تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَمْعِنْدَهُمُالْغَیْبُفَهُمْیَكْتُبُوْنَ﴾ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم عندَهم الغيبُ فهم يكتبونَ}: ما كانوا يعلمونَه من الغُيوب، فيكونون قد اطِّلعوا على ما لم يطَّلع عليه رسولُ الله، فعارضوه وعاندوه بما عندَهم من علم الغيب، وقد عُلِمَ أنَّهم الأمَّة الأميَّة الجهَّال الضَّالون، ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - هو الذي عنده من العلم أعظم من غيره، وأنبأه الله من علم الغيب على ما لم يَطَّلِعْ عليه أحدٌ من الخلق، وهذا كلُّه إلزامٌ لهم بالطرق العقليَّة والنقليَّة على فساد قولهم وتصوير بطلانِهِ بأحسن الطُّرق وأوضحها وأسلمها من الاعتراض.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