی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا بھی انتہائی احتیاط طلب ہے، ایسا کرنے والا بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وعید کا مصداق ہے۔ لہذا اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، خود ساختہ تبرکات کو نبوی تبرکات کہہ کر لوگوں میں متعارف کروانے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ تو منسوب نہیں کر رہے؟
اگر کوئی شخص چودہ سو سال گزر جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب تبرکات کا دعویٰ کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دعویٰ پر صحیح سند پیش کرے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ نعلین شریفین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں یا یہ مبارک بال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں، تو کیا اتنی سی بات پر ان نعلین اور بالوں کی تعظیم و تکریم کرنا شروع کر دی جائے؟ ان سے تبرک حاصل کرنے لگیں؟ نہیں بلکہ ان کے انتساب پر صحیح سند کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر کوئی صحیح سند پیش نہ کرسکا تو اس کی بات کو ٹھکرا دیا جائے گا، کیوں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر جھوٹ ہے، لہذا اس معاملہ کی حساسیت کو سمجھنا ہوگا۔
بجا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کوئی چیز باوثوق ذرائع سے ثابت ہو جائے، تو اس سے تبرک کا انکار کرنا سراسر گمراہی اور انتہا درجہ کی بدبختی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ کو انتہائی حقیر سمجھتے ہوئے سینہ زوری سے کام لیتے ہیں۔ اگر کوئی ان سے دلیل وثبوت کا طالب ہو تو اس پر گستاخ کا فتویٰ جڑ دیتے ہیں۔

آثار نبویہ مفقود ہو چکے ہیں

یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آثار نبویہ مفقود ہو گئے ہیں، اب دنیا میں ان کا وجود باقی نہیں رہا۔
منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم (654ھ) میں جل گیا تھا۔
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی پر اٹھایا گیا تھا۔
(تاريخ يحيى بن معين برواية الدوري : 67/3)
بعد میں اس مبارک چارپائی کا کیا ہوا؟ کوئی علم نہیں۔
اسی طرح سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھڑی مبارک تھی، جسے وہ ہر وقت اپنی تلوار کے ساتھ باندھ کر رکھا کرتے تھے، ان کی وصیت تھی کہ اس چھڑی کو ان کے کفن کے ساتھ رکھ دیا جائے، چنانچہ اسے ان کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا۔
(مسند الإمام أحمد : 486/3 وسنده حسن)
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (982) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (7160) نے اس حدیث کو، جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري : 437/2) نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی چادر مبارک مانگی اور وہ چادر ہی ان کا کفن بنی۔
(صحیح البخاري : 1377)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک جس پر ”محمد رسول اللہ“ کندہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی انگلی کی زینت بنی۔ بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ انگوٹھی کنویں میں گر گئی، باوجود بسیار کوشش کے نہ مل سکی۔
(صحيح البخاري : 5866-5879)

