ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 41

اَمۡ عِنۡدَہُمُ الۡغَیۡبُ فَہُمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿ؕ۴۱﴾
یا ان کے پاس غیب ہے؟ پس وہ لکھتے ہیں۔ En
یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں
En
کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) {اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ: عِنْدَهُمْ} پہلے لانے سے حصر پیدا ہو گیا ہے، اس لیے ترجمہ یا انھی کے پاس غیب ہے کیا گیا ہے۔ یعنی یا پھر انھیں آپ کے اتباع کی ضرورت اس لیے نہیں کہ سارا غیب انھی کے پاس ہے اور وہ اپنے معاملات کے فیصلے خود ہی وہاں سے لکھ لیتے ہیں، اس لیے انھیں اس کتاب کی ضرورت ہی نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ یہاں بھی سوال ہی پر اکتفا فرمایا ہے، کیونکہ اس کا جواب ظاہر ہے کہ سارے غیب کا بلاشرکت غیرے مالک ہونا تو بہت ہی دور ہے، یہ تو غیب کے ایک ذرے سے بھی آگاہ نہیں۔ پھر یہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے کس طرح مستغنی ہو سکتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 کہ ضرور ان سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرجائیں گے اور ان کو موت اس کے بعد آئیگی

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ یا ان کے پاس غیب کا علم [35] ہے جسے وہ لکھتے جاتے ہیں؟
[35] جس کی بنا پر انہیں یقین ہو چکا ہے کہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں جھوٹے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ یا غیب میں سے جو کچھ انھیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں، انھیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ہوتی، پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عناد رکھتے ہیں؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ، جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اتنا علم عطا نہیں کیا۔ اور یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اورنقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے، نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور اعتراض سے محفوظ طریقے سے اس قول کے بطلان کی تصویر پیش کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم عندَهم الغيبُ فهم يكتبونَ}: ما كانوا يعلمونَه من الغُيوب، فيكونون قد اطِّلعوا على ما لم يطَّلع عليه رسولُ الله، فعارضوه وعاندوه بما عندَهم من علم الغيب، وقد عُلِمَ أنَّهم الأمَّة الأميَّة الجهَّال الضَّالون، ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - هو الذي عنده من العلم أعظم من غيره، وأنبأه الله من علم الغيب على ما لم يَطَّلِعْ عليه أحدٌ من الخلق، وهذا كلُّه إلزامٌ لهم بالطرق العقليَّة والنقليَّة على فساد قولهم وتصوير بطلانِهِ بأحسن الطُّرق وأوضحها وأسلمها من الاعتراض.