بیعت رضوان والے درخت کا معاملہ

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
رجعنا من العام المقبل، فما اجتمع منا اثنان على الشجرة التى بايعنا تحتها، كانت رحمة من الله .
”ہم (مقام حدیبیہ پر) صلح حدیبیہ کے دوسرے سال آئے، تو ہم میں سے دو آدمی بھی اس درخت کی نشاندہی پر متفق نہ ہو سکے، جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔“
(صحیح البخاري : 2958)
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م : 852ھ) لکھتے ہیں :
أن لا يحصل بها افتتان لما وقع تحتها من الخير، فلو بقيت لما أمن تعظيم بعض الجهال لها، حتى ربما أفضى بهم إلى اعتقاد أن لها قوة نفع أو ضر، كما نراه الآن مشاهدا فيما هو دونها، وإلى ذلك أشار ابن عمر بقوله: كانت رحمة من الله، أى كان خفاؤها عليهم بعد ذلك رحمة من الله تعالى .
”درخت کے غائب کرنے کی حکمت یہ تھی کہ اس درخت کے نیچے رونما ہونے والے معاملہ خیر کی وجہ سے لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ اگر وہ باقی رہتا، تو بعض جاہل لوگوں کی طرف سے اس کی تعظیم کا اندیشہ تھا۔ لوگ یہ عقیدہ گھڑ لیتے کہ درخت نفع و نقصان کا مالک ہے، ہم مشاہدہ کر چکے کہ اس سے کم تر چیزوں کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھا جا رہا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بات میں اسی کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اس سال کے بعد اس درخت کا مخفی ہو جانا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔“
(فتح الباري : 18/6)
◈ سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كان أبى ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الشجرة، قال: فانطلقنا فى قابل حاجين، فخفي علينا مكانها، فإن كانت تبينت لكم؛ فأنتم أعلم .
”میرے والد گرامی ان لوگوں میں شامل تھے، جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ دوسرے سال جب ہم حج کرنے کے لیے گئے، تو ہمیں درخت والی جگہ نہ ملی۔ اگر وہ آپ کے سامنے ظاہر ہو جائے، تو آپ زیادہ سمجھ دار ہو۔“
(صحیح مسلم: 1859)
◈ حافظ نووی رحمہ اللہ (م : 676ھ) لکھتے ہیں :
قال العلماء : سبب خفائها ألا يفتتن الناس بها لما جرى تحتها من الخير ونزول الرضوان والسكينة وغير ذلك، فلو بقيت ظاهرة معلومة لخيف تعظيم الأعراب والجهال إياها وعبادتهم لها، فكان خفاؤها رحمة من الله تعالى .
”علما نے اس کے مفقود ہونے کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ اس درخت کے نیچے جو خیر، خوشنودی اور سکینت وغیرہ ملی تھی، اس کی وجہ سے لوگ فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اگر وہ ظاہر اور معلوم رہتا، تو دیہاتی اور جاہل لوگ اس کی تعظیم اور عبادت کرنے لگتے، لہذا اس کا مخفی رہنا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔“
(شرح صحیح مسلم : 5/13)
جب زمین کا ایک ظاہری ٹکڑا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مخفی ہو گیا، تو ہمارے زمانہ میں قطعیت اور یقین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تبرکات کی نسبت کا دعویٰ کیسے ممکن ہے۔ یہ نسل در نسل ثقہ اور معتبر راویوں کے واسطے سے ہم تک نہیں پہنچے، نہ ان کے متعلق دعویٰ تواتر ثابت ہے۔ محض بے سند باتوں کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

موجودہ آثار کے بارے علامہ لکھنوی کی رائے :

علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ آثار انبیا علیہم السلام کے بارے میں لکھتے ہیں :
پس ان تمام احادیث و روایات سے اہل ایمان کی نظر میں بہ خوبی ثابت ہے کہ جملہ آثار ومشاہد نبوی سے برکت حاصل کرنا اور ان کی عظمت کرنا اللہ کی نعمتوں میں سے عمدہ نعمت ہے اور اس قسم کی برکت اور تعظیم کا ثبوت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے افعال سے پایا جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ جس طرح ان احادیث سے آثار نبوی کی برکت اور تعظیم کا ثبوت ہوتا ہے، اسی طرح تعظیم اور برکت حاصل کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہوتا ہے، پس جس طرح وہ شخص جو منکر برکت آثار نبویہ ہو، بد دین اور گناہ گار ہے، اسی طرح وہ شخص بھی مبتدع اور مخالف سنت سمجھا جائے گا، جو طریق مرضیہ حدیث کے خلاف تعظیم کا کوئی خاص طریقہ اپنی طرف سے ایجاد کرے، کیونکہ مخالفت سنت میں دونوں برابر ہیں اور یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ اس طریقہ مخترعہ میں کوئی امر خاص صریح منہیات شرعیہ اور محرمات یقینیہ سے شامل نہ ہو اور اگر اس طریقہ مخترعہ میں کوئی امر محرمات شرعیہ سے بھی شامل کیا جائے، تو ایسی حالت میں دو نقصان ہوں گے، ایک تو طریق خاص کا احداث اور دوسرے محرمات شرعیہ کا ارتکاب اور ان دونوں باتوں کا حکم یہ ہے کہ ان کا مرتکب غیر مستحل فاسق اور مستحل کافر ہے۔ دوسرے اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جو برکت اور تعظیم حضور سرور انبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کے لیے ثابت ہے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے آثار کے ساتھ مخصوص ہے، دوسرے کے آثار کے ساتھ وہ معاملہ کرنا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کے ساتھ مخصوص ہے، حرام ہے۔ پس ضرور ہوا جس کسی خاص جبہ اور خاص لباس اور خاص بال کی نسبت یہ دعویٰ کیا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار ہیں، تو اول اس بات کا یقین حاصل کیا جائے کہ فی الواقع یہ آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں یا دوسرے شخص کے ہیں، جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کسی طمع سے نسبت کر دی ہے تاکہ اس یقین سے غیر کے آثار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کا ایسا برتاؤ لازم نہ آئے اور اس قسم کا یقین کا حصول ایسے امور کی نسبت بغیر طریقے کے مستبعد رہے، جس کو محدثین رحمہ اللہ نے روایت حدیث میں اختیار کیا ہے، کیونکہ اثبات آثار نبوی بھی حدیث ہے، جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو اور جو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو، اس میں یہی طریقہ مسلوک ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب اُن آثار کا ثبوت ایسے طریق روایت پر موقوف ہو، تو اس کی صحت اور عدم صحت بھی صحت اسناد اور عدم صحت اسناد پر موقوف ہو گی اور جب اس کے لیے سند ضعیف بھی میسر نہ ہو، تو صرف جاہلوں کے محضر نامے اس کو ثابت نہیں کر سکتے، پس خلاصہ کلام کا یہ ہو گا کہ بلاشبہ تعظیم آثار نبوی علامات ایمان میں سے ہے، جس کا ثبوت احادیث صحیحہ سے ہوتا ہے، لیکن وہ تعظیم اور تبرک انہیں طرق میں منحصر ہے، جو احادیث سے ثابت ہیں اور یہ تعظیم اس بات کی فرع ہے کہ ان آثار و تبرکات کا انتساب حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی طرف صحیح ہو اور صحت انتساب صحت روایت پر موقوف ہے، پس جو آثار بصحت روایت ثابت ہیں، بلاشبہ ان کی تعظیم حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ کے موافق کرنا چاہیے اور ان سے برکت حاصل کرنے میں کوئی شبہ نہیں اور جو بصحت روایت ثابت نہ ہوں، اُن کے ساتھ بے تحقیق کیے ہوئے وہ معاملہ کرنا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار ثابتہ سے کرنا چاہیے، ایسا ہے جیسے بے سند کلام کو حدیث کہنا اور اُس پر عمل کرنا جن کی نسبت سخت وعید وارد ہے۔
(مجموع الفتاوی از لکھنوی : 3/ 175-176)

ایک اور رائے :

مفتی محمد شریف الحق امجدی بریلوی (مبارک پور، اعظم گڑھ، یو، پی) لکھتے ہیں :
”محض شاہی مسجد میں رکھا ہونا، کوئی ثبوت نہیں کہ فلاں چیز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی استعمال کی ہوئی ہے، اس کے لیے ثبوت کی حاجت ہے، اس لیے دلیل آپ کے ذمے ہے۔“
(فتاوی شارح بخاری : 479/1)

موجودہ آثار اور دیگر اہل علم

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : 728ھ) فرماتے ہیں :
هذا إذا كان النعل صحيحا، فكيف بما لا يعلم صحته، أو بما يعلم أنه مكذوب، كحجارة كثيرة يأخذها الكذابون وينحتون فيها موضع قدم، ويزعمون عند الجهال أن هذا الموضع قدم النبى صلى الله عليه وسلم .
یہ (تعظیم والا معاملہ) تو اس وقت (زیر بحث آسکتا) ہے، جب ان جوتوں کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو، لیکن اگر ان کی صحت کا علم ہی نہیں، ان کا جھوٹا ہونا بالکل معلوم ہے، بعض جھوٹے لوگ پتھر لے کر اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کا نقش بناتے ہیں اور پھر جاہلوں کے سامنے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان ہیں، تو اس صورت میں ان کی تعظیم کیسے درست ہو سکتی ہے؟
(اقتضاء الصراط المستقیم : 337/2)
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (م : 748ھ) فرماتے ہیں :
مثل هذا يقوله هذا الإمام بعد النبى صلى الله عليه وسلم بخمسين سنة، فما الذى نقوله نحن فى وقتنا لو وجدنا بعض شعره بإسناد ثابت، أو شسع نعل كان له ، أو قلامة ظفر، أو شقفة من إناء شرب فيه، فلو بذل الغني معظم أمواله فى تحصيل شيء من ذلك عنده، أكنت تعده مبشرا أو سفيها ؟ كلا .
اس طرح کی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پچاس سال بعد امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہی ہے۔ اب اگر ہمارے زمانے میں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال، جوتے کے تسمے، ناخن اور برتن کا ٹکڑا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی نوش فرمایا کرتے تھے، کا ثبوت صحیح سند کے ساتھ مل جائے ، تو ہم کیا کہیں گے؟ اگر کوئی امیر آدمی اس کے حصول کی خاطر کثیر زرخرچ کر دے، تو کیا آپ اسے فضول خرچ اور بیوقوف کہیں گے؟ نہیں! ہرگز نہیں۔
(سیر أعلام النبلاء : 42/4)
ثابت ہوا کہ اہل علم تبرکات نبویہ میں سند کو صحت اور عدم صحت کے لیے بنیاد بناتے ہیں، لہذا ہمیں بھی سند پر اعتبار کرنا چاہئے ، یہی سبیل المومنین ہے۔